مرحوم پروفیسر مرغوب بانہالی

 اس دنیا میں کئی لوگ آئے اورچلے گئے ،لیکن ایسے بھی لوگ ہیں جوبہت کچھ دے کر ہم سے رخصت ہوئے،البتہ ان کی یادیں ہردم تازہ ہیں ۔ جانے والے کوئی نہ کوئی ذخیرہ چھوڑ جاتے ہیں جس سے لوگ پھر استفادہ کرکے راستوں کو متعین کرتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک مایہ ناز شخصیت جناب مرحوم پروفیسر مرغوب بانہالی صاحب کی تھی جن کے قلمی ، علمی اور تحقیقی ذخائر موجود ہیں ۔ جن سے استفادہ کرنے کی اہم ضرورت ہے۔ 
جہاں تک ڈاکٹر غلام محمدگری المعروف پروفیسر مرغوب بانہالی صاحب کی حیات وشخصیت اور ان کے تعلیمی میدان میں اپنی گراں قدر خدمات کا تعلق ہے ۔ان کی ولادت ۵ مارچ ۱۹۳۷ء؁ بنکوٹ بانہال میں ہوئی ۔ اس طرح کی عظیم شخصیات کے حق میں اکثر آزمائشوں اور ابتلائوں کی بھرمار رہتی ہے۔۸ سال کی عمر میں ہی ان کے سر سے ماں کا سایہ اٹھ گیا ۔ اس کے بعد ان کے والد صاحب اس وقت ان سے جدا ہوگئے جب یہ صرف ۱۴ سال کے تھے۔ مرغوب صاحب عقلِ سلیم رکھنے والے ایک عظیم شخصیت کا نام ہے۔ وہ ہمیشہ دوسروں پر مسکراہٹ کے پھول نچھاور کرکے دلجمعی کے ساتھ پیش آتے تھے۔ آپ اپنی شیریں زباں اور مسکراہٹ کی وجہ سے معروف تھے۔دورانِ گفتگوہر کوئی چاہتا تھا کہ ایسے سخن رس کو سنتے جائیں سنتے جائیں،اس لئے آج کے دور میں ایسے سخن وروں کی کمی شدت سے محسوس ہورہی ہے۔ اللہ نے انہیں حسن وجمال اوراخلاقِ حسنہ سے مالا مال کیا تھا۔خدائے لم یزل نے انہیں حسنِ سیرت اور صورت دونوں چیزوں سے متصف کیا تھا۔ 
پروفیسر مرغوب صاحب ریاست جموں وکشمیر کے ایک معروف ادیب، شاعر، ناول نگار ،ترجمہ نگاراور نقاد گزرے ہیں ۔ اردو ، کشمیری ، فارسی زبانوں کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر اقبال بھی تھے۔ اس کے علاوہ انہیں عربی زبان وادب سے بھی کافی دلچسپی تھی۔ پروفیسر مرحوم نے اپنی ساری زندگی علمی اور تحقیقی سرگرمیوں میں گزاری جس کے اعتراف میں انہیں کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ مرحوم نے علمی، ادبی ،فکری ، اورروحانی ذخیرے دنیائے ادب کے لئے چھوڑے، جن سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے تعلیمی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ،جبکہ انہوں نے کشمیر یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں مختلف عہدوں پر فائز ہوکر اپنے فرائض منصبی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دئے ہیں ۔جن میں شعبۂ کشمیری، شعبۂ وسطی ایشیائی مطالعات اور اقبال انسٹی ٹیوٹ جیسے اہم ادارے شامل ہیں۔مجھے یاد ہے جب وہ اقبال انسٹی ٹیوٹ میں وہاں کے محققین کو اقبال کا فارسی کلام پڑھاتے تھے توسبھی اسکالر ان کو بڑے غور سے سنتے تھے۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ جب گاندھی بھون میں فکر اقبال پر ایک سیمنار منعقد ہوا ،ان دنوں پروفیسر بشیراحمد نحویؔ صاحب اقبال انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر تھے۔جبکہ پروفیسر تسکینہ فاضل صاحبہ اور ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی صاحب بھی ادارۂ اقبالیات میں سرگرم عمل تھے۔ مرحوم بانہالی صاحب نے اپنی تقریر میں کہا ’’میں اقبال انسٹی ٹیوٹ کو مبارکبادپیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اقبال کے تصورِ توحید پر ایک تحقیقی مقالہ تیار کروایا،جسے دیکھ کر کافی خوشی ہوئی۔ اب میں نحوی ؔصاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ تصورِ رسالت پر بھی اس طرح کا تحقیقی کام ہو۔‘‘چنانچہ ۲۰۱۱ء؁ میں انہوں نے میرے اس ایم ۔فِل تحقیقی مقالے ’’فکرِ اقبال میں تصورِ توحید کی نوعیت‘‘ کا Vivaکرکے میری کافی حوصلہ افزائی فرمائی ۔دراصل مرحوم خود بھی توحید ورسالت کے زبردست شیدائی تھے ،اسی لئے آپ شاعرِ توحید کے لقب سے معروف تھے ۔پروفیسر بشیر احمد نحویؔ صاحب اور پروفیسر تسکینہ فاضل صاحبہ کی سبک دوشی کے بعد پروفیسر مرغوب بانہالی صاحب کئی بارڈاکٹر مشتاق احمد گنائی صاحب کی دعوت پر ادارۂ اقبالیات کے سیمناروں میں شرکت کرتے رہے۔اس دوران ایک بین الاقوامی سیمنار بھی منعقد ہوا،جس کی دعوت کے لئے مجھ ناچیز کو مرحوم بانہالی صاحب کے دولت خانے پر جانے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ وہاں جاکر استاذ مرغوب بانہالی صاحب سے ملاقات کرکے انہیں سیمنار کے لئے دعوت نامہ پیش کیا۔پہلے ہم سے تعارف کروایاپھردعوت نامہ حاصل کرنے کے بعد ان کے چہرے پہ اک رونق سی آگئی۔پھر تبسم کے بعد ہمیں یہ نصیحت کی کہ’’ اقبال انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ ہمیں دلی وابستگی ہے،اس لئے اس کی قدر کرنا ہماری اہم ذمہ داری ہے اور مزید تحقیقی سرگرمیوں کو جاری رکھنا چاہئے۔‘‘اس کے بعد کہنے لگے کہ اللہ نے صحت وعافیت برقرار رکھی تو ضرور آئوں گا۔اللہ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔آمین۔ مرحوم بانہالی صاحب  نے کشمیر یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی کے پروفیسر تعینات ہونے سے قبل تحصیلِ ایجوکیشن آفیسر بھی اپنے فرائض بخوبی انجام دئے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ شعبۂ کشمیری ،کشمیر یونیورسٹی میں بحیثیت صدر بھی رہ چکے ہیں۔ 
۱۹۷۹ء؁ میں کشمیری زبان وادب میں کارکردگی کے حوالے سے جس میں ان کے شعری مجموعہ ’’پرتوستان‘‘ کافی اہمیت کا حامل ہے،جس کے لئے انہیں بعد میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس کے ساتھ ہی ایک اور کشمیری شعریات کا مجموعہ ’’تجلستان‘‘ منظر عام پر آیا۔کشمیری ادب میں آپ کی یہ دونوں شاہکار تصانیف ایک انمول سرمایہ ہے۔مرحوم ایک ایسی ادبی شخصیت تھی جنہوںنے ادبیات کے فروغ میں اپنے آپ کو ہمہ تن مصروف رکھا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد پروفیسر مرحوم نے اپنی زندگی ادب اور تحقیقی کام کے لئے وقف کی۔انہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی کئی اعزاز حاصل کئے۔ دیکھا جائے تو وہ بذاتِ خود ایک ادبی ادارہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ کشمیری زبان کے فروغ میں ان کا بہت بڑا حصہ رہا اور انہوں نے کشمیر لسانیات پر ایک نظریہ بھی پیش کیا ۔ 
مرحوم پروفیسر مرغوب بانہالی صاحب واقعی ایک موحد کی حیثیت بھی رکھتے تھے۔ وہ لگ بھگ اپنی ہر تقریر میں توحیدورسالت اور آخرت کے حوالے سے قیمتی اقوال سے نوازتے تھے۔ جنہیں آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ پروفیسر مرغوب صاحب ۲۷ اپریل ۲۰۲۱ء؁ کو اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے۔
مثلِ ایوان سحر مرقد فروزاں ہوتیرا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تیرا
اللہ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے اور اعمال الحسنات اپنی بارگاہ میں قبول فرماکر درجات بلند کرے۔۔۔ آمین
فون نمبر۔7006025010
ای۔میل [email protected]
������