جتندر سنگھ کی تقریب میں ملازم سے ہتھیاربرآمد
پولیس نے حراست میں لے لیا
یوگیش سگوترہ
جموں//پولیس نے جمعہ کے روزایک شخص جومرکزی حکومت کاملازم ہے کومبینہ طورپر وزیراعظم کے دفترمیں مرکزی وزیرمملکت ڈاکٹرجتندرسنگھ کی پریس کانفرنس میں ہتھیارکے ساتھ آیاتھاکوحراست میں لے لیاہے۔تفصیلات کے مطابق مرکزی وزیرمملکت ڈاکٹرجتندرسنگھ کوجمعہ کے روزبعددوپہرکووزیراعظم نریندرمودی کی قیاد ت میں مرکزی حکومت کی چارسالہ کارکردگی اورحصولیابیوں کا کرنے کےلئے پریس کانفرنس سے خطاب کرناتھا۔پولیس کے مطابق دوران تلاشی پولیس نے مرکزی حکومت کے ایک ملازم گلشن رینہ کو جواپنے ساتھ لائنس یافتہ پستول لایاتھاکوحراست میں لے لیا۔پولیس نے بتایاکہ وہ تقریب میں ڈیوٹی پرتھا،دوران تلاشی پولیس نے اس کی تحویل سے پستول برآمدکی جس کے بعداسے حراست میں لے کرپوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔
سیزفائرکااعلان مثبت خوش آئند: عبدالحمیدچوہدری
جموں//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کے چیف کوآرڈی نیٹر عبدالحمیدچوہدری نے ہندوستان اورپاکستان کے ڈی جی ایم اوزکی طرف سے سیزفائرکے معاہدے پرعملدرآمدکرنے کے اعلان کوخوش آئندقراردیتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت سے تعبیرکیاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس فیصلے سے سرحدوں کے قریب رہنے والے لوگوں کوراحت ملے گی۔یہاں جاری پریس بیان میں پی ڈی پی کے چیف کوآرڈی نیٹر عبدالحمیدچوہدری نے کہاکہ وسیع تفہیم کے لئے سرحدوں پر قیام امن پہلا ضروری قدم ہے اور مجھے یقین ہے کہ سرحدوں پر قیام امن قائم ہوگا‘۔ عبدالحمیدچوہدری نے کہاہے کہ اس طرح کے مزیداعتمادبحالی کے اقدامات دونوں ممالک کواٹھانے چاہیئے تاکہ خطے میں امن بحال رہ سکے۔انہوں نے رمضان سیزفائرکی بھی ستائش کی۔واضح رہے کہ ہند و پاک کے ڈی جی ایم اوز نے چندروزپہلے ہاٹ لائن پر بات چیت کی جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے پر اتفاق ہوا۔ یہ بھی اتفاق ہوا ہے کہ دونوں ہی طرف مستقبل میں جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ ہندوستانی فوج کے مطابق یہ بات چیت پاکستان کے فوجی آپریشن ڈائریکٹر جنرل کی پہل پر گذشتہ منگل کی شام چھ بجے ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی تجویز رکھی گئی جسے ہندوستان نے قبول کرلیا۔ دونوں فریقوں نے طے کیا کہ کسی بھی مسائل کو ہاٹ لائن اور فلیگ میٹنگ جیسے بات چیت کے موجودہ ذرائع سے حل کیا جائے گا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر رواں برس سرحدی شلنگ کی وجہ سے 44 لوگ مارے گئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔ مہلوکین میں 18 سیکورٹی فورس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق اس سال اب تک پاکستان نے 1200 سے زائد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان 1999 ءکے تنازعے کے بعد سنہ 2003 میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ تاہم جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود سرحدوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے۔
بھلوال کے دیہات میں بجلی ندارد،عوام پریشان
نیوز ڈیسک
جموں// بھلوال تحصیل کے اطراف و اکناف میں بجلی سپلائی کے حوالے سے بحرانی صورت حال پرعلاقہ کے عوام میں شدیدتشویش پائی جارہی ہے خاص کرماہ صیام میں علاقہ میں محکمہ بجلی کی طرف سے غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی و محکمہ صحت عامہ کی طرف سے غیر سنجیدگی کے مظاہرہ نے بھلوال تحصیل کے عوام کو شدت کی اس گرمی میںمخمصے میں ڈال دیا ہے اور علاقہ میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے خاص طور پر علاقہ کے عوام کو بھاری مصائب کا سامنا ہے ۔جموں میں گرمی کی تیز لہر کے چلتے درجہ حرارت 44 ڈگری کو پار کررہا ہے اورماہ رمضان کامقدس مہینہ چل رہاہے ۔لوگوں نے کہاکہ محکمہ بجلی ومحکمہ صحت عامہ پانی سپلائی وبجلی نظام میں بہتری لانے کے مخلوط سرکار کے بلند بانگ دعوﺅںکے باجود اس بحران سے نپٹنے میں صاف طور پر ناکا م نظر آرہا ہے ۔رتی کنئی،دھنوں ،گلالی،سروٹ ودیگرعلاقہ جات کے لوگوں نے کشمیر اعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے محکمہ متعلقہ پر الزام لگایا کہ علاقہ کے لوگوں کورمضان میں بھی بجلی کی بارہا آنکھ مچولی کی وجہ سے ماہ صیام میں شدت کی اس گرمی میںجینا محال ہوگیا ہے کیو نکہ محکمہ نے دن وشام اور رات کے وقت بغیر اعلان کے بجلی بند کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس سے اور علاقہ کے عوام میں محکمہ بجلی و محکمہ صحت عامہ کے تئیںبھاری تشویش پائی جارہی ہے اور محکمہ بجلی و محکمہ صحت عامہ عوام کی بھاری مانگوں کے باوجود غفلت شعاری کے باعث خواب خرگوش میں مبتلاہے ۔علاقہ کے عوام نے ریاستی وزیراعلیٰ اورمحکمہ بجلی کے وزیرسنیل شرماسے اس سلسلہ میں خصوصی طور سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرف فوری توجہ دیں اور تحصیل بھلوال کے دیہات میں خصوصی طور پرماہ رمضان کے دوران بجلی سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ حکام کو ہدایات دیں۔ بصور ت دیگر علاقہ کے عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔