بانہال // ریاست جموں وکشمیر میں محکمہ سماجی بہبود کی طرف سے غریب ، نادار اور مستحق بچوں کی فلاح و بہبود ، نشو و نما اور تعلیم کیلئے کئی سکیمیں چلائی جا رہی ہیں لیکن جانکاری اور آگاہی کی سخت کمی اور ہمارے سماج کے آسودہ حال لوگوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ سکیمیں اَن پڑھ ، بے علم ، غریب اور مفلوک الحال کنبوں تک پہنچ ہی نہیں پاتی ہیں یا بہت کم مستحق بچے ان سرکای سکیموں سے مستفید ہوتے ہیں۔ ہمارے سماج کے سب تو نہیں لیکن بیشتر سماجی کارکن ، رضاکار جماعتیں ، پڑھے لکھے سوشل ورکر ، اساتذہ اور مذہب، ذاتوں اور فرقوں کی دہائی دینے والے لوگ اپنے آس پڑوس کے اْن غریب ، یتیم اور مستحق بچوں کو روزانہ نظر انداز کرکے نکل جاتے ہیں جو غریب بچے ہماری تھوڑی سی رہنمائی سے محکمہ سماجی بہبود سمیت کئی غیر سرکاری انجمنوں کی طرف سے چلائی جارہی متعدد سکیموں سے فائدہ اْٹھا سکتے ہیں۔ ریاست جموں وکشمیر میں محکمہ سماجی بہبود یا سوشل ویلفیئر کی طرف سے جموں کشمیر سٹیٹ چائلڈ پروٹیکشن سوسائٹی کے تحت غریب بچوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے ایک نئی سکیم شروع کی گئی ہے اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے غریب ، یتیم اور ستم زدہ والدین کے نادار بچوں سے درخواستیں طلب کی ہیں ۔ ریاست جموں وکشمیر میں محکمہ سماجی بہبود کے تحت غریب سے غریب تر بچوں کی دیکھ بال اور تحفظ کے لئے ریاست کے مشن ڈائریکٹر آف انٹریگیٹیٹ چائلڈ پروٹیکشن سکیم (ICPS) کی طرف سے غریب والدین کو اطلاع دی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی رجسٹریشن کے لئے محکمہ کے متعلقہ ضلع چائیلڈ پروٹیکشن یونٹس میں سادہ کاغذ پر ضروری کاغذی لوازمات سمیت اپنی درخواستیں جمع کریں ۔ یہ درخواستیں 18 سال سے کم عمر کے سکول جانے یا نہ جانے والے ایک کنبے کے دو بچوں کے لئے جمع کی جا سکتی ہیں اور انہیں ماہانہ سکالرشپ دی جائے گی۔ اس فارم کو تمام کاغذی لوازمات سمیت داخل کرنے کی آخری تارخ14 اگست 2018 رکھی گئی ہے اور یہ فارم ضلع چائلڈ پروٹیکشن یونٹ محکمہ سماجی بہبود میں جمع کئے جائیں۔ ان درخواستوں کے ساتھ والدین اور بچوں کو جو لوازمات پورے کر نے ہو نگے اْن میں تحصیلدار کی طرف سے اجراء کردہ آمدنی سرٹیفیکٹ جس میں دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے والدین کی زیادہ سے زیادہ سالانہ آمدنی 24000 روپئے جبکہ قصبہ جات سے تعلق رکھنے والے والدین کی زیادہ سے زیادہ آمدنی تیس ہزارروپیہ سالانہ ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ بچے کی تصدیق شدہ تاریخ پیدائش سڑٹیفکیٹ یا (DOB)، خطہ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں یا BPL کنبے سے تعلق رکھنے والے بچے کے والدین میں سے کسی ایک سرپرست کے آدھار کارڈ کی کاپی یا بچے کا آدھار کارڈ اگر ہو ، والدین میں سے کسی ایک کی سٹیٹ سبجیکٹ کاپی ،بچے کے بنک کھاتہ کا نمبر اور بچے کے دو پاسپورٹ سائز فوٹو اور والدین میں سے والد یا والدہ یا گائیڈین کے ساتھ بچے کے دو پاس پورٹ سائز کی فوٹو کاپیاں ساتھ رکھنی ہو نگی۔ غریب والدین جن کی سالانہ آمدنی متذکرہ بالا رقومات کے اندر ہوگی کو چاہئے کہ وہ تمام کاغذی لوازمات مکمل کر کے محکمہ کے چائیلڈ پروٹیکشن یونٹ محکمہ سوشل ویلفیئر ضلع ہیڈکواٹر رام بن کے پاس 14 اگست تک جمع کر سکتے ہیں۔ BPL کے زمرے میں آنے والے بچوں کو تحصیلدار سے آمدنی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مزید کچھ درجوں میں پڑنے والے ستم رسیدہ والدین کے غریب اور یتیم بچوں کومزید مراعات کے ساتھ ترجیح دی جائے گی جن میں ایسے بچے جن کی پرورش کسی بے سہارا طلاق شدہ یا بیوہ عورت کے ذمہ ہو۔ ایسے بچے جن کے والدین HIV یا کوڑھ یا کسی مہلک جان لیوا مرض میں مبتلا ہوں۔ ایسے بچے جن کے والدین یا کوئی ایک جیل میں مقید ہوں۔ ایسے یتیم بچے جو وسیع کنبہ یا خاندان کے زیر پرورش ہوں اور ایسے بچے جنکے بے بس والدین جو قدرتی یا حادثاتی طور اپنے بچوں کی پرورش اور تحفظ کرنے کے لائق ہی نہیں ہوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس سلسلے میں بانہال میں کام کرنے والی رضاکار جماعت سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن بانہال یا ثواب کے رضاکاروں نے مقامی اور ضلعی سطح کی رضاکار اور سماجی جماعتوں ،کارکنوں خاص کر غریب بچوں کے مدد گار سکول اساتذہ سے اس سکیم کو ہر مستحق بچے تک پہنچانے کی اپیل کی ہے تاکہ وادی چناب خصوصا ضلع رام بن کے غریب تر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو اس سکیم کے زمرے میں لایا جا سکے اور وہ مستفید ہوسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ بانہال میں غریب اور مستحق بچوں کی مدد کیلئے پرنٹ کئے گئے فارم سٹار فوٹو سٹیٹ بانہال نزدیک جموں و کشمیر بانہال سے مفت حاصل کئے جا سکتے ہیں اور ضروتمندوں کے فارم رام بن پہنچانے میں ہرممکن مدد کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع رام بن کے دور دیہات میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے مستحق بچے موجود ہیں جو اس سکیم میں پڑتے ہیں لیکن غریبی ، کسمپرسی اور لاعلمی کا یہ عالم ہے کہ بیشتر غریب بچوں کے والدین کے پاس سٹیٹ سبجیکٹ یا ریاست کا پشتینی باشندہ ہونے کی سند موجود ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے مستحق اور غریب بچوں کا فارم داخل کرنا ناممکن بن جاتا ہے کیونکہ ریاست کا پشتینی باشندہ ہونے کی سند کاغذی لوازمات کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادھار کارڈ کی صورت میں سٹیٹ سبجیکٹ سے اْن بچوں کو مستثنیٰ رکھنا چاہئے جن کے غریب اور اَن پڑھ والدین نے ابھی تک PRC نہیں بنائی ہے۔ انہوں نے ریاستی مشن ڈائریکٹر سرینگر برائے چائیلڈ پروٹیکشن سکیم سے التجاء کی ہے کہ صوبہ جموں کے سرمائی زون اور وادی کشمیر کے سرکاری سکولوں میں گرمیوں کی دس دن کی چھٹیاں آج یعنی بدھ سے ہی پڑی ہیں اس لئے اس سکیم کے زمرے میں آنے والے غریب بچوں کے فارم داخل کرنے کی تاریخ 14 اگست 2018 سے بڑھا کر کم از کم ایک مہینے مزید بڑھائی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق بچے اس سکیم سے فائدہ اْٹھا سکیں۔ انہوں نے اساتذہ سے اس سکیم کو عملانے میں غریب بچوں کی رہبری اور رہنمائی کی اپیل کی ہے۔