مزاحمتی قیادت کا جیٹلی کو جواب

سرینگر //مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ارون جیٹلی کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کی یہ پرانی روش ہے جس کے تحت یہ لوگ اپنے پیاروں کے جنازے اُٹھانے والی کشمیری قوم کی تحریک آزادی اور مزاحمت کو دوسروں کی ایماء پر محض چند سو روپے کیلئے چلائی جانے والی مہم قرار دے کر ایک پوری تحریک کی نفی کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک متنازعہ خطے میں امن اور نارملسی کی باتیں کرناہر ذی ہوش کے لئے کسی مذاق سے کم نہیں ہوتا ۔ان کے نزدیک کشمیر میں نام نہاد امن قائم کرنا ہی ان کے ہر اقدام کا واحد مقصد ہے جس کا یہ لوگ آئے روز پروپیگنڈا کرتے پھرتے ہیں۔ قائدین نے کہا کہ جیٹلی صاحب کہتے ہیں کہ آج کشمیرمیں فوج اور فورسز کا دبدبہ ہے اور یہ کہ حریت مکمل طور پربے نقاب  ہوچکی ہے اور آج ان کے جلسوں اور پروگراموں میں کوئی شامل نہیں ہوتا۔ قائدین نے کہا کہ جیٹلی کا یہ بیان خود اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ بھارت کشمیریوں کی مزاحمت کو محض فوجی طاقت سے ہی کچلنے کا روادار ہے اور حقیقت بھی یہی ہے۔قائدین نے اعلان کیا کہ بھارتی حکمرانوں کی ایسی ہی باطل خوش فہمیوں اور خوش گپیوں کی حقیقت کو طشت از بام کرنے کیلئے مشترکہ مزاحمتی قیادت کشمیر کے جنوبی حصے سے اپنی سیاسی کاوشوں کا آغاز ِ نو کررہی ہے اور اس ضمن میں 15دسمبر کواننت ناگ کے لال چوک میں ایک عوامی جلسے کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس جلسے کے بعد کشمیر کے شمالی حصے اور سرینگر میں بھی عوامی جلسوں اور پروگراموں کا اہتمام کیا جائے گا۔ مشترکہ مزاحمتی قائدین نے کہا کہ ہزاروں کشمیری اسیروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے اعلان کردہ احتجاجی ہڑتال 27نومبر کو کی جائے۔