بائیو میٹرک حاضری
راجوری انتظامیہ کی سختی سے عمل درآمدکی ہدایت
سمت بھارگو
راجوری //ضلع انتظامیہ راجوری نے سختی سے ہدایت دیتے ہوئے بائیو میٹرک حاضری کو یقینی بنانے پر زور دیاہے ۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر راجوری کے دفتر سے ایک حکمنامہ جاری کیاگیاہے جس میں سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ جون کے مہینے کی کسی بھی ملازم یا افسر کی تنخواہ تب تک جاری نہیں کی جائے گی کہ جب تک وہ اپنا اندراج بائیو میٹرک نظام سے نہ کروائے ۔حکمنامے میں کہاگیاہے کہ ایچ او ڈیز کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تیس جون سے قبل تمام ملازمین کے اندراج کو یقینی بنائیں اور ان کی حاضری کی جائے ۔انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ اس سلسلے میں تیس جون تک رپورٹ تیار کرکے اسے ٹریجری میں پیش کریں جبکہ ٹریجری افسران بائیو میٹرک کے بغیر اندراج والے ملازمین کی تنخواہیں ادا نہ کریں ۔ضلع انتظامیہ نے ملازمین وافسران کو متنبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر وہ چھٹی کیلئے تحریری درخواست کے بغیر غیر حاضر رہے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔
عوامی مسائل کا حل
ضلع انتظامیہ راجوری کی طرف سے شیڈیول جاری
راجوری //ڈپٹی کمشنر راجوری سینئر افسران کے ہمراہ ہر جمعرات کو صبح دس بجے سے لیکر پورادن اپنے دفتر میں عوامی وفود سے ملاقات کریںگے ۔ان کے دفتر سے جاری ہوئے نوٹیفکیشن کے مطابق موصوف سینئر افسران کے ہمراہ جمعرات کو پورا دن ڈی سی کمپلیکس میں لوگوں کے مسائل سنیںگے ۔نوٹیفکیشن میں مزید بتایاگیاہے کہ ہر منگل اور جمعہ کو ڈپٹی کمشنر بارہ بجے کے بعد جبکہ ہر سنیچر کو ایک بجے کے بعد عام لوگوں کے مسائل سنے جائیںگے۔عام لوگوں کی جانکاری کیلئے بتایاگیاہے کہ اگر کوئی بھی شخص مذکورہ شیڈیول کے بغیر ملناچاہے تو اسے فون زیر نمبر01962-262244پر رابطہ کرلیناچاہئے تاکہ افسران کی دستیابی کا پتہ دیاجاسکے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ہر سوموار اور بدھوار کو فیلڈ کا معائنہ کیاجائے گا اور ان دنوں عوامی شکایات کے ازالے کیلئے کیمپ بھی منعقد ہوںگے جس دوران ڈپٹی کمشنر کی عدم موجودگی میں ان کے دفتر میں لوگوں کے مسائل اے ڈی ڈی سی ، اے ڈی سی اور اے سی آر سنیں گے ۔
بس اڈہ پونچھ میں صفائی ستھرائی کا فقدان
جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر جمع ہونے سے عفونت میں اضافہ
حسین محتشم
پونچھ//پونچھ قصبہ کے بس اڈہ پر دن بدن گندگی کی وجہ سے عفونت میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ میونسپل کمیٹی کے حکام گلی محلوں کی صفائی میں مکمل ناکام نظر آرہے ہیں۔اڈہ پر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگ گئے ہیں جن کی بدبو مسافروں ، ڈرائیورں،مزدوروں ، دکانداروں اور بس اڈہ کی انتظامیہ کو سخت پریشان کررہی ہے ۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے راجندر سنگھ ڈرائیور نے کہا کہ اندھیر نگری میں کوئی پوچھنے اور جواب لینے دینے والا نہیں اور گندگی کی وجہ سے یہاں ہر سو عفونت ہی عفونت ہے۔انہوں نے کہا کہ قصبہ پونچھ کے بیشتر محلوں کے گلی کوچوں میں گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو وبائی امراض کا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بس اڈہ میں میونسپل کمیٹی کی جانب سے صفائی کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اورافسران و اہلکار دفاتر میں چائے پی کر گھروں کولوٹ جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بس اڈہ کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں گندگی کے ڈھیر تعفن نہ پھیلا رہے ہوں۔ڈرائیوروں اور دکانداروں نے بتایاکہ نالیاں گندگی سے بھری پڑی ہیں جس سے میونسپل کمیٹی کی کارکردگی کا پتہ چلتاہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے بس اڈہ پر روزانہ صفائی کی جاتی تھی تاہم اب کئی کئی دن بعد بھی یہ صفائی نہیں ہوتی ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر پونچھ سے اپیل کی کہ وہ میونسپل کونسل کے افسران کو صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کی ہدایت دیں ۔
پمروٹ کی عوام کی پی ڈی پی میں شمولیت کادعویٰ بے بنیاد
تین سال کا تقابل چوبیس سال سے کرنیوالے اپنی حصولیابی بتائیں:بخاری
بختیار حسین
سرنکوٹ //نیشنل کانفرنس کے ریاستی سیکریٹری و سابق وزیر سید مشتاق احمد شاہ بخاری نے مقامی پی ڈی پی یونٹ کے پمروٹ کی عوام کی پارٹی میں شمولیت کے دعوئوں کو بلیک میلنگ اورجھوٹ کا پلندہ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ سرنکوٹ کی تعمیروترقی میں تین برس کا چوبیس برس سے تقابل کرنے والے عوام کے سامنے صرف یہ بتادیں کہ انہوں نے اس عرصہ میں علاقے کیلئے کونسا پروجیکٹ لایا اورمفاد عامہ کیلئے کونسا کام انجام دیا۔اپنے ایک پریس بیان میں بخاری نے کہاکہ انہوں نے اپنے دور میں ڈیڑھ سو سے زائد پل تعمیر کروائے،جگہ جگہ سڑکوں کی تعمیر کاکام شروع کروایا،سرنکوٹ کے طلباکیلئے ڈگری کالج کو منظوری دلوائی،بڑی تعداد میں پرائمری سکولوں کا قیام عمل میں لایاجبکہ درجنوں سکولوں کا پرائمری سے ہائی اور ہائی سے ہائراسکینڈری سکول کے طور پر درجہ بڑھوایا۔ان کاکہناہے کہ اس کے ساتھ ہی کئی علاقوں میں طبی مراکز کھلوائے گئے اور زندگی کے ہر ایک شعبے میں تعمیروترقی کی ٹھوس بنیادیں ڈالی گئیں۔بخاری نے کہاکہ آج ان سے وہ لوگ مقابلہ کررہے ہیں جن کی مقامی تحصیلدار کے سامنے بھی کوئی پہچان نہیں۔این سی لیڈر نے کہاکہ جب چالیس سال قبل انہوں نے پہاڑی طبقہ کی فلاح و بہبود کیلئے جدوجہد میں شرکت کی تو اس وقت یہ دعوے کرنے والے انگوٹھا چوستے تھے۔ان کاکہناتھاکہ پچھلے الیکشن میں پی ڈی پی امیدوارنے قوم کی پیٹ میں خنجر گھونپا لیکن اب سبھی لوگ یہ جان گئے ہیں کہ اس کامقصد عوامی فلاح و بہبود نہیں بلکہ برادری میں تقسیم کی کوشش ہے۔ان کاکہناتھاکہ پمروٹ کے لوگوں کی پی ڈی پی میں شمولیت کا دعویٰ سراسر جھوٹااور بلیک میلنگ ہے اور اس کا مقصد برادری میں تقسیم ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی پی کی میٹنگ میں صرف وہی لوگ موجود تھے جو پہلے سے ہی اس پارٹی کے ساتھ چل رہے ہیں اور دیگر کچھ لوگوں کو اس میٹنگ میں دھوکہ دے کر بلایاگیاجنہوں نے خود اس دعوے کو مسترد کردیاہے۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی کی کشتی ڈوب چکی ہے۔ان کاکہناتھاکہ پچھلے تین برسوں میں پی ڈی پی امیدوار کی طرف سے سرنکوٹ میں ایک بھی ایسا کام نہیں کروایاگیاجس کو وہ اپنی حصولیابی بیان کرسکیں لیکن جھوٹ کی انتہاہے کہ وہ اپنا تقابل چوبیس برسوں کے دوران انجام پائے کاموں سے کررہے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ ملی ٹینسی کے صدقے میں چار پیسے کیا کمالئے کہ جیسے آسمان سر پر اٹھالیاہو۔بخاری نے کہاکہ احسان فراموشی کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے اور ہرموڑ پر مدد کرنیوالوں کا احسان بھی یاد نہیں رہا۔
بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے سرنکوٹ کے لوگ پریشان
بختیار حسین
سرنکوٹ//سرنکوٹ کے لوگوں نے بجلی کی غیراعلانیہ کٹوتی پر محکمہ پر سخت برہمی کا اظہار کیاہے ۔ مقامی لوگوں کاکہناہے کہ ریاست میں پاور پروجیکٹوں کی تعمیر اوران سے پیدا ہونے والی بجلی کے دعوے کئے جارہے ہیں تاہم سپلائی کے نظام میں کوئی بھی سدھا رنہیں آیا اور غیر اعلانیہ کٹوتی کا سلسلہ بڑھ گیاہے۔ان کاکہناہے کہ علاقے میں نہ ہی بجلی کے آنے کا کوئی شیڈیول ہے اور نہ ہی جانے کا بلکہ یہ محکمہ کے ملازمین پر منحصر ہے کہ وہ کب سپلائی چھوڑیں اور کب کاٹ دیں ۔دھند ک کے لوگوں کاکہناہے کہ دھندک و گردونواحی علاقوں میں بجلی کی سپلائی کاکوئی بھی شیڈیول نہیں اور محکمہ بے تحاشہ کٹوتی کرکے انہیں پریشانی سے دوچار کررہاہے ۔اسی طرح سے میدانہ ،سنئی،پوٹھہ، پھاگلہ ،ہاڑی فضل آباد،سانگلہ اوردرابہ کے لوگوں نے بھی غیر اعلانیہ کٹوتی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ صرف کٹوتی ہی نہیں بلکہ بجلی کا بنیادی ڈھانچہ بھی خستہ حال ہے اور ترسیلی لائنیں درختوں سے لٹک رہی ہیں جبکہ کئی مقامات پر کھمبے بھی دستیاب نہیں ۔ایک نوجوان شیراز ملک نے کہا محکمہ اتنی لاپرواہی سے کام لے رہا ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ان کاکہناہے کہ اگر کہیں کوئی ٹرانسفارمر خراب ہوجائے تو اسے وہیں پڑارہنے دیاجاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ درابہ میں بجلی کی حالت بہت خراب ہے ۔رابطہ کرنے پر محکمہ بجلی کے اے ای ای سرنکوٹ نے بتایاکہ 132 کے وی لائن میں خرابی کے باعث بجلی بند ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ درابہ کا ٹرانسفارمر سنگل فیس ہے جس کو ٹھیک کیاجائے گا۔
سرحدی عوام کے مسائل حل کرنے پر زور
جاوید اقبال
مینڈھر//آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ممبر و ریاستی سکریٹری پروین سرور خان نے بالاکوٹ کا دورہ کرکے سرحدی علاقہ میں بسنے والے لوگوں سے ملاقات کی اوران کے م مسائل کا جائزہ لیا ۔اس دوران بالاکوٹ کے لوگوں نے بتایاکہ سابق حکومت کی طرف سے اس علاقے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی اور وہ سرحدی کشیدگی سمیت کئی قسم کے مسائل سے دوچار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھاگیاہے ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ بجلی کاکوئی شیڈیول ہی نہیں جبکہ پانی کا بحران پایاجارہاہے اور سڑکوں کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے ۔ان کاکہناتھاکہ سرحدی کشیدگی کے دوران ہوئے نقصانات کا معاوضہ بھی نہیں ملا۔انہوں نے کہاکہ پانی کی پائپیں کشیدگی کے دوران ٹو ٹ گئیں جنہیں نہ ہی ٹھیک کروایاگیاہے اور نہ ہی کوئی گاڑی لگاکر پانی سپلائی کیاجارہاہے ۔مسائل سننے کے بعد پروین سرور خان کہاکہ وہ ان کے جائز مطالبات کو حکام کے سامنے رکھیں گی ۔انہوں نے کہاکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معاوضے کی ادائیگی پر وہ ڈپٹی کمشنر پونچھ سے بات کریں گی۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ سرحد پر بسنے والے لوگوں کے مسائل حل کئے جائیں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کاسامنا نہ کرناپڑے ۔انہوں نے کہاکہ ان کیلئے انفرادی بنکر تعمیر کئے جائیں ۔