سرینگر//جموں وکشمیر حکومت نے مزید7 محکموں کی18خدمات کو عوامی خدمات ضمانتی قانون(پبلک سروس گارنٹی ایکٹ) کے دائرے میں لایا ۔حکومت نے کہا کہ 18 خدمات ، معیاد بند مدت اور نامزد افسران و اپیلٹ حکام کو پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ کے تحت نشاندہی کی گئی۔ سرکار نے ایک حکم نامہ میں کہا کہ جن محکموں کی خدمات کو ایکٹ کے دائرے میں لایا گیا ہے ان میں اسکول ایجوکیشن ، محکمہ صحت و طبی تعلیم ،محکمہ داخلہ، محکمہ تعمیرات عامہ(آر اینڈ بی) محکمہ کوآپریٹو ، محکمہ مال اور محکمہ مکانات اور شہری ترقی شامل ہیں۔حکم کے مطابق ، محکمہ اسکول ایجوکیشن کی خدمات جو اس ایکٹ کے تحت لائی گئی ہیں ان میں کھیل کے سکول کے قیام اور اس کے چلانے کی منظوری ، حق اطلاعات قانون کے تحت اسکولوں کی رجسٹریشن اور سی بی ایس ای اسکول کے قیام کے لئے’’ این او سی ‘‘شامل ہیں۔ صحت و طبی تعلیم قانون کی خدمات جو اس ایکٹ کے دائرہ کار میں لائی ہیں ان میں کلنکوں کا قیام (رجسٹریشن و ضوابط) ایکٹ مجریہ2010 کے تحت رجسٹری عارضی ومستقل سرٹیفکیٹ کلینیکل اسٹیبلشمنٹ اور اس کی تجدید ،’ پی سی اینڈ پی این ڈی پی‘ ایکٹ مجریہ 1994 (5 سال اور اس کی تجدید کیلئے)کے تحت اندراج (ترمیم شدہ 2003) شامل ہیں۔ آرڈر کے مطابق ، محکمہ داخلہ کی خدمات میں پبلک سروس گارنٹی ایکٹ کے دائرہ کار میں لائی گئی ، جن میں دھماکہ خیز مینوفیکچرنگ ، اسٹوریج ، ذخیرہ ،نقل و حمل، فروختگی کیلئے’’این ائو سی‘‘ٹرانسپورٹ ، پیٹرولیم ، ڈیزل کے اسٹوریج کے قیام کے لئے درکار’’ این او سی‘‘ پٹاخوں کی لائسنس کیلئے’’این ائو سی‘‘ سنیموٹو گرافی اور اسکریننگ فلموں کیلئے لائسنس شامل ہیں۔محکمہ پبلک ورکس (آر اینڈ بی) کی خدمات میں سڑک کاٹنے کی اجازت اور کاموں اور خدمات کے لئے ٹھیکیدار کی رجسٹریشن شامل ہے ، جبکہ محکمہ مال کی خدمات میں انکوبرنس(خلل) سرٹیفکیٹ اور پیمائش ، زمین کی حد بندی شامل ہیں۔