سوامی کا بیان ناقابل قبول اور ہندستانی آئین کے منافی :پروفیسربھیم سنگھ
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی ، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ، اسٹیٹ لیگل ایڈکمیٹی کے ایکزیکیوٹیو چیرمین اور معروف آئینی وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر میں ہندو وزیراعلی بنانے کے راجیہ سبھا کے رکن ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے غم اور غصہ کا اظہار کیاہے۔انہوں نے کہاکہ یہ حیران کردینے والا بیان ہے جسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کا آئین سیکولر ہے۔ سوامی 21ویں صدی میں 14ویں صدی کی بات کررہے ہیں۔ جموں وکشمیر ہندستان کاحصہ ہے اور ہندستان کا آئین سیکولرازم پر مبنی ہے۔ جموں وکشمیر میں لوگوں کو بلاکسی ذات و پات کی تفریق کے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔کشمیر نے پوری دنیا کو 1947میں سیکولرازم کا پیغام دیا تھا جب سب جگہ خون خرابہ ہورہا تھا تو کشمیر میں کے لوگوں نے امن کی آواز اٹھائی او ر کسی ایک بھی غیرمسلم پر کسی ایک نے انگلی تک نہیں اٹھائی ۔ شیخ محمد عبداللہ نے اپنے ہاتھو ں لاٹھی سے کشمیری پنڈتوں کو اپنے گھر واپس آنے کے لئے مجبورکیا۔ یہ تھی کشمیری مسلمان کے سیکولرازم کی ایک زندہ مثال۔ پورا ہندستان جل رہا تھا جبکہ وادی کشمیر سے انسانیت کی سرد ہوائیں چل رہی تھیں۔ پنتھرس سربراہ نے کہاکہ مسٹر سبرامنیم سوامی کو میں ایک انقلابی او ر ایماندارسیاستداں مانتا ہوں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ وہ جموں وکشمیر کے بگڑتے ہوئے حالات کو ساز گار بنانے کے لئے ہندو وزیراعلی بنانے کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کیا دہلی کی قیادت جموں وکشمیر کا وزیراعلی بنائے گی یا جموں وکشمیر اسمبلی کے اراکین ۔ انہوں نے سبرامنیم سوامی سے اس غلط بیانی پر معذرت کا اظہار کرنے کیلئے کہا تاکہ ان کی ساکھ برقرار رہے۔ انہوں نے کہاکہ سوامی کا بیان ناقابل قبول ، ناپسندیدہ اور ہندستانی آئین کی روح کے منافی ہے۔ جموں وکشمیر کے تینوں خطوں وادی کشمیر، جموں پردیش اور لداخ کے لوگوں کو ایسا بیان قبول نہیں ہوگا۔ انہیں اس غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنا یہ بیان واپس لے لینا چاہئے۔
مسلم فیڈریشن جموں کاتعزیتی اجلاس
جموں//مسلم فیڈریشن جموں کاایک تعزیتی اجلاس زیرصدارت عبدالمجیدصدرتنظیم منعقدہوا۔اس دوران مسلم فیڈریشن کے نائب صدرپروفیسرشیخ محمدایوب کی اہلیہ کی اچانک وفات پرسخت رنج وغم کااظہارکیاگیا۔اراکین مسلم فیڈریشن نے مرحوم کوایک نیک سیرت، حلیم اورمُدبّر خاتون بتاتے ہوئے اُن کے حق میں دعائے مغفرت کی۔ اس سے قبل اراکین مسلم فیڈریشن نے بعدنمازعصرسینکڑوں سوگواران کے ساتھ مرحومہ کے جنازے میں شرکت کی اورتکفین کے بعدتمام اراکین نے مرحومہ کے دولت کانہ مکہ مسجدکے نزدیک بٹھنڈی جاکرپروفیسرایوب سے اظہارتعزیت اورانہیں اوراُن کے اہل خانہ کے ساتھ اس دُکھ کی گھڑی میں یکجہتی کااظہارکیا اوردُعائے مغفرت کی گئی کہ اللہ تعالیٰ غمزدگان کوصبروجمیل عطافرمائے اورمرحوم کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام ومرتبہ عطافرمائے ۔آمین۔موصوفہ کی وفات سے پورابٹھنڈی علاقہ غمگین ہے اوردُعائے مغفرت کررہاہے۔مسلم فیڈریشن کے جن ارکان نے فرداًفرداً پروفیسرموصوف اوران کے اہل خانہ سے اظہارتعزیت اوریکجہتی کااظہارکیاان میں عبدالمجید، ماسٹراکرم احمد، چوہدری جماعت علی ،چوہدری بہاردین ،محمدحسین ملک،محمدرفیق خان ،عبدالرشیدمیر، رحمت اللہ ملک ،جمعہ خان ،اسلم خان، قاری محمداکرم اوردیگرام شامل رہے۔
اکبرجہاں بیگم کوخراج ان کی اصولوں کی پیروی سے ممکن :لال چندمسافر
ادہم پور//ضلع ادہم پورکے نیشنل کانفرنس لیڈراورصوبائی جوائنٹ سیکریٹری لال چندمسافرنے مادرمہربان اکبرجہاں بیگم کی 18ویں برسی پراُن کوپُرعقیدت الفاظ سے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایک امیرباپ کی اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹی ہوتے ہوئے خدمت خلق کے جذبہ سے سرشارہونے کی وجہ سے اُنھوں نے شیرکشمیرمرحوم شیخ محمدعبداللہ کادامن تھام کرشادی کی اورپھرساری زندگی اُن کی مثالی رفیقہ حیات بن کرمصائب بھری زندگی کوگلے لگایا۔مسافرنے کہاکہ شیخ محمدعبداللہ کازیادہ تروقت قیدوبند اورجلاوطنی میں گذرتاتومادرمہرباں ایک طرف بچوں کی کفالت کرتیں اوردوسری طرف پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کیلئے آوازبلندکرتی تھیں۔انہوں نے کہاکہ مادرمہربان کی کوششوں کاہی نتیجہ ہے کہ ’’نیاکشمیر‘‘کے اندرعورت نامہ درج ہوکرلاگوہواجس کی وجہ سے آج کے معاشرے میں عورت کومساوی حقوق مل رہے ہیں۔مسافرنے کہاکہ 1947میں جب مہاتماگاندھی کشمیرآئے توانہوں نے اپنی پارٹی کے موقف سے گاندھی جی کوآگاہ کیاکیونکہ اس وقت پارٹی کے تمام لیڈران جیلوں میں قیدتھے۔انہوں نے کہاکہ مہاتماگاندھی شیرکشمیرکے سیکولرخیالات سے کافی متاثرہوئے تھے اوران کوجلتے برصغیرمیں روشنی کی کرن کشمیرمیں نظرآئی۔انہوں نے کہاکہ آزادی کے بعدجب قبائلیوں نے حملہ کیاتوانہوں نے رفیوجیوں کیلئے کیمپوں کااہتمام کیااورپھرسرینگرحلقہ سے ممبرپارلیمنٹ بھی چنی گئیںاورگوجربکروال ودیگرپسماندہ طبقوں کی بہبودکیلئے آخری دم تک سرگرم رہیں۔ریاست جموں وکشمیرمادرمہربان کی اُن بیش بہاقربانیوں اورخدمات کیلئے ہمیشہ ممنون رہے گی۔انہوں نے مادرمہربان کوسچی خراج عقیدت اُن کے اصولوں بشمول مساوات بھائی چارے ،امن،جمہوریت کی کرناہے۔
پری 2016 پنشنروں کی پنشن کی نظرثانی کیلئے
درخواستوں کے طریقہ کارمیں ترمیم کامطالبہ
جموں//جے اینڈکے سٹیٹ پنشنرس ایسوسی ایشن نے حال ہی میں محکمہ فائنانس کی طرف سے جاری سرکیولر ہدایات کی مذمت کی ہے جس میں پنشن سینکشننگ اتھارٹی /ہیڈدفاترسے ڈاٹا/اطلاعات نزدیکی ٹریجری یامتعلقہ صدرٹریجریوں، ڈسٹرکٹ ٹریجریوں کے پاس جمع کرنے کیلئے کہاگیاہے ۔یہ اطلاعات اکائونٹنٹ جنرل (اے اینڈای )جموں سرینگر کے پاس پنشن پرنظرثانی کرنے کیلئے حاصل کی جارہی ہیں۔کرشن سنگھ صدرجے کے ایس پی اے نے کہاکہ پری پنشنروں 2006سے متعلق پالیسی مرتب کرنے کیلئے اس میں ترمیم کرنی چاہیئے۔
ڈوگرہ صدرسبھانے گورنرکومیمورنڈم ارسال کرکے مطالبات اُجاگرکئے
جموں//ڈوگرہ صدرسبھانے حکومت ہندکے حکومت سے حمایت واپس لینے اوریہاں گورنرراج نافذکرنے کے فیصلے کاخیرمقدم کیاہے۔ڈوگرہ صدرسبھانے کہاکہ ریاست کے موجودہ حالات اوردہشت گردی کے فروغ اورقوم مخالف سرگرمیوں میں اضافے اورآئی ایس آئی اوروہابی اثرورسوخ کے وسیع ہوتے دائرے کودیکھتے ہوئے یہاں پرحکومت سے حمایت واپس لے کرمرکزی حکومت نے اچھافیصلہ لیاہے۔ریاستی گورنر کوارسال کیے گئے ایک میمورنڈم میں ڈوگرہ صدرسبھانے وادی کشمیرمیں امن کی بحالی کی ضرورت پرزوردیااورشدت پسندوں کوکچلنے کیلئے سخت کارروائی کرنے کی حمایت کی ہے۔ڈوگرہ صدرسبھاکے صدر ٹھاکورگل چین سنگھ نے کہاکہ ریاست میں پھرسے جمہوری نظام کوبحال کرناضروری ہے ۔انہوں نے کہاکہ زمینی سطح پر جمہوریت کی مضبوطی ناگزیرہوچکی ہے۔انہوں نے کہاکہ تمام خطوں کے ساتھ مساوی ترقی کارویہ اختیارکیاجاناچاہیئے اورپنچایت انتخابات کے انعقاد کیلئے اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔میمورنڈم میںڈوگرہ صدرسبھانے جموں کی دیرینہ مانگوں جن میں جموں سول سیکریٹری کے باہر کی سڑک کوبارہ مہینے کھلے رکھنے ،مبارک منڈی کی عظمت رفتہ کوبحال رکھنے اورآرکائیوزکی فائلوں کوکلاکیندرسے واپس لانے ، چوکیداروں اورنمبرداروں کے اداروں کی بحالی ،سرحدوں پررہنے والے لوگوں کے مسائل کاازالہ کرنے کامطالبہ کیا۔
گوجری اخبارکی اشاعت قابل تحسین قدم:شوکت چوہدری
جموں//نوجوان سماجی کارکن وصدرجموں کشمیرصاف ستھرامومنٹ شوکت چوہدری نے گزشتہ ہفتے گوجری زبان کے ہفت روزہ خالص گوجری اخبار’’رودادِ قوم‘‘کے اجراء کوگوجری زبان وادب میں تاریخ ساز پیش رفت قراردیاہے ۔ یہاں جاری پریس بیان میں شوکت چوہدری نے خالص گوجری اخبار’’رودادِ قوم‘‘کے اجراء کوگوجری زبان وادب کی تاریخ میں اہم اورخوش آئند باب قراردیتے ہوئے کہاکہ اخبارہذاکے توسط سے گوجری زبان صحافت کے میدان میں بھی کئی نئے ایام طے کرے گی اورپسماندہ طبقات کے مسائل کواُبھارنے میں معاون ثابت ہوگی ۔انہوں نے اس خواہش کااظہارکیاکہ ’’رُودادِ قوم‘‘کی پوری ادارتی ٹیم کی کاوشوں سے جس طرح اس کاپہلاشمارہ منظرعام پرآیاہے خُداکرے اسی طرح یہ ہفت روزہ بلندیوں کوچھوئے۔شوکت چوہدری نے نے جملہ اہلِ قلم کو’رودادِ قوم‘کے ساتھ بلالحاظ کسی تفریق کے وابستہ ہونے کامشورہ دیااورکہاکہ اس طرح قلم وقرطاس کے اس پلیٹ فارم پرجمع ہوکر اتفاق واتحاداور خوشحالی کے خواب کوشرمندہ ٔ تعبیرکیاجاسکتاہے۔
توی کالج کے طلباء کی نمایاں کارکردگی
یونیورسٹی میرٹ لسٹ میں 10پوزیشنیں حاصل کیں
جموں//آئی کے گجرال پنجاب ٹیکنیکل یونیورسٹی جالندھرکی جانب سے سمسٹرامتحان نومبر 2017 کی جاری کردہ میرٹ لسٹ میںتوی کالج کے طلباء نے بی ایس سی ایگریکلچراوربی ۔کام پروفیشنل کورسزمیں دس پوزیشنیں حاصل کی ہیں ۔چیئرمین کم منیجنگ ٹرسٹی انجینئرودھی ایس ۔سنگھ نے میرٹ لسٹ میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کومبارکبادپیش کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اُمیدہے کہ طلباء آئی کے گجرال پنجاب ٹیکینکل یونیورسٹی میں آئندہ بھی نمایاں کارکردگی کامظاہرہ کریں گے۔ منیجنگ ڈائریکٹر انجینئر رینو بانگرونے بھی کامیاب طلباء اورعملے کومبارکبادپیش کرتے ہوئے ان کے مستقبل کیلئے نیک تمنائوں کااظہارکیاہے۔
کرن سنگھ کاوزیراعظم کے نام مکتوب
جموں ایئرپورٹ کانام مہاراجہ ہری سنگھ کے نام سے منسوب کرنے کامطالبہ
یوگیش سگوترہ
جموں//ڈوگرہ شاہی خاندان کے چشم وچراغ اورنامورکانگریس لیڈرڈاکٹرکرن سنگھ نے وزیراعظم نریندرمودی کوایک مکتوب لکھ کر جموں ایئرپورٹ کانام تبدیل کرکے جموں کے آخری ہندوراجہ مہاراجہ ہری سنگھ ایئرپورٹ کرنے کامطالبہ کیاہے۔خط میں ڈاکٹرکرن سنگھ نے لکھاہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے دورمیں بنے جموں ایئرپورٹ کانام مہاراجہ ہری سنگھ کے نام پرہوناچاہیئے۔اس دوران مکتوب میں ڈاکٹرکرن سنگھ جوصدرریاست اورگورنررہ چکے ہیں نے ہمالیائی ریاستوں کیلئے مہاراجہ ہری سنگھ کی خدمات کواُجاگرکیاہے اورمرکزی حکومت پرزوردیاہے کہ وہ اس تجویزپرغورکریں۔انہوں نے اگرتلہ ،تری پورہ ایرپورٹ کانام تبدیل کرکے مہاراجہ بیروکرم کشورمونکیا ،نامورلیڈر کے نام پرتبدیل کرنے کاحوالہ دیتے ہوئے جموں ایئرپورٹ کانام مہاراجہ ہری سنگھ کے نام پررکھنے کی مانگ کی تاکہ آنجہانی مہاراجہ کوخراج عقید ت پیش کیاجاسکے۔ڈاکٹرکرن سنگھ کے مطابق مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے انجام دی گئی سماجی خدمات بشمول جموں وکشمیرکے ہندوستان کے الحاق کے دستاویزات پردستخطوں وغیرہ کواُجاگرکیا۔ قابل ذکرہے کہ گذشتہ برس مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش کے روز سرکاری تعطیل کی مانگ بڑے پیمانے پراُبھری تھی جس کی وجہ سے ریاست کے دونوں خطوں میں سیاست گرماگئی تھی۔یہ تنازعہ جموں کشمیرکے اپرہائوس میں ایک تاریخی ریزولیوشن پاس ہونے سے شروع ہوا۔قراردادکواجات شترو،جومہاراجہ ہری سنگھ کے پوتے ہیں نے پیش کیاتھا۔جموں نوازسیاسی جماعتوں نے 23ستمبرکوچھٹی کی مخالفت کی تھی جس کے بعدجموں میں اقتدارمیں شامل سیاسی جماعتوں کے خلاف شدیدناراضگی کااظہارکیاگیاتھااورپی ڈی پی سے تعلق رکھنے والے وکرم ادتیہ جومہاراجہ ہری سنگھ کے پوتے ہیں نے ایم ایل سی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیاتھا۔