حمایت واپس لینابھاجپاکا غیر اخلاقی اقدام:قریشی
گورنر راج کانفاذ ریاست کیلئے کبھی بھی نیک شگون ثابت نہ ہوا
مینڈھر//پی ڈی پی کے سینئر لیڈر وسابق ممبر قانون ساز کونسل محمد رشید قریشی نے کہاہے کہ ریاستی عوام کے دلوں کو جیتنے کیلئے کبھی بھی گورنر راج اچھا اقدام ثابت نہیں ہواہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ عمل مشکلات سے دوچارریاست میں 1977سے اب تک جمہوری نظام کو نقصان پہنچاکر انتظامیہ کو عقبی دروازے سے چلانے کیلئے عملایاجاتارہاہے۔قریشی نے کہاکہ تب سے لیکر اب تک ریاست میں آٹھ مرتبہ گورنر راج کا نفاذ کیاگیااور اس بار گورنر راج ریاست میں امن وقانون کی صورتحال،کسی طرح کی سیاسی پہل نہ ہونے اور سینئر صحافی شجاعت بخاری اورفوجی اہلکار اورنگزیب کے قتل کے تناظر میں ہواہے۔ان کاکہناتھاکہ حقیقت میں بھاجپا کی طرف سے حمایت واپس لئے جانے کی وجہ کئی معاملات میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے بھاجپا کے برخلاف موقف اختیار کرناہے۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی نے دفعہ 370اور دفعہ 35اے کی تنسیخ کی بھرپور مخالفت کی اور پارٹی نے دس ہزار سنگ بازوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لئے۔ان کاکہناتھاکہ پی ڈی پی اس بات کی اپیل کرتی رہی کہ سہ فریقی مذاکراتی عمل شروع کیاجائے اور حریت کے ساتھ بات چیت کی پہل کی جائے۔قریشی نے کہاکہ پی ڈی پی نے حکومت ہند کو سیز فائر کیلئے مجبور کیااورماہ صیام میں سیکورٹی فورسز کو آپریشن نہ کرنے پر تیار کیا۔ان کاکہناتھاکہ پی ڈی پی نے بھاجپا کے دووزرا کو مستعفیٰ ہونے پر مجبور کیاجنہوں نے ہندو ایکتا منچ کی ریلی میں شرکت کی تھی جبکہ پارٹی نے رسانہ قتل کیس کی صاف و شفاف تحقیقات کو یقینی بنایااور کیس کی تحقیقات سی بی آئی کو منتقل کرنے کی مانگ کو مسترد کردیا۔پی ڈی پی لیڈر نے کہاکہ اسی طرح سے محبوبہ مفتی کی طرف سے لئے گئے کئی دیگرعوام دوست اقدامات بھاجپا کو ہضم نہیں ہوئے اور اس نے بغیر کسی قانونی و اخلاقی جواز کے اپنی حمایت واپس لے لی جس کے نتیجہ میں جمہوری طرز پر بننے والی اسمبلی معطل ہوکر رہ گئی ہے۔ان کاکہناہے کہ اب ریاست کے لوگ یہ محسوس کررہے ہیں کہ کس طرح سے بھاجپا براہ راست انتظامیہ کو چلارہی ہے اور مشکل زدہ ریاست میں اس طرح سے حالات ٹھیک ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی ہے۔تاہم انہوں نے موجودہ گورنر کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک تجربہ کار منتظم ہیں جنہوں نے ماضی میں ریاست کے معاملات کو اچھی طرح سے چلایاہے۔
نوشہرہ کے صارفین ایس بی آئی حکام پر برہم
رمیش کیسر
نوشہرہ//نوشہرہ میں واقع سٹیٹ بینک آف انڈیا کی شاخ میں سہولیات فراہم نہ ہونے پر صارفین نے برہمی کا اظہار کیاہے۔صارفین نے الزام عائد کیاہے کہ اس شاخ سے وہ زیادہ تنگ آچکے ہیں اور کافی عرصہ سے پاس بک کی انٹری بھی نہیں ہورہی ہے جس کی وجہ سے انہیں یہ تک معلوم نہیں ہورہاکہ ان کے بینک کھاتے میں کتنے پیسے موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ وہ گھنٹوں بینک میں انتظار کرتے رہتے ہیں مگر ان کاکام نہیں ہوتا۔انہوں نے بینک حکام سے اپیل کی کہ صارفین کیلئے سہولیات دستیاب رکھی جائیں۔اس سلسلے میں بینک کے منیجر نے کہاکہ انٹری کرنے والی مشین خراب تھی جو ٹھیک کروائی گئی ہے۔
راجوری میں کرفیو کی مشق کی گئی
راجوری//راجوری میں مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے کرفیو کی مشق کی گئی تاکہ کسی واقعہ سے نمٹنے کیلئے اقدامات کا جائزہ لیاجاسکے۔اس مشق میں پولیس،فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔اس دوران باہر جانے والے تمام راستوں اور اہم تنصیبات میں افرادی قوت تعینات رکھی گئی۔مشق میں پولیس ایڈیشنل ایس پی راجوری محمد یوسف اور دیگر پولیس افسران نے بھی حصہ لیا۔اس مشق کی ڈپٹی کمشنر راجوری ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری اور ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس نے نگرانی کی۔
عازمین حج کیلئے تربیتی کیمپ منعقد
راجوری//امسال حج پر جانے والے عازمین کی تربیت کیلئے ضلع انتظامیہ کی طرف سے ایک پروگرام کا اہتمام کیاگیا۔اس دوران حج کمیٹی جموں کے ماہرین نے حج کے دوران انجام دیئے جانے والے ارکان کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بتایااور عازمین کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر بھی روشنی ڈالی۔عازمین سے گزارش کی گئی کہ وہ دوران حج امن و امان و بھائی چارے کیلئے دعائیں مانگیں۔
سرحدی مہاجرین کیساتھ بھی پنڈت مہاجروں جیساسلوک کیاجائے:شہزاد
جاوید اقبال
مینڈھر//سائیں ناتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد ملک نے تعلیم میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے پروگرام کے تحت سرحدی علاقے بالاکوٹ کادورہ کرکے وہاں مقامی لوگوں اور نوجوانوں سے تبادلہ خیال کیا۔اس دوران وہ ان خاندانوں سے بھی ملاقی ہوئے جن کے افراد سرحدی کشیدگی سے متاثر ہوئے ہیں یا ان کے گھر کاکوئی فرد لقمہ اجل بن گیا۔ڈاکٹر شہزادملک نے وزیر اعظم اور وزیرداخلہ وریاستی گورنراین این ووہرا پر زور دیاکہ وہ سرحدی علاقے کے لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کریں۔انہوں نے کہاکہ یہاں کے سرحدی مہاجرین کو بھی وہی سہولیات فراہم کی جائیں جو کشمیری پنڈت مہاجرین کو کی جارہی ہیں کیونکہ ان لوگوں نے بھی ہجرت کے زخم سہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ انسانی جان کی ہر جگہ یکساں ہونی چاہئے اورہر ایک کو برابری کا حق ملناچاہئے۔انہوں نے مرکزی وزارت داخلہ پر زور دیاکہ سرحدی علاقے کے نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کرکے انہیں روزگار دلایاجائے۔بالاکوٹ دورے کے دوران موصوف کا والہانہ استقبال کیاگیا۔
تھنہ منڈی میں دو روزہ تبلیغی اجتماع بائیس جون سے
طارق شال
تھنہ منڈی// مرکزی جامع مسجد تھنہ منڈی میں بائیس اور تئیس جون کو دوروزہ سالانہ تبلیغی اجتماع منعقد ہورہاہے جس میں ریاست کے امیرِتبلیغ امیراحمدخان دیگر علماو مشائخ کے ساتھ تھنہ منڈی آرہے ہیں۔مرکزی جامع مسجد تھنہ مںڈی کے امام و خطیب عبدالرحیم قاسمی ضیائی نے کہاکہ اس اجتماع میں قرآن و حدیث کی روشنی میں علماکے بیانات ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ وہ خطہ پیر پنچال کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس دوروزہ سالانہ اجتماع میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں۔
باجی میاں محمد شفیع کا سالانہ عرس اختتام پذیر
کوٹرنکہ // کوٹرنکہ میں روحانی شخصیت قبلہ باجی میاں محمد شفیع کا سالانہ عرس اختتام پذیر ہوا جس میں بڑی تعداد میں عقیدتمندوں نے شرکت کی۔عرس پاک میں ریاست کے جید علما کرام نے لوگوں سے خطاب کیا اور اولیا کرام کے نقش قدم پر چلنے کی تاکید کی۔اس موقعہ پر سابق وزیرو ممبراسمبلی کالاکوٹ چوہدری عبدالغنی کوہلی نے بھی خطاب کیا اور باجی میاں محمد شفیع کی حیات مبارک پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ اولیاکرام خدا کے نیک بندے ہوتے ہیں جن میں سے ایک باجی میاں محمد شفیع بھی ہیں۔یہ عرس گزشتہ سنیچر کو شروع ہوا تھا جہاں دن رات ختم شریف وذکر اذکار کا سلسل جاری رہااورجمعرات کو اس کا اختتام دعاپر ہوگا۔اس دوران کوہلی نے کوٹرنکہ کی مرکزی دینی درسگاہ دارلعلوم الجامعتہ القادریہ کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے مدرسے کے منتظمین سیتبادلہ خیال کیا۔
مغل شاہراہ پر سفر کرنیوالوں کو مشکلا ت کاسامنا
تھنہ منڈی میں کمیونٹی بیت الخلاء کی تعمیر کا مطالبہ
طارق شال
تھنہ منڈی// تھنہ منڈی کی عوام نے قصبہ میں کمیونٹی بیت الخلاء تعمیر کرنے کا مطالبہ کیاہے۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ بیت الخلا نہ ہونے کی وجہ سے مغل روڈ پر سفر کرنے والے سیاحوں اور یاتریوں کو کافی مشکلات کا سامناہے۔میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی کی آبادی دس ہزارنفوس پر مشتمل ہے جبکہ تھنہ منڈی کا قصبہ کافی گنجان ہے۔ اس قصبہ کے اطراف و اکناف کے تمام دیہات کے لوگ روز مرہ کی ضروریات کے لئے خریدو فروخت اسی قصبہ کی مارکیٹ سے کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ قصبہ سے چھ کلو میٹر کے فاصلے پرمعروف بزرگ حضرت با با غلام شاہ کی آماجگاہ موجود ہیجہاں پر ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں زائرین اندرون و بیرون ریاست سے حاضری دینے آتے ہیں۔ علاوہ ازیں مغل شاہراہ جو صوبہ جموں کو وادی کشمیر سے جوڑتی ہے،کاگزر بھی اسی قصبہ سے ہوتاہے۔اس تاریخی سڑک پر سفر کرنے والے سیاحوں اور یاتریو ں کو قصبہ میں بیت الخلاء نہ ہونے سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ اس سڑک پر سفر کرنے والے ایک سیاح محمد اسلم نے کہا کہ قصبہ تھنہ منڈی کافی خوبصورت اور دلکش بھی ہے تاہم یہاں سہولیات دستیاب نہیں۔انہوں نے کہا کہ مغل روڈ پر سفر کرنے والے سیاحوں اور یاتریوں کو کافی تکلیف ہوتی ہے جن کی سہولت کیلئے تھنہ منڈی میں بیت الخلاتعمیر کئے جانے چاہئیں۔اس ضمن میں ایگزیکٹو آفیسر میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی کبیر احمد ملک نے بتا یا کہ محکمہ لوکل باڈیز کے پاس سوچھ بھارت مشن اسکیم میں فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے اورڈائریکٹر لوکل باڈیز جموں نے میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی کیلئے کمیونٹی بیت الخلاکی تعمیر کو منظوری ہے۔انہوں نے کہاکہ اس کیلئے جگہ کاتعین کیاجاناہے جس کیلئے ڈپٹی کمشنر راجوری سے رجوع کیاگیاجنہوں نے محکمہ کو ہدایات جاری کی اور اب اسی محکمہ کی جانب سے جگہ ملنے کا انتظار کیاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ تھنہ منڈی میں ساڑھے تیرہ لاکھ روپے کی لاگت سے بیت الخلاتعمیر ہوگا۔
پانی کی عدم دستیابی پرمحلہ سوکھا کھٹا کے مکینوں کا احتجاج
حسین محتشم
پونچھ//پانی کی عدم دستیابی پر محلہ سوکھا کھٹا کے مکینوں نے محکمہ پی ایچ ای کے خلاف احتجاج کیا۔اس دوران مظاہرین نے پولیس لائن اور چونگی کے درمیان پونچھ منڈی روڈ بلاک کر کے شدید احتجاج کیا۔مظاہرین نے شدید نعرہ بازی کی جس دوران گاڑیوں کی آمدورفت بھی بند ہوگئی۔مظاہرے میں شامل خواتین اور بچوں نے سخت غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ ان لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں کر رہااور ان کو پانی فراہم نہ کر کے بار بار سڑکوں پر اتر نے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سوکھا کھٹا محلہ اور گردونواح میں پانی کا شدید بحران ہے جسکی بارہا متعلقہ حکام کو شکایت کی گئی لیکن تاحال قلت آب کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ فی الفور پانی کی بلاناغہ سپلائی یقینی بنائیں۔یہ احتجاجی مظاہرہ کافی دیر تک جاری رہا جس کے بعد متعلقہ حکام وہاں پہنچے جن کی یقین دہانی پر مظاہرین نے اپنادھرنا ختم کیا۔
مرہوٹ میں بیداری کیمپ کا انعقاد
سرنکوٹ// محکمہ کھادی ولیج انڈسٹری بورڈ پونچھ کے زیر اہتمام گاؤں مرہوٹ میں ایک بیداری کیمپ کا اہتمام کیا گیا جس میں شیڈول ٹرائب اور شیڈول کاسٹ کے زمرے میں آنے والے سینکڑوں مقامی لوگوں نے شرکت کی۔اس دوران سرکار کی جانب سے ان دونوں زمروں میں آنے والے لوگوں کے لئے چلائی جا رہی اسکیموں کے سلسلہ میں لوگوں کو جانکاری فراہم کی گئی۔محکمہ کے اعلیٰ حکام نے کہا کہ سرکاری کی جانب سے کئی اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں جن سے عوام فائدہ اٹھا کر اپنا روزگار خود کماسکتے ہیں۔
تھانہ سے مفرور ملزم گرفتار
منڈی//چندروز قبل پولیس تھانہ منڈی سے فرار کرجانے والے ملزم کو پولیس نے پھر سے گرفتار کرلیاہے۔اس کی شناخت اشتیاق احمد ولد باغ حسین ساکن سرنکوٹ کے طور پر ہوئی ہے جس کے خلاف پولیس تھانہ منڈی میں کیس درج ہے۔ملزم دو ہفتے قبل پولیس حراست سے فرارہوگیاتھاجس پر پولیس تھانہ منڈی کے دو اہلکاروں کو معطل کیاگیا۔ایک افسر نے بتایاکہ ملزم کو لورن سے گرفتار کیاگیاہیجہاں وہ ایک مذہبی تقریب میں حصہ لے رہاتھا۔