ہندو پاک بات چیت کا راستہ اختیار کریں :عاشق خان
جموں//شیعہ فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے ہند و پاک کے درمیان موجودہ تنائو پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن کے قیام کیلئے مثبت اقدام اٹھانے کی اشد ضرورت ہے ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میںانہوںنے کہا کہ دونوںممالک کے کروڑوںامن پسند عوام ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہتے ہیںلیکن کچھ لوگ جنگ کے اثرات سے جان بوجھ کے غافل ہو کر جنگ کی باتیںکرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیںبلکہ جنگ تو مسئلوںکو جنم دیتیاور اس سے انسانوںکی قربانی لگتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ جو لو گ جنگ چاہتے ہیں ان کو ملکی سرحدوں پر بھیج دینا چاہیے تاکہ ان کو فوجیوں کی محنت کی جانکاری ہوسکے جبکہ جوہری طاقتوںکے درمیان جنگ تباہی و بربادی کے سوا کچھ بھی نہیں۔اسلئے اقوام عالم اور بڑی بڑی طاقتوںکو ہندستان اور پاکستان کے درمیان موجودہ تنائو کو ختم کرنے کیلئے اپنا اثر رسوخ کا استعمال کرنا چاہئے ۔خان نے کہا کہ جنگ کی معمولی سی جھلک اس وقت بارڈر سے مل رہی ہے ،ان لوگوںسے دریافت کیا جائے کہ جنگ کیسا نوسور ہے ۔عاشق نے کہا کہ دونوںممالک کو دور اندیشی کا مظاہر ہ کر کے بات چیت سے اپنے مسائل کا قابو قبول حل ڈھونڈنا چاہئے ْاسی میںدونوںممالک کی ترقی و خوشحالی کا راز مضمر ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ محض دو دنوںکے دوران دونوںممالک نے کتنا کھویا ۔اسلئے جتنا ہو سکے جنگ سے اجتناب کیا جائے ۔جنگی جنون کو ایک طرف رکھ کر جنگ پر خرچ ہونے والی رقوم کو اگر عوام کی بہتری پر صرف کیا جائے تو غربت ،فاقہ کشی ،جہالت ،تعلیم ،بے روزگاری اور دوسرے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ جو مسائل اِس طرف ہیںوہی اُس طرف بھی ہیں۔خان نے کہا کہ عوام کی مجموعی بہتری کے لئے دونوںممالک کی قیادت کو امن کو فوقیت دینی چاہئے ۔خان نے عوام سے پر زور اپیل کی کہ وہ افواہوںپر دھیان نہ دیںکیونکہ کچھ شرارتی عناصر امن کو زک پہنچانے کیلئے اور اپنے مفاد خصوصی کے حصول کیلئے غلط پرچار کر تے ہیں۔خان نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے بھارتی پائلٹ کو رہا کئے جانے کی سراہنا کرتے ہوئے وقت کی نزاکت اور صحیح سپورٹس مین شپ قرار دے کر اس امید کا اظہار کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ امن کا سورج ضرور طلوع ہو گا ۔
انتخابات 2019
فوٹو ووٹر سلپ کو سٹینڈالان شناختی سند کے طور پر قبول نہیں کیا جائے گا : ای سی آئی
جموں//چیف الیکٹورل افسر جے اینڈ کے شلیندر کمار نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایات کے مطابق فوٹو ووٹر سلپ کو سٹینڈالان شناختی سند ووٹ ڈالنے کیلئے قبول نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام انتخابی حلقوں میں رائے دہندگان جن کے حق میں الیکٹورز فوٹو اڈینٹی کارڈ ( ای پی آئی سی ) جاری کئے گئے ہیں ، کو پولنگ سٹیشن پر ووٹ ڈالنے سے قبل ای پی آئی سی دکھانا ہو گا ۔ تا ہم انہوں نے کہا کہ جو رائے دہندگان ایسا کرنے سے قاصر ہوں وہ اس موقعہ پر دیگر پہچان کے اسناد پیش کر سکتے ہیں جن میں پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس بھی شامل ہیں ۔ مرکزی و ریاستی حکومت ، پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ/ پبلک لمٹیڈ کمپنیز کے ملازمین بنک /پوسٹ آفس کی طرف سے جاری کردہ پاس بُک ، پین کارڈ ، آر جی آئی کی طرف سے جاری کردہ سمارٹ کارڈ ، ایم نریگا جاب کارڈ ، ہیلتھ انشورنس سمارٹ کارڈ جسے وزارتِ محنت نے جاری کیا ہو، پینشن سند ، ممبرانِ پارلیمان /قانون ساز اسمبلی کے ممبران /قانون ساز کونسل کے ممبران اپنے سرکاری شناختی کارڈ اور آدھار کارڈ ووٹ ڈالنے سے قبل دکھا سکتے ہیں ۔ کمار نے کہا کہ یہ ہدایات ای سی آئی نے جنرل انتخابات 2019 ، ریاستی قانون ساز اسمبلی کیلئے بائی الیکشن کو منعقد کرنے کیلئے حکمنامہ بتاریخ 28 فروری 2019 کو جاری کی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ای سی آئی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ای پی آئی سی کے اندراج میں معمولی نوعیت کی خامیوں کو در گذر کیا جائے اور رائے دہندگان کو ووٹ ڈالنے کا موقعہ فراہم کیا جائے ۔ ای سی آئی کے حکمنامے کے مطابق اگر کسی رائے دہندگان کو دوسرے حلقہ انتخاب سے الیکٹورل رجسٹریشن افسر نے ای پی آئی سی جاری کیا ہو اُس صورت میں بھی رائے دہندگان کو اپنا انتخابی حق پورا کرنے کی اجازت دی جانی چاہئیے ۔ ای سی آئی کے حکمنامے کے مطابق جو رائے دہندگان بیرونِ ممالک میں اپنا ووٹ ڈالنا چاہتے ہوں وہ ووٹ ڈالنے کے موقعہ پر شناخت کیلئے اپنا اصلی پاسپورٹ پیش کر سکتے ہیں ۔
کے سکندن یکم مارچ کو جموںمیں لوگوں کے مسائل سنیں گے
جموں//گورنر کے مشیر کے سکندن یکم؍ مارچ2019ء (جمعہ )کو کنونشن سینٹرکنال روڈجموںمیں ایک عوامی دربار کے دوران لوگوں کے مطالبات سنیں گے ۔عوامی دربارمیں مختلف ڈیلی گیشن،انفرادی اور اجتماعی وفوداورتنظیمیں صبح 10 بجے سے دوپہر 12بجے تک مشیر موصوف سے مل کر اپنے مسائل اورمطالبات اُن کی نوٹس میںلاسکتے ہیں۔
کالج میں ’سوچھ بھارت ابھیان ‘پر پروگرام SPMR
جموں // گور نمنٹ ایس پی ایم آر کالج آف کامرس میں سوچھ بھارت ابھیان پر ایک بیداری پروگرام منعقد کیا گیا ۔جموں میونسپل کارپوریشن کے اشتراک سے منعقدہ پروگرام میں جموں مئیر چندر موہن گپتا بطورمہمان خصوصی شامل ہوئے جبکہ ان کے ہمراہ جموں میو نسپل کارپوریشن کی سوچھ بھارت مشن کمیٹی کے چیئر مین اور کالج پرنسپل انیل گپتا و دیگران بھی موجود تھے ۔اس بیداری پروگرام کے دوران جموں میونسپل کارپوریشن کے آفیسران نے مرکزی حکومت کی جانب سے صفائی ستھرائی کیلئے شروع کی گئی اسکیموں پر روشنی ڈالتے ہوئے طلباء سے اپیل کہ وہ سماج کو صفائی ستھرائی کے سلسلہ میں بیدارکرنے کیلئے اپنا رول ادا کریں ۔انہوں نے گندگی کو ٹھکانے لگانے ،پلاسٹک کے استعمال اور صفائی ستھرائی سے وابستہ دیگر اقدامات پر بھی روشنی ڈالی ۔اپنے خطاب میں جموں مئیر نے تمام اراکین و طلباء سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ جموں شہر کو ملک کے دس صاف شہروں میں شامل کرنے محنت سے کام کرکے سوچھ بھارت ابھیان اسکیم کو کامیاب بنائیں ۔اس بیداری پروگرام میں ایس پی ایم آر کالج آف کامرس کے طلباء کے علا وہ سٹاف ممبران نے بھی شرکت کی ۔
بٹوال ویلفیئر ایسوسی ایشن کا نیا صدر نامزد
جموں //جموں و کشمیر بٹوال ویلفیئر ایسوسی ایشن نے تنظیم کی تشکیل نو کر تے ہوئے رمیش سر گوترہ کو آئندہ چھ ماہ کیلئے تنظیم کا نیا صدر نامزدکر دیا ہے۔اس سلسلہ میں ایک تنظیمی اجلاس الیکشن کمیٹی کے ہیڈ رمیش کمار کیتھ کی قیادت میں منعقد ہو ا جس میں متعد داراکین نے شرکت کی ۔اس موقعہ پر تنظیم کے اراکین کی جانب سے سبکدوش میجر رمیش سر گوترہ کو دس ستمبر 2019تک تنظیم کا صدر نامزد کیا گیا ہے ۔تنظیم کی مذکورہ نشست 23جنوری 2019کو سابقہ ممبر اسمبلی اور تنظیم صدر ست پال لکھوترہ کی وفات کے بعد خالی پڑی ہوئی تھی ۔اس سلسلہ میں منعقدہ اجلاس میں اوم پرکاش توگا،کمل چند موٹن ،بلدیو چند سندھو ،دیس راج کیتھ،نائب سرپنچ وریندر پال لکھوترہ ،رام لعل لکھوترہ ودیگران بھی موجود تھے ۔
آرین کالج میں ’پائیدار وسائل ‘پر سیمینار منعقد
جموں //آرین کالج آف انجینئر نگ راجپور ہ کی طرف سے ’پائیدار وسائل ‘پر سیمینار کا اہتمام کیا گیا ۔اس سیمینار میں سیول انجینئرنگ اور ایگریکلچرشعبہ کے طلباء کے علا وہ سٹاف ممبران نے بھی شرکت کی ۔ڈائریکٹر آرین کالج آف انجینئر نگ کی قیادت میں منعقدہ سیمینار کے دوران اراکین کی جانب سے عنوان کے تحت اپنے خیالات کا اظہار کیا گیا۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے ڈاکٹر بلدیو سیٹیانے کہاکہ اپنے وسائل کو بچانے اور بہتر طریقہ کار سے استعمال کرنے کیلئے پائیدار تونائی ،کاشتکاری ،اور گندگی کو ٹھکانے لگانے جیسے اقدامات ضروری ہیں ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ دور میں قدرتی وسائل کو استعمال کرنے کی جانب زیادہ سے زیادہ توجہ دی جانی چاہیے ۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر گیتا اروڑہ نے کاشتکاری کے عمل میں ایسی تکنیکوں کا استعمال کیا جانا چاہیے جن سے قدرتی ماحولیاتی توازن پر کوئی اثر نہ ہو ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کاشتکاری سے وابستہ مختلف طریقوں پر بھی روشنی ڈالی ۔اس کے علا وہ دیگر اراکین کی جانب سے بھی پروگرام می مناسبت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا گیا ۔
کا ریشم گڑھ میں اجلاس NSOSYF
جموں //نیشنل ایس سی ،ایس ٹی ،اوبی سی سٹو ڈنٹ اینڈ یوتھ فرنٹ (NSOSYF)کے اراکین کا ایک اجلاس ریشم گڑھ میں منعقد ہوا ۔اس اجلاس میں اراکین نے ملک میں پیدا شدہ موجودہ صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ۔اپنے خطاب میں آل انڈیا کنفیڈریشن آف ایس سی ،ایس ٹی ،او بی سی کے ریاستی صدر آر کے کلسوترہ نے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین پیدا شدہ موجود صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ جنگ عوام اور ملکی تعمیرو ترقی کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے جبکہ موجودہ کشیدگی اور گولہ باری کی وجہ سے فوجیوں کے علاوہ عام لوگوں کو ہو رہے نقصان میں لگا تار اضافہ ہو تا جارہا ہے جس کو دیکھتے ہوئے نیشنل ایس سی ،ایس ٹی ،اوبی سی سٹو ڈنٹ اینڈ یوتھ فرنٹ کے رضا کاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ زخمی ہو نے والے افراد کیلئے خون کا عطیہ دینے کیلئے آگے آینگے ۔اجلاس میں اشونی بھگت ،سمت سیال ،وشال کمار ،سشیل کمار ودیگران بھی موجود تھے ۔
ظہوراحمد ژاٹ کی سبکدوشی پر الوداعیہ تقریب کا اہتمام
جموں//ڈائریکٹر کالجز ظہور احمد ژاٹ کووومنز کالج گاندھی نگر جموں میں ملازمت سے سبکدوشی پر الوداعیہ پیش کیا گیا ۔انہوں نے 37 برس کی اپنی ملازمت کے دوران ڈائریکٹر کالجز ، چیئرمین بورڈ آف سکول ایجوکیشن اور دیگر اہم عہدوں پر اپنی خدمات انجام دیں۔اُنہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے کامرس میں پوسٹ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد کامرس کالج جموں سے بحیثیت استاد اپنا کیئریر شروع کیا جس کے بعد انہوں نے مختلف کالجوں میں اپنی خدمات انجام دیں۔الوداعی تقریب پر کمشنر سیکرٹری اعلیٰ تعلیم سشما چوہان نے ظہور احمد ژاٹ کی خدمات اور ان کی صلاحیتوں کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے موصوف کے ساتھ اپنی تجربات بانٹتے ہوئے اُنہیں آگے کی زندگی کے لئے نیک خواہشات پیش کیں۔اس موقعہ پر سابق ڈویژنل کمشنر جموں ہیمنت کمار ، سابق ڈائریکٹر کالجز اور دیگر فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔