ماہ صیام سے قبل ناجائز منافع خوروں کیخلاف محکمہ امور صارفین کی مہم

 سرینگر// وادی میں ماہ رمضان سے قبل ہی محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری نے بازاروں میں اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والے دکانداروں کی نکیل کسنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ محکمہ نے گراں فروشوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ اپنے گراں فروشی سے باز نہیں آئے تو انکے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ماہ رمضان میں اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور گراں بازاری کو روکنے کیلئے محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری نے قبل از وقت ہی جامع مہم شروع کر دی ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ سرینگر کے34زونوں سمیت وادی کے اطراف و اکناف میں مارچ میں مہم چلائی گئی۔محکمہ نے بتایا کہ سرینگر میں1550تجارتی مقامات کا معائنہ کیا گیا،جس کے دوران قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے3لاکھ45ہزار100روپے بطور جرمانہ وصول کیا گیا۔ یہ جرمانہ قصابوں و فرغ فروشوں،سبزی و شیر فروشوں،میوہ فروشوں اور نان فروشوں سے وصول کیا گیا۔ محکمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفورسمنٹ مشتاق احمد وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ دیگر اضلاع میں قریب8ہزار110تجارتی مراکز کا معائنہ کیا گیا،جس کے دوران1200کے قریب دکانداروں سے3لاکھ31ہزار150روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دوران6دکانداروں کے خلاف مختلف پولیس تھانوں میں کیس درج کئے گئے جبکہ25دکانوں کو سیل بھی کیا گیا۔ امسال وادی میں گراں فروشوں سے مجموعی طور پر اب تک63لاکھ90ہزار320روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا جبکہ499کیس بھی تھانوں میں درج کئے گئے۔ مشتاق احمد وانی نے کہا کہ بازاروں کا معائنہ کرنے کے دوران گلی سڑی سبزی اور بیکری کو بھی ضائع کیا گیا۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اضافی نرخوں پر اشیاء فروخت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کیلئے محکمہ کے پاس انکی شکایات کو درج کیا جانا چاہے جبکہ انہوں نے کہا کہ معصوم صارفین اور خریداروں کو لوٹنے والوں پر عقابی نظر رکھنا بھی لوگوں کی ذمہ داری ہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفورسمٹ کا کہنا تھا کہ محکمہ کی جانب سے گراں فروشوں کے خلاف مہم جاری رہے گی،اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔