بھلیسہ//مدرسہ دارلعلوم گلی بھٹولی کاسالانہ دِن یہاں الحاج پیرمیاں مقبول’ باجی‘ کی سربراہی میں منایاگیا جس میں معززمسلم دانشوران،مدرستہ منتظمین کے علاوہ ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔اس روح پرورتقریب کاآغازقرآن پاک کی آیات کی تلاوت سے ہوا۔اس موقع پرہزاروں لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الحاج میاں مقبول(باجی )نے اسلام اورسنتِ نبوی پرمفصل بیان فرمایا۔اُنہوں نے اُمت ِ مسلمہ پرزوردیاکہ وہ اپنی زندگی میں تمام ترپریشانیوں سے نجات پانے اور آخرت میں کامیابی پانے کیلئے رسول اللہؐ کی سنتوں کوزندہ کریں اور نبیؐ کی سنتوں پرچلنااپنی زندگی کاطرزِعمل بنالیں۔اُنہوں نے پابندی سے سنتِ نبوی پرچلنے کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے مسائل کاازالہ کوئی مارشل لاء یاجمہوریت سے نہیں بلکہ ہمارے مسائل کاازالہ سنت پرچلنے سے ہوگا۔اُنہوں نے کہاکہ ہماری جدوجہداسلام کے پرچم کوبلندرکھنے کی ہے۔اس موقع پررکن اسمبلی اندروال غلام محمد سروڑی نے کہا کہ شریعت میں مداخلت کی ناپاک سازشیں ہورہی ہیں، فرقہ پرست قوتیں اُمت کوپریشان کرنے کاہرممکن حربہ اپنارہی ہیں، اُنہوں نے مذہبی معاملات میں مداخلت سے بازرہنے کامشورہ دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت کوسابقہ حکومتوں کی طرح لوگوں کے جذبات کی قدرکرنی چاہئے۔اُنہوں نے کہاکہ ملک میں مسلم قوم میں عدم تحفظ کااحساس بڑھتاجارہاہے۔اُنہوں نے کہاکہ معصوم مسلمانوں کوقتل کیاجارہاہے۔ سروڑی نے بھیڑکی دہشت گردی کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ جس طرح محمدنعیم ،زاہدحسین اورریاست جموں وکشمیرکے علاوہ راجستھان، گجرات جھاڑکھنڈ اوراُترپردیش میں مسلم افراد کوموت کے گھاٹ اُتاراگیا، یہ تمام تر سازشیں مسلمانوں کوخوفزہ کرنے کی ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ مسلم طبقے کوختم کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ بھاجپاسرکار کے دورمیں مسلمانوں کونشانہ بنانے جانے کی پالیسی اپنائی جارہی ہے۔سروڑی نے کہاکہ اُمت ِم مسلمہ کوایک جسم دوجان ہوناچاہئے اور اتحادکا بے مثال مظاہرہ کرناہوگا۔اُنہوں نے کہاکہ ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں یہ فطری ہے لیکن اُمت کیلئے پہلے اپناایمان ہے پھر ملک ہے۔اُنہوں نے کہاکہ ایمان سے بڑھ کرکچھ نہیں۔سروڑی نے سخت الفاظ میں کہاکہ دشمنوں کے عزائم کوخاک کرنے کیلئے ہمیں ہرحال میں تیاررہناہوگا۔اس موقع پرغلام مصطفی آزاد، چوہدری علی محمد، مولوی محمد شفیع، مفتی تاج دین، حافظ محمد شفیع، چوہدری عبدالطیف بانیا نے بھی اپنے خیالات کااِظہارکیا۔اپنے خطاب میں اُنہوں نے مدارس اسلامیہ کی خدمات اورقربانیوں کواُجاگرکیا۔اس موقع پرمدرسہ کے طلبانے سماجی برائیوں کیخلاف دِل کوموہ لینے والے خطابات کئے۔تقریب الحاج پیر میاں مقبول کی دعاکیساتھ اختتام پذیرہوئی۔بعدازاں کانگریس نے موجودہ پی ڈی پی۔بھاجپاسرکارکے ریاست کی خصوصی پوزیشن مخالف عزائم کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔سینئررہنماغلام مصطفی آزاد ، مسرت حسین نائیک ، علی محمد، محمد عباس، ذاکرحسین، محمد یونس ودیگران نے اس مظاہرے میں شرکت کی۔اس موقع پرسروڑی نے خبردارکیاکہ اگردفعہ370یا35Aکیساتھ کوئی چھیڑچھاڑہوئی تویہ تباہی کاپیش خیمہ ثابت ہوگی۔اُنہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ گمراہ کن پروپیگنڈے کاشکارنہ بنتے ہوئے ان دفعات کوسمجھنے کی کوشش کریں ، یہ پوری ریاست جموں وکشمیرکے ہر خطے کے مفادکی ضمانت ہیں۔سروڑی نے خاص طورپربھاجپالیڈران پرزوردیاکہ وہ دفعہ365Aکی اہمیت واقفیت حاصل کریں۔اس موقع پرغلام مصطفی آزادنے اپنے خطاب میں پی ڈی پی۔بھاجپاسرکارکوخوب کھری کھری سنائیں۔اُنہوں نے کہاکہ یہ جماعتیں اپنے چناوی وعدے نبھانے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں اوراب یہ محض جملے بازی کاکرتب دکھاکروقت گذارہی ہیں اور فرقہ پرست قوتوں کے ہاتھ کاکھلونابن کررہ گئی ہے۔