درابہ کے قریشیاں محلہ میں 1ماہ سے پانی سپلائی بند
بختیار کاظمی
سرنکوٹ//بفلیاز بلاک کے درابہ گاﺅں میں پینے کے صاف پانی کی سپلائی گزشتہ کئی دنوں سے بند ہو نے کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ گاﺅں کے وارڈ نمبر 8اور محلہ قریشیاں میں پینے کے صاف سپلائی بند ہو گئی ہے تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے سپلائی کی بحالی کی جانب کوئی دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے تاہم اس سلسلہ میں محکمہ سے رابطہ قائم کرنے کے بعد بھی ان کو پانی کےلئے قدرتی چشموں کا رخ کرنا پڑرہا ہے ۔اس سلسلہ میں بولتے ہوئے ایڈوکیٹ ضمیر قریشی نے بتایا کہ مقامی حکام نا قابل رسائی بن چکے ہیں جس کی وجہ سے پسماندہ دیہات میں عوامی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہے ۔انہوں نے بتایا کہ گرمی کی شدت کے باوجود محکمہ کے ملازمین متحرک ہو کر خدمات انجام نہیں دے رہے ہیں جس کی وجہ سے علاقہ کے لو گ بالخصوص خواتین قدرتی چشموں سے پانی لانے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ملازمین سے لے کر اعلیٰ آفیسران تک رابطہ کرنے کے بعد بھی ایک ماہ سے سپلائی بحال نہیں کی جارہی ہے ۔مکینوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ علاقہ میں بند ہوئی سپلائی کو جلدازجلد بحال کرنے کےلئے ملازمین کو ہدایت جاری کی جائیں ۔
نوشہرہ کو ضلع کا درجہ دینے کی مانگ
رمیش کیسر
نوشہرہ //نوشہرہ بیوپار منڈل نے جموں وکشمیر انتظامیہ کےساتھ ساتھ مرکزی حکومت سے مانگ کرتے ہوئے کہا کہ سب ڈویژن نوشہرہ کو جلدازجلد ضلع کا درجہ دیا جائے تاکہ عوام کو نوشہرہ میں ہی سہولیات میسر ہو سکیں ۔اس سلسلہ میں بیو پار منڈل کا ایک اجلاس نوشہرہ میں صدر سبھاش کپور کی قیادت میں منعقد ہوئی جس میں متعدد اراکین نے شرکت کی ۔اس اجلاس میں بولتے ہوئے اراکین نے کہاکہ نوشہرہ کی عوام گزشتہ 50برسوں سے ضلع کے درجے کی مانگ کررہے ہیں لیکن ہر ایک حکومت نے عوامی مانگ کو یکسر نظر انداز کیا ہے ۔اپنے خطاب میں بیوپار منڈل کے صدر نے کہاکہ بھاجپا کی مرکزی حکومت نے بھی عوام کی مانگ کو یکسر نظر انداز کیا ہے جس کی وجہ سے عوام شدید نوعیت کی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سب ڈویژن میں بجلی کی غیر قانونی کٹوتی کےساتھ ساتھ دیگر مشکلات درپیش ہیں ۔مقررین نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ عوامی مشکلات کو کم کرنے کےلئے سب ڈویژن کو جلدازجلد ضلع کا درجہ دیا جائے ۔
مہنگائی کو کم کرنے کےلئے لائحہ عمل بنانے کی اپیل
عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی //دفعہ 370کی منسوخی او ر کووڈ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے جموں وکشمیر میں پٹرول ،ڈیزل، رسوئی گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے عوام بالخصوص غریب اور مزدور طبقہ کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔عام لوگوں نے بتایا کہ کووڈ کی روکتھام کےلئے حکومت کی جانب سے عائد بندشوں کے دوران جہاں کاروبار مکمل طور پر بندرہے وہائیں مزدور طبقہ کا کار وبار مکمل بند رہا تاہم دوسری جانب ضروری ساز و سامان کی قیمتوں میں ہوئے اضافے کی وجہ سے غریبوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہا ہے ۔غور طلب ہے کہ خطہ پیر پنچال کے بیشتر علاقہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد خطہ افلاس سے نیچے کی زندگی بسر کررہے ہیں تاہم اس وقت ضروری ساز و سامان کی قیمتوں میں ہوئے اضافے کی وجہ سے اس غریب طبقہ کی مشکلات کا دائر ہ مزید وسیع ہو گیا ہے ۔مقامی معززین نے بھاجپا کی مرکزی حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اشیاءخوردنی کی قیمتوں میں کمی کرنے کےساتھ ساتھ بے روز گاری کو ختم کرنے کےلئے کوئی لائحہ عمل مرتب کیا جائے تاکہ عوامی دقتیں کم ہو سکیں ۔
تھنہ منڈی کے سیاحتی مقامات انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل
سیاحتی ڈھانچے کی مضبوطی کےلئے شعبہ کو متحرک کرنے کا مطالبہ
عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی //سب ڈویژن تھنہ منڈی کے سیاحتی مقامات قدرتی حسن سے مالا مال ہونے کے باوجود ابھی تک متعلقہ شعبہ اور جموں وکشمیر انتظامیہ کی نظر سے اوجھل ہیں تاہم اس کے باوجود سالانہ بڑی تعداد میں سیا ح سب ڈویژن کے متعدد سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔تھنہ منڈی کے کئی مقامات میں شاہدرہ شریف،ذکری شاہ زیارت،زیارت سائیں ولی داد بھٹیاں، لاہ والی باولی،رتن پیر زیارت جیسی درگاہیں موجود ہیں جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند سالانہ اپنی عقیدتوں کا ظہار کرنے کےلئے آتے ہیں وہائیں دیری گلی اور پیر پنچال پہاڑیوں کے دامن میں واقعہ کئی سیاحتی مقامات ایسے بھی ہیں جہاں پر ابھی تک محکمہ سیاحت کی جانب سے تعمیراتی عمل شروع ہی نہیں کیا گیا لیکن اسکے دوران سیاحوں کی ایک بڑی تعداد گرمیوں کے موسم میں مذکورہ علاقوں کا رخ کرتے ہیں ۔سب ڈویژن کے پہاڑی علاقوں میں کئی قدرتی آبشار ہونے کے علاوہ سرسبز وادیا ں او ر دلکش مقامات بھی موجود ہیں تاہم محکہ سیاحت کی جانب سے دیر ہ گلی کو چھوڑ کر دیگر علاقوں کی نشاندہی بھی نہیں کی جاسکتی ہے جس کی وجہ سے مذکورہ علاقوں کی جانب جانے والے سیاحوں کو بنیادی ضروریات کا ساز و سامان اپنے ساتھ ہی لینا پڑتا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ محکمہ سیاحت کی جانب سے جموں وکشمیر کے کئی دیگر علاقوں میں ہٹس و دیگر تعمیر ات کی گئی ہیں تاکہ سیاحوں کو بنیادی سہولیات میسر ہو سکیں لیکن تھنہ منڈی کو اس طرف سے بھی نظر انداز کیا گیا ہے ۔مقامی لوگوں نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سیاحتی مقامات کی جانب خصوصی توجہ دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح مذکورہ مقاما ت کا رخ کریں اور علاقہ کے بے روز گار نوجوانوں کو روز گار مل سکے ۔
کالج منتظمین کے اشراک سے ویبنا کا اہتمام
حسین محتشم
پونچھ//گورنمنٹ ڈگری کالج پونچھ اور گورنمنٹ ڈگری کالج سرنکوٹ کے باہمی اشتراک سے گورو تیج بہادرپر بین الاقوامی ویبنار منعقد کیا گیا۔ اس ویبنار کا مقصد سکھ مت کے 9 ویں گرو کی تعلیمات کو اجاگر کرنا اور ان کی عملی زندگی پر عمل پیرا ہونا تھا۔ اس ویبنار میں ملک اور بیرون ملک کے ماہرین تعلیم ، اسکالرز کی ایک کہکشاں نے حصہ لیا۔ ڈاکٹر جسبیر سنگھ پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج سرنکوٹ نے ویبنار کے بارے میں تعارفی تقریر کی۔ پروفیسر سید مسرف حسین شاہ پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج پونچھ اور صدر اسلامی فاو¿نڈیشن برائے امن و فرقہ وارانہ ہم آہنگی (IFPCH) نے تمام شرکا کا باضابطہ استقبال کیا اور گوروتیج بہادر جی پر ایک وسیع گفتگو بھی کی۔ نریندر سنگھ پردھان گوردوارہ پربندک کمیٹی پونچھ نے گورو تیج بہادر کی زندگی پر روشنی ڈالی۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے پروفیسر سکھویندر سنگھ نے 9 ویں گرو سکھ مذہب پر ایک بے حد معلوماتی پریزنٹیشن پیش کی۔ گیانی رنجیت سنگھ ہیڈ گرانتھی بنگلہ صاحب نئی دہلی اور بہی صاحب سنگھ جی شاہ آباد مارکندا والے نے گورو تیج بہادر جی کی زندگی اور تعلیمات کو خوبصورتی سے پیش کیا۔ ریاستہائے متحدہ سے امیتوج کور نے بھی گرو تیغ بہادر جی کی زندگی اور قربانیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے گورو تیج بہادر کو انسانیت کا نجات دہندہ قرار دیا۔ اس موقع پر امیتوج کور کی چھوٹی بہن مس پریبیرت کوراور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج سرنکوٹ ڈاکٹر جسبیر سنگھ کی بیٹی ریتھم نین کوربھی نے گورو تیج بہادر جی کی زندگی اور تعلیم پر روشنی ڈالی۔ ویبنار ڈاکٹر معروف خان ، اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر نصیر احمد کالس اور جسبیر سنگھ بھی موجود رہے۔
مسافر گاڑیوں کے کرایہ پر کوئی روک ٹوک نہیں
راجوری //خطہ پیر پنچال کے اکثر مقامات پر مسافرگاڑیوں کے کرائے و سواریوں میں ہوئے دوگنے اضافے پر انتظامیہ کی جانب سے کوئی کنٹرول ہی نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مکینوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مختلف رابطہ سڑکوں پر ڈرائیور طبقہ اپنی من مانی کرتے ہوئے عوام سے طے شدہ کرائے سے بھی اضافی کرایہ وصول کررہا ہے اور جب کوئی مسافر اعتراض کرے تو اسے کھری کھوٹی سننی پڑتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرائے میں انتظامیہ کی جانب سے جتنا اضافہ کیا گیا ، اس سے اضافی کرایہ عوام سے وصول کیا جا رہا ہے اور اس کی کوئی خبر لینے والا نہیں ہے ،انتظامیہ خواب غفلت میں ہے۔مسافروں نے بتایا کہ اکثر رابطہ سڑکوں پر ٹاٹا سومو ڈرائیور اپنی من مانیاں کر تے ہیں جس کی وجہ سے مسافروں کو دوران سفر شدید مشکلا ت سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔انہوں نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ مسافر گاڑیوں کے کرائے کےلئے ایک قاعدہ لاگو کیا جائے تاکہ غریبوں کو لوٹ مار سے بچایا جاسکے ۔