مزاحمتی لیڈران کیخلاف کریک ڈاﺅن جاری

سرینگر// حکومت نے مزاحمتی لیڈروں کے خلاف کریک ڈاﺅن کا سلسلہ شروع کیا ہے،جس کے دوران حریت لیڈروں کی خانہ و تھانہ نظر بندی مزید سخت کی گئی ہے۔ وادی میں عید الفطر کے اختتام کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر حریت لیڈروں کی گرفتاری شروع کی گئی۔ حریت(گ) چیئر مین سید علی شاہ گیلانی جہاں گزشتہ ایک برس سے مسلسل گھر میں نظر بند ہیں،وہی عید پر انکے گھر کے باہر پہرے مزید سخت کئے گئے،دوسری جانب حریت چیرمین میرواعظ عمر فاروق گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل خانہ نظر بند ہیں۔ تحریک حریت کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی اورحریت(گ) جنرل سیکریٹری شبیر احمد شاہ بھی مسلسل خانہ نظر بند ہیں۔لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک اور سنیئر لیڈر شوکت احمد بخشی کو عید سے قبل ہی گرفتار کیا گیا۔اس دوران ڈیموکریٹک پولٹیکل پارٹی دھڑے کے چیئرمین فردوس احمد شاہ کو آبی گزر کے رہائشی گھر سے گرفتار کر کے کوٹھی باغ تھانہ میں نظر بند کیا گیا جبکہ سالویشن مومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی جبکہ لبریشن فرنٹ (ح) چیئرمین جاوید احمد میر کو خانہ نظربند رکھاگیا ہے۔حریت(ع) ذرائع کا کہنا ہے کہ مختار احمد وازہ، انجینئر ہلال احمد وار اور دیگر مزاحمتی قائدین اور کارکنوں کی تھانہ وخانہ نظر بندی جاری ہے،جبکہ کئی ایک لیڈروں کے گھروں پر چھاپے بھی مارے گئے۔