کب تک جموں کے رائے دہندگان سیاسی ذلت جھیلیں : بھیم سنگھ
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی بھیم سنگھ نے آج جموں وکشمیر کابینہ کی تشکیل نو کرتے ہوئے چھ کابینی وزیر اور دو ریاستی وزیر کو وزارتی کونسل میں شامل کئے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑا مضحکہ خیز ہے کہ جموں کے نائب وزیراعلی کو استعفی دینے کے لئے مجبور کیا گیا اور ان کی جگہ ایک امیر رکن اسمبلی اور اسمبلی کے اسپیکر کوبٹھا دیا گیا۔جموں وکشمیر اسمبلی کے نائب وزیراعلی کو جبراًً ہٹائے جانے پر پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ کب تک ریاست کے لوگ خاص طورپر جموں کے لوگ سیاسی ذلت اور رسوائی کا تسلسل برداشت کرتے رہیں گے۔پنتھرس سپریمو پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ جو لوگ جموں وکشمیر کی اندرونی صورتحال کو سمجھتے ہیں وہ موجودہ حکومت کی قیادت میں ریاست کے حالات سے اچھی طرح واقف ہیں جو ایک آگ کے گولے کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے ۔ ریاست میں ہر طرف گولیاں، بندوق کی حکمرانی اور افراتفری کا ماحول ہے نیز انصاف فراہم کرنے کا نظام پوری طرح ناکام ہوچکا ہے اورکوئی سیاسی مرہم رکھنے والا نہیں ہے۔انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح جموں وکشمیر حکومت میں دو نمبر کا درجہ رکھنے والے معروف پروفیسر کو اسپیکر کا عہدہ قبول کرنے کے لئے مجبور کیا جاسکتا ہے۔ کیا انہیں اس پیشکش کو قبول کرنا چاہئے ، اس کا سوال کا جواب تو خود سابق نائب وزیراعلی ہی دے سکتے ہیں۔ کیا وہ اسمبلی میں خاموشی قائم رکھ سکیں گے یا انہیں جموںیونیورسٹی میں تاریخ پڑھانی چاہئے۔ پنتھرس سربراہ نے اس معاملہ میں سابق نائب وزیراعلی سے بات چیت کی اور انہیں اس سازش کو سمجھنے اور اس پیشکش کو قبول نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔پروفیسر بھیم سنگھ نے حکمراں پارٹیوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ انہیں جمہوریت کے مفاد میں ڈوبتی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے تمام موجودہ مسائل کا واحد حل ریاستی آئین کے سیکشن92کے تحت ریاست میں گورنر راج لگانا ہے جس سے ریاست کے لوگوں کو مزید اموات اور تباہی سے بچایا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے جو موجودہ اتحادی حکومت کی قیادت میں ممکن نہیں ہے۔
پنون کشمیرکی جانب سے سالانہ ہون کااہتمام
اتپل کول کو پنڈت امرناتھ ویشنوی ایوارڈسے نوازاگیا
جموں//پنون کشمیرنے بدھ پورنیماکے موقعہ پرسالانہ ہون پروگرام کاانعقاد کیااوراس ہون کے ساتھ ہی تنظیم کی جانب سے ’کشمیرسنکلپ یاترا(مرحلہ۔6) جوملک کی پانچ ریاستوں بشمول دہلی،احمدآباد ، ممبئی،ناسک اورترمباکشور پرمبنی اختتام پذیرہوئی۔یاتراکی قیادت اشونی کمارچرنگوصدرپنون کشمیرکررہے تھے،ان کے علاوہ پروفیسرایم ایل رینہ ، وریندررینہ، اتپل کول، اوپندرکول، کمل بھاگتی ،پی کے بھان،اشوک چرنگواورتیج کرشن جگیاسو بھی یاترامیں شامل تھے۔ہون میں شری چندجی بھٹ، صدربی جے پی ڈس پلیسڈ ڈسٹرکٹ کشمیر، ایم کے جلالی صدرشریکاپیٹھ، انل کول صدرپاشوپتی نٹھ مندرکمیٹی ،رندھیرسنگھ بالی صدرگوروتیغ بہادر گورودوارہ کمیٹی نروال، ایڈوکیٹ کشمیری لال بٹ، شبان لعل بٹ، بملاچرنگواوروجے سپروسیکریٹری واسسٹنٹ سیکریٹری کے علاوہ بھی ہون میں شامل تھے۔اس دوران اتپل کول سینئرلیڈرپنون کشمیرجوکہ دہلی سے تعلق رکھتے ہیں کو معروف پنڈت امرناتھ ویشنوی ایوارڈ2018 کااعزازسماج کے تئیں بہترین خدمات انجام دینے کیلئے عطاکیاگیاجس میں ایک شاپ ، سروپا ،نیلماتاپورناکی کاپی، ٹوکن کیش اعزازپرمشتمل تھا۔مقررین نے اتپل کول کی خدمات پرروشنی ڈالتے ہوئے انہیں سراہا۔اس دوران مقررین نے جموں کے نام کوبدنام کرنے پرتشویش کااظہارکیا۔انہوں نے جموں بارایسوسی ایشن ودیگروکلاء کی حمایت کااعلان کیااورکاکہ سی بی آئی جانچ ہونی چاہیئے۔
چیف کوآرڈی نیٹر پی ڈی پی چوہدری عبدالحمید کی عزت افزائی
جموں //پی ڈی پی پارٹی ورکروں وعہدیداروں کاایک اجلاس یہاں گا ندھی نگر پارٹی دفتر میں منعقدہوا ۔ اس دوران جموں خطہ کے پارٹی کے نئے منتخب چیف کارڈی نیٹرچوہدری عبد الحمید کی عزت افزائی کی گئی اورانہیں اہم ذمہ داری کیلئے نیک تمنائیں پیش کیں۔اجلاس میں پارٹی کے جنرل سیکر یٹری وید مہاجن،سینئر لیڈردھمن بھسین،سید اصغرعلی،عبدالرشید ملک کے علاوہ متعدد پارٹی ورکراں نے شرکت کی۔اس دوران پارٹی کے جنرل سیکرٹری وید مہاجن نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے چوہدری کواس عہدے پر فائز کرنا کافی ضروری تھا۔کیوں کہ ان میں ایسی خوبیاں ہیں کہ یہ پارٹی ا یجنڈے کو مد نظر رکھ کرکام کرنے کی بھرپوراہلیت رکھتے ہیں ۔ اجلاس کے دوران پارٹی صدراور وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور نائب صدر سرتاج مدنی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چوہدری عبد الحمید نے کہا کہ پارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے زمینی سطح پر کام کرنا لازمی ہے تاکہ سماجی اور اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر اپنے ہاتھ بھی مضبوط کئے جائیںگے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاٹی نے مجھے اس عہدے کے لیا چنا اور مجھ پر بھروسہ کیا جس کے لئے میں پارٹی کا بہت بہت شکر گذار ہوں۔
صاف ستھرامومنٹ کادربارموئوکی منتقلی پراظہارتشویش
جموں//جموں و کشمیر صاف ستھرا موومنٹ کے ریاستی صدر شوکت علی چوہدری نے دربار موئوکی منتقلی پر سوالیہ اُبھارتے ہوئے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ دربار موئو کی روایت کو فوری طور ختم کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ دربار کی منتقلی کی وجہ سے ہر سال کروڑوں روپے کی خطیر رقم کابوجھ خزانہ عامرہ پر پڑتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مرکزی سرکار کوچاہیئے کہ ریاستی حکومت کو حکم جاری کرے کہ دربار کو جموں میں ہی رکھا جائے تاکہ عوامی سرمایہ غریب لوگوں کی جیب میں ہی محفوظ رہ سکے اوراس کے متبادل کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔
حکومت شرپسند عناصرکیخلاف کارروائی عمل میں لائے:بھارتیہ گوجرپریشد
جموں//بھارتیہ گوجرپریشدنے چندروزپہلے ایڈوکیٹ انکورشرمانے کی جموںکے مسلمانوں بالخصوص گوجر بکروال طبقہ کے بارے میں دیئے گئے زہرافشانی کرتے ہوئے ہندوئوں کوجموںکے مسلمانوں کابائیکاٹ کرنے کی صلاح دی ۔بھارتیہ گوجرپریشدنے صدرشیرعلی چیچی نے کہاکہ سماج میں منافرت پھیلانے والے عناصرکے خلاف حکومت کوسخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیئے۔انہوں نے جموںوکشمیر کے ہندوبھائیوںکومبارکباد پیش کی کہ ان شرارتی عناصر کی طرف سے ہرزہرافشائی کرنے والے شرارتی عناصر کی ان مذموم چالوں کوکامیاب نہ ہونے دیں اورہندومسلم بھائی چارہ کومضبوط بنائے رکھاہے جوکہ تحصیل ہیرانگر کے رسانہ گائوںمیںایک آٹھ سالہ بچی کے ساتھ جودرندوں نے درندگی کرکے پوری انسانیت کوشرمسار کردیا جوکہ پورے بھارت کے ہندومسلم بھائیوں نے مل کرایک ساتھ کھڑے ہوکر پرزورمذمت او رمعصوم بچی کے انصاف کے لئے جدوجہد کی۔کئی جگہوں پر ہندوبھائیوںنے مرن برت تک رکھے ۔انہوں نے کہاکہ اگر جموں کٹھوعہ سانبہ یاکسی دوسری جگہ اگرکسی مسلم کوکوئی فتنہ فساد یاکوئی بھی نقصان ہوا ۔ تویہ ساری ذمہ داری انکور شرماپرعائد ہوگی ۔بھارتیہ گوجر پریشد نے ریاستی سرکار سے پرزوراپیل کی ہے کہ جموںوکشمیر سے لاکھوں کی تعدادمیںخانہ بدوش لوگ مائیگرنٹ ہوکر پنجاب ہماچل اترا کھنڈ ہریانہ میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیںیہ ریاستی باشندے ہیںا ورکٹھوعہ سانبہ جموںاوراودھم پورکے علاقوںمیں 1947سے قبل بھی رہتے تھے اورریاست کے ووٹربھی ہیں۔ جنہوںنے 1947کی لڑائی میںکٹھوعہ سانبہ جموںمیں تھی۔ پہاڑوں جنگلوںمیںبھاگ کراپنی جان بچائی اس وجہ سے ایک بڑا طبقہ خانہ بدوش ہوکررہ گیا۔اورجولوگوںکی زمین تھی وہ کسٹوڈین اوراوقاف کے اندر چلی گئی۔ اورکچھ زمیں دوسرے لوگوںکے قبضہ میں ہیں۔ اس لئے ریاستی سرکار سے اپیل کی جاتی ہے کہ کسٹوڈین اوقاف رقبہ جات کی نشاندہی کرواکر فوری طورپرناجائز قبضوں کوہٹایاجائے۔اوران رقبوں پرخانہ بدوش طبقہ کے لوگوں کوبسایاجائے۔ اورفوری طورپرٹرائیبل پالیسی لاگوکی جائے۔ فاسٹ رائٹ ایکٹ کوبھی فوری طورپر لاگوکیاجائے۔ تاکہ خانہ بدوش طبقہ کومستقبل طورپر بسایاجائے۔ ریاستی پولیس چیف ایس پی وید اور ایس آئی ٹی کرائیم برانچ کابھی تہہ دل سے کٹھوعہ معاملہ کوجس طورپرحل کیا مبارکباد پیش کی۔
قیصربٹ کے اعزازمیں الوادعی تقریب
سرینگر//سینئرایگزیکٹیو جموں وکشمیر قیصراحمدبٹ 34 سال تک خدمات انجام دینے کے بعدفرائض سے سبکدوش ہوگئے۔ان کے اعزازمیں ٹریڈیونین لیڈروں اوران کے ساتھیوں کی جانب سے ایک شاندار الوداعی تقریب کاانعقاد کیاگیا۔جموں وکشمیربنک آفیسرز فیڈریشن جنرل سیکریٹری سریش گپتانے قیصربٹ کی خدمات کوسراہا۔
سریارہ برادری کاسالانہ اجتماع منعقد
جموں//سریارہ برادری کے سالانہ اجتماع کے سلسلہ میں دیواستھان مہاتماآتما رام جی سمادھی باہوفورٹ جموں میں ایک مذہبی تقریب کاانعقاد کیاگیا۔مندرمیں ہون اورپوجا کے بعدمہاتماشری آتمارام جی کی شوبھایاترا نکالی گئی۔ اس تقریب کااہتمام سریارہ سبھاباہوفورٹ نے بہادرلال کی قیادت میں کیاتھا۔یہ یاترا شہرکے مختلف علاقوں باغ باہو، گورکھانگر، شیخ نگر ،نیوباہوفورٹ ،قاسم نگر، کچاتالاب ،پکاتالاب سے ہوتے ہوئے مہاتماآتما رام جی کی سمادھی پراختتام پذیر ہوئی جس میں ہزاروں شردھالوئوں نے شرکت کی۔
لوپیڈایمپلائزفیڈریشن نے یوم مئی کے سلسلے میں ریلی نکالی
جموں//یوم مئی کے سلسلے میں شہر جموں میں ایل پی ای ایف ہیرانگر کے سینئر رہنماہنس راج گوسوامی کی قیادت میں ایک مارچ کا اہتمام کیا گیا جس میں کافی تعداد میں محنت کشوں اور دیگر لوگوں نے شرکت کی ۔لوپیڈ ایمپلائز فیڈریشن کے صدر عبدالمجید خان نے اس موقعہ پر یوم مئی کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ خان نے اس موقعہ پر ریاستی سرکاری ملازموں اور پنشنروں کا میڈیکل الائونس 300روپے سے بڑھا کر ماہانہ 1000روپے کرنے ،ڈیلی ویجروں کی یومیہ اجرت 400روپے کرنے اور دیگر مطالبات کو پورا کرنے کی مانگ کی۔فیڈریشن چیف نے تنخواہوں میں پائے جارہے تفاوت کو دور کرنے کے لئے کلرکوں کی جاری ہڑتال کو بھر پور تعادن کا یقین دلایا اور حکومت سے کہا کہ وہ کلرکوں کی اس جائز مانگ کو بغیر کسی تاخیر کے پورا کرے۔خان نے آنگن واڑی ورکروں کا ماہانہ مشاہراہ دس ہزار روپے کرنے ، مقوی غذا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لے جانے کے کرایہ میں اضافہ کرنے اور نیو پنشن سیکم کے تحت کام کررہے ملازموں کی تنخواہوں کے لئے مناسب رقومات دستیاب رکھنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس اے ، آر ایم ایس اے اور آر یو ایس اے اور ڈیلی ویجروں کو وقت پر تنخواہیں نہ ملے کی وجہ سے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لئے اس سمت میں مناسب قدم اٹھانے کی اشد ضرورت ہے،تاکہ ان لوگوں کو راحت مل سکے۔