لوپیڈایمپلائزفیڈریشن کااجلاس
جموں// جموںو کشمیر لو پیڈ ایمپلائز فیڈریشن کاایک اجلاس ضلع صدر نیاز احمد راہی کی صدارت میں منعقدہوا ۔اس دوران مقررین نے کہا کہ تنظیم کے صوبائی صدر عبدالمجیدخان کی طرف سے دی گئی کام چھوڑو کال پر خطہ کے متعدد ملازمین نے جلسہ میں شمولیت کی تنظیم کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھدرواہ،کشتواڑ، گندو، سانبہ، کٹھو عہ،ہیرا نگر،ٹھاٹھری،پونچھ، راجوری،رام بن اور بانہال سے تعلق رکھنے والے متعدد ملازمین نے جلسہ میں شمولیت کر کے سرکار سے اپنے جائز مطالبات پورے کرنے کی مانگ کی۔اس موقع پر تنظیم کے سینئرلیڈر نے ملازمین سے اپیل کی کہ اپنے جائز مطالبات کی پوراکروانے کے لئے انہیںجدوجہد کا راستہ اختیار کرنا چاہیئے اور اس کے لئے تنظیم کے قائدعبد المجید خان کے ہاتھ مضبوط کرے جو وقتاً فوقتاًاس سطح کے ملازمین کے لئے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔اس دوران انہوں نے سرکار سے مانگ کی کہ ڈوڈہ،کشتواراور رام بن اضلاح میںاوقات تبدیل کرکے اسے صبح کے وقت کیا جائے کیوں کہ ملاز مین تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔میٹنگ میں محمد شفیع بٹ،غلام حسن باغوان ،سنجے ،رچھپال سنگھ اور غلام حسن پانپورکے علاوہ متعدد ملازمین شامل تھے۔
روڈسیفٹی ہفتہ :جموں ،سانبہ اوراکھنورمیں سائیکل ریلیوں کااہتمام
جموں //29ویں قومی روڈسیفٹی ہفتہ کے تحت جموں ، سانبہ اور اکھنور قصبوں میں سائیکل ریلیوں کا اہتمام کیا گیاجن کامقصد لوگوں کوٹریفک قوانین کے بارے میں جانکاری دیناتھا۔ان سائیکل ریلیوں میں متعدد لوگوں نے شرکت کی ۔ اس دوران معزز افراد پرانے ماڈل کی سائیکلیں لے کر ریلی میں شریک ہوئے۔ جموں میں ریلی کو ٹرانسپورٹ کمشنر سوگات بسواس نے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا ۔ اس موقع پر ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر،ایس ایس پی ٹریفک،جوائنٹ ٹرانسپورٹ کمشنراور بگ ایف ایم کے کئی ممبران موجود تھے۔ریلی جموں یونیورسٹی سے روانہ ہوئی اور بکرم چوک ،ستواری چوک،گرین بیلٹ پارک چوک،امبیدکر چوک اور پولیس ہیڈکواٹر چوک سے گزرتی ہوئی پھر سے جموں یونیورسٹی میں پہنچی۔ریلی میں شامل نوجوانوں نے سفید رنگ کی روڈ سیفٹی قمیضیں اورٹوپیاں پہن کر لوگوں کو ٹریفک قوانین کو اپنانے کی تلقین کی۔اس موقع پر ٹرانسپورٹ کمشنر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس روڑ سیفٹی ہفتہ کے دوران موٹرویکل محکمہ نے متعدد پروگراموں کا اہتمام کیا جبکہ سائیکل ریلی لوگوں کو ٹریفک قوانین کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے کا آخری پروگرام تھا ۔انہوں نے جموں کے باشندوں سے اپیل کی کہ ماحول کو صاف رکھنے کے لئے سائیکل کا استعمال کیا جانا لازمی ہے کیوں کہ اس سے ماحول آلودہ نہیں ہوتا ہے۔ایس ایس پی ٹریفک جموں نے بھی لوگوں سے اپیل کی کہ ٹریفک قوانین کو ہر وقت مد نظر رکھیں اور ٹریفک انتظامیہ کی مدد کرنے کے لئے آگے آئے ۔ اس موقع پر آر ٹی او جموں نے بھی لوگوں سے اس بات کی تلقین کی کہ جموں کو آلودگی سے پاک رکھنا ہے تو سائیکل کا استعمال یقینی بنایا جائے ۔ سائکلیسٹ گروپ کے ممبر انیل شرما نے کہا کہ جموں کو آلودگی سے پاک رکھنا ہمارا مقصد ہے۔ ا س پروگرام کو اور بھی دلفریب بنانے کا کام 92.7ایف ایم کی طرف سے سر انجام دیا گیا۔
چراگاہوں کو گوجروں بکروالوں کیلئے مخصوص کرنے کی مانگ
جموں//جموں و کشمیر کے گوجر و بکروال طبقوں نے چراگاہوں کو صرف مال ومویشی کے چرنے کے لئے ہی استعمال کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ٹرائبل ریسرچ اینڈ کلچرل فائونڈیشن کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ان طبقوں کے نمائندوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ریاست کے بالائی علاقوں میں واقع چراگاہوں کو گوجروں اور بکروالوں کے لئے مخصوص کرنے کے لئے ایک قانون بنایاجانا چاہئے تاکہ وہ اپنے مال مویشی بغیر کسی پریشانی کے چرا سکیں ۔ پروگرام کی صدارت نامور گوجر سکالر ڈاکٹر جاوید راہی نے کی اس موقعہ پر کافی تعداد میں معزز شخصیات کے علاوہ نوجوان سکالرز بھی موجود تھے۔مقررین نے کہا گوجروں اور بکروالوں کے مال مویشی کا انحصار ان ہی چراگاہوں پر ہے اور صدیوں سے ان کا مال و مویشی ان ہی چراگاہوں سے پلتا ہے اس لئے ان چراگاہوں کو دیگر کسی مقصد کے لئے استعمال میں نہیں لایا جانا چاہیے ۔
نٹرنگ نے ’دوحرف ادھورے ‘ڈراماپیش کیا
جموں //نٹرنگ نے سنڈے سیریز کے تحت دویندر گوسوامی کا تحریر کردہ ایک ڈراما ’’دو حرف ادھورے سے‘‘پیش کیاگیا۔ ڈرامے کی ہدایت کاری کے فرائض نیرج کانت نے انجام دیئے ، ڈرامے کی کہانی نگہت اور شبنم کے ارد گرد گھومتی ہے یہ دونوںسہیلیاں کئی برسوں کے بعد ملتی ہیں اور ان کی ملاقات سوالات و شبہات میں تبدیل ہوجاتی ہے۔شبنم کو نگہت کا پتہ ان کا ایک مشہور ناول جس پر نگہت کو انعام بھی ملا ہوتا ہے پڑھنے کے بعد چلتا ہے۔کافی عرصہ کے بعد ملاقات ہوئی اس لئے دونوں سہیلیاں بہت خوش تھی۔شبنم نے ناول کے بارے میں بات کی اور نگہت کو لگا کہ وہ اصل میں اسلئے مجھ سے ملنے آئی ہے ورنہ اس کو مجھ سے ملنے کی کوئی دلی خواہش نہیںتھی اسلئے دونوں ایک دوسرے کے سامنے دلائل رکھنے کی کوشش میں نظر آتی ہیںلڑائی جھگڑے کے آثار بھی نظر آتے ہے اور اب ان کو اس بات کا احساس ہونے لگتا ہے کہ جوانی میں وہ کتنی خودغرض تھیںجبکہ ان دونوں کی چاہت ایک نوجوان جاوید تھا جس کی محبت میں یہ دونو ںگرفتار تھیں۔نگہت اور جاوید ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے تھے لیکن ایک حادثہ میں نگہت جسمانی طور پر معذور ہو جاتی ہے اور جاوید کی شادی شبنم کے ساتھ ہو جاتی ہے لیکن اب وہ ساتھ نہیں رہتے اور شبنم نگہت کو کہتی ہے کہ انہوںنے مرنے سے پہلے مجھ سے ملنے کا وعدہ کیاتھا لیکن اب وہ زندہ نہیں ہے اتنے میں ایک فون کال آتی ہے اور جاوید کہتا ہے کہ جس ڈرایئور نے آپ کو نگہت کے پاس چھوڑا وہ جاوید ہے اور اب وہ نگہت کے ساتھ رہتا ہے۔ڈراما نے شرکا کو بہت محظوظ کیا ۔ ورندہ اور میناکشی نے نگہت اور شبنم کا کرداربڑے دلکش انداز میں ادا کیااور شو منعقدکرنے کا کام ایشوریا سیٹھی نے سر انجام دیا۔