یو این آئی
نئی دہلی//مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے کھاد کی سپلائی میں آئی رکاوٹ کے پیشِ نظر سرکار نے اس شعبے میں ملک کو خود کفیل بنانے کی سمت میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے قومی یوریا سرمایہ کاری پالیسی 2026 کو منظوری دی ہے جس میں ملک بھر میں نئے یوریا پلانٹ لگائے جائیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کو یہاں ہوئی اقتصادی امور کی مرکزی کابینہ کی کمیٹی نے محکمہ کھاد کی اس سلسلے کی تجویز کو منظوری دی۔وزیرِ اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے بعد میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس پالیسی کے عمل میں آنے کے بعد ملک کھاد کے شعبے میں تیزی سے خود کفالت کی طرف بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت نئے پلانٹ لگانے کے لیے سرکاری، کوآپریٹیو اور نجی تینوں شعبوں سے تجاویز ملی ہیں۔ مسٹر ویشنو نے کہا کہ ابھی ملک میں چار کروڑ ٹن یوریا کی کھپت ہوتی ہے جس میں سے ایک کروڑ ٹن درآمد کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کے پوری طرح عمل میں آنے کے بعد یوریا درآمد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نئی پالیسی ملک بھر میں گیس پر مبنی یوریا پلانٹ قائم کرنے کے لیے یوریا کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ دے گی۔ اس سے خود کفالت کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ نئی پالیسی میں 2012 کی انویسٹمنٹ پالیسی کے مقابلے میں تین اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلی تبدیلی میں زیادہ شفافیت کے لیے فکسڈ اور نان فکسڈ لاگتوں کو الگ کرنا، دوسرا 12 فیصد کی کم از کم اور 16 فیصد کی زیادہ سے زیادہ حد کے ساتھ ‘ریٹرن آن ایکویٹی کا ایک عملی بینڈ شروع کرنا اور تیسرا موجودہ شرحِ مبادلہ کی بنیاد پر چار سال بعد فکسڈ لاگت کو ہندستانی کرنسی میں تبدیل کر کے غیر ملکی کرنسی کے خطرے کو کم کرنا ہے۔ اندازہ ہے کہ ان اقدامات سے 2012 کی انویسٹمنٹ پالیسی کے مقابلے میں 2026 کی قومی یوریا انویسٹمنٹ پالیسی کے تحت قائم ہر پلانٹ کے لیے 250 کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت ہوگی۔یوریا انویسٹمنٹ پالیسی کے تحت ہی نئے پلانٹس قائم کیے جائیں گے۔ محکمہ کھاد نے یوریا کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے 2012 میں توسیعی، احیا، بران فیلڈ اور گرین فیلڈ پروجیکٹوں کے لیے انویسٹمنٹ پالیسی کو حتمی شکل دی تھی۔ نئی انویسٹمنٹ پالیسی 2012 کے تحت، کل چھ نئے یوریا پلانٹ قائم کیے گئے تھے جن میں سرکاری شعبے کے چار اور نجی کمپنیوں کے دو پلانٹ شامل ہیں۔ سال 2012 کی پالیسی کے تحت نئی سرمایہ کاری کی مدت اکتوبر 2019 میں ختم ہو گئی تھی۔ابھی ملک میں 33 چالو یوریا پلانٹ ہیں جن کی کل صلاحیت 269.42 ٹن ہے۔ یوریا کی گھریلو پیداوار اور مانگ کے درمیان فرق ہے، جسے یوریا کی درآمد سے پورا کیا جاتا ہے۔