مالی استحکام اور ترقیاتی کونسل کی 28ویں میٹنگ وزیر خزانہ کا اقتصادی ترقی میں تعاون اورفعال کوششوں پر زور

عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر// خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر نرملا سیتا رمن نے بدھ کو نئی دہلی میں مالیاتی استحکام اور ترقیاتی کونسل (ایف ایس ڈی سی) کی 28ویں میٹنگ کی صدارت کی۔ایف ایس ڈی سی نے دیگر امور کے ساتھ ساتھ میکرو مالیاتی استحکام سے متعلق معاملات اور ان سے نمٹنے کیلئے ہندوستان کی تیاری پر غور کیا۔ جی آئی ایف ٹی آئی ایف ایس سی کو دنیا کے اہم بین الاقوامی مالیاتی مراکز میں سے ایک بننے اور ملکی معیشت کیلئے غیر ملکی سرمائے اور مالیاتی خدمات کی سہولت فراہم کرنے کے اس کے تصور کردہ رول کو انجام دینے کے واسطے اس کے اسٹریٹجک رول میں تعاون کے لیے جاری بین ضابطہ امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایف ایس ڈی سی نے ایف ایس ڈی سی کے فیصلوں اور مرکزی بجٹ کے اعلانات پر عمل درآمد کے لیے حکمت عملی کی تشکیل سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ان میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ درج ذیل شامل ہیں:کے وائی سی کے یکساں اصولوں کا تعین، مالیاتی شعبے میں کے وائی سی ریکارڈز کا بین استعمال، اور کے وائی سی کے عمل کو آسان بنانا اور ڈیجیٹلائزیشن،سماجی کاروباری اداروں کی طرف سے سوشل اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے فنڈ جمع کرنے کا کام شروع کیا جانا، آن لائن ایپس کے ذریعے غیر مجاز قرضوں کے نقصان دہ اثرات کو روکنے اور ان کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات۔ایف ایس ڈی سی نے ملکی اور عالمی میکرو فنانشل صورتحال پر غور کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اراکین کو مسلسل چوکسی برقرار رکھنے اور ابھرتے ہوئے مالی استحکام کے خطرات کا پتہ لگانے اور مالیاتی شعبے کی لچک کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے واسطے اپنی فعال کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایف ایس ڈی سی کے اراکین نے مالیاتی شعبے کو مزید ترقی دینے کے لیے بین الضابطہ ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کا بھی فیصلہ کیا تاکہ یہ جامع اقتصادی ترقی کے لیے مطلوبہ مالی وسائل فراہم کرتا رہے۔ایف ایس ڈی سی نے آر بی آئی کے گورنر کی سربراہی میں ایف ایس ڈی سی سب کمیٹی کی طرف سے کی گئی سرگرمیوں اور ایف ایس ڈی سی کے سابقہ فیصلوں پر ممبران کی طرف سے کی گئی کارروائی کا بھی جائزہ لیا۔میٹنگ میں مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر بھاگوت کشن راؤ کراڈ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر جناب شکتی کانت داس، گ ؛ فائننس سکریٹری اور سکریٹری، محکمہ اخراجات ، وزارت خزانہ ڈاکٹر ٹی وی سوماناتھن؛اقتصادی امور کے محکمے کے سکریٹری جناب اجے سیٹھ، مالیاتی خدمات کے محکمہ کے سکریٹری ؛ ڈاکٹر وویک جوشی، محکمہ محصولات کے سکریٹری جناب سنجے ملہوترا، کارپوریٹ امور کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر منوج گوول؛ لیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے سکریٹری ایس کرشنن، وزارت خزانہ کے چیف اکنامک ایڈوائزر ڈاکٹر وی اننتھ ناگیشورن ، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا کی چیئرپرسن مادھبی پوری بْچ، انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا کے چیئرپرسن دیبایش پانڈا؛ پنشن فنڈ ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئر پرسن ڈاکٹر دیپک موہنتی؛ انسولوینسی اینڈ بینکرپٹسی بورڈ آف انڈیا کے چیئر پرسن روی متل؛ انٹرنیشنل فائننشیل سروسز سینٹرز اتھارٹی کے چیئر پرسن کے راجا رمن اور اقتصادی امور کے محکمے کے تحت کام کرنے والی ایف ایس ڈی سی کے سیکریٹری موجود تھے ۔