مرکزی وفود کے ساتھ ملاقاتوں کیلئے محتاط طریقہ کار اپنانے کی ضرورت:اکنامک الائنس

سرینگر//کشمیر اکنامک الائنس نے مرکزی وفد کے ساتھ مزاحمتی لیڈروں اور دیگر طبقہ ہائے فکر سے وابستہ نمائندوں کے ساتھ ملاقات پر محتاط ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ یہ وفد بھی ماضی کی طرح کشمیری عوام کے زخموں کو کرید کر نہیں جائے گا۔سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران کشمیر اکنامک الائنس کے چیئرمین محمد یوسف چاپری نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں بھی اس طرح کے وفود کشمیر آئے اور ہمدردی کے نام کشمیری عوام کے جسم اور روح پر لگے زخموں کو کرید کر ناسور بنا دیا۔انہوں نے کہا کہ2010میں بھی پارلیمانی وفد نے حریت لیڈروں کے ساتھ ساتھ دیگر تجارتی انجمنوں اور سیول سوسائٹی کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کی تاہم اس کا حاصل کیا ہوا،وہ سب کے سامنے عیاں ہے۔انہوں نے کہا کہ مزاحمتی خیمے پر کشمیر کے ہر طبقے کا بھر پور اعتماد ہے اور کشمیری  عوام کے احساسات اور خواہشات کی ترجمانی بھی کرتے ہیں تاہم یہ ڈیلی گیشن اگر3ماہ قبل وادی آتا تو اس قدر کشت و خون اور شہری ہلاکتیں نہیں ہوتی۔اس موقعہ پر الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے کہا کہ ہمدردوں کی آڑ میں معصوم کشمیری عوام کا واسطہ ہمیشہ رہزنوں سے پڑا ہے اور انکی معصومیت کا فائدہ اٹھا کر ہمیشہ کشمیری عوام کی امیدوں کا خون کیا گیا۔کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین نے تاہم حریت لیڈروں اور سابق وزیر خزانہ کی سربراہی والی5رکنی ٹیم کے مابین ملاقات کو تعطل توڑنے کے حوالے سے ایک قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی خیمے کو محتاط طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں مذاکراتی عمل اور بات چیت کے علاوہ مسائل کے حل کیلئے کوئی بھی متبادل راستہ نہیں ہے،وہی ماضی کے تلخ تجربے بھی ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے اس بات کی امید ظاہر کی کہ موجودہ وفد اپنے پیشروئوں کی طرز پر حالات میں سدھار آنے کے بعد نہ ہی مسئلہ کشمیر اور نہ ہی کشمیری عوام کے دل اور روح پر لگے زخموںکو بھول جائے گے جبکہ کشمیر کی اصل حقیقت اور صورتحال بھارت کے عوام،سیول سوسائٹی اور اصل جمہوریت پسندوں کے سامنے رکھے گے۔