وسیم فاروق
اکرم کو ہمیشہ لگتا تھا کہ زندگی کا اصل مقصد شاید اولاد ہی ہوتا ہے۔
وہ ایک عام آدمی تھا۔ نہ کوئی بڑی جائیداد، نہ کاروبار اور نہ شہرت۔ اس کی کل کائنات ایک چھوٹے سے گاؤں کے کچے مکان میں سمٹی ہوئی تھی اور اس کائنات کا سورج اس کا اکلوتا بیٹا حمزہ تھا۔
حمزہ کی پیدائش کے دن اکرم نے پہلی بار خدا کے حضور سجدۂ شکر میں اتنے آنسو بہائے تھے کہ مسجد کے امام نے بعد میں مسکرا کر کہا تھا:
’’لگتا ہے اللہ نے تمہیں دنیا کی سب سے قیمتی دولت دے دی ہے۔‘‘‘
اور واقعی ایسا ہی تھا۔
حمزہ کی پیدائش کے بعد اکرم کی دنیا بدل گئی تھی۔
اب اس کے ہر خواب کا مرکز بیٹا تھا۔
گرمیوں کی دوپہروں میں جب پورا گاؤں آرام کرتا، اکرم مزدوری میں پسینہ بہا رہا ہوتا تاکہ حمزہ کی تعلیم کے لئے کچھ پیسے جمع کرسکے۔
سردیوں کی راتوں میں جب ہوا دروازوں کی درازوں سے سیٹی بجاتی اندر آتی، وہ آہستگی سے اٹھ کر بیٹے کے بستر کے پاس جاتا، رضائی درست کرتا اور اس کے سرد ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر گرم کرتا۔
حمزہ کو کبھی اندازہ نہیں ہوا کہ اس کے جوتے وقت پر کیسے بدل جاتے تھے، اس کی کتابیں ہمیشہ نئی کیوں ہوتیں اور اسکول کی فیس کبھی دیر سے کیوں جمع نہیں ہوتی۔
اسے صرف اتنا معلوم تھا کہ ابا ہیں، اور ابا ہر مسئلہ حل کر دیتے ہیں۔
اکرم نے واقعی کبھی ’’نہیں‘‘ کہنا سیکھا ہی نہیں تھا۔
بازار میں اگر حمزہ کسی کھلونے کی طرف اشارہ کرتا تو اکرم اپنی جیب نہیں دیکھتا تھا، بیٹے کا چہرہ دیکھتا تھا۔
اگر وہاں مسکراہٹ کی ایک کرن بھی نظر آتی تو کھلونا خرید لیا جاتا، چاہے اس کے بعد کئی دن اپنے لئے نئی قمیض خریدنے کا ارادہ ملتوی کرنا پڑتا۔
وقت پانی کی طرح بہتا گیا۔کھلونوں کی جگہ کتابوں نے لے لی۔
کتابوں کی جگہ خوابوں نے۔
اور خوابوں کی جگہ خواہشوں نے۔
حمزہ اب جوان ہو چکا تھا۔
لمبا قد، روشن آنکھیں اور ذہین دماغ۔
اکرم جب اسے دیکھتا تو دل ہی دل میں فخر سے بھر جاتا۔
اسے لگتا جیسے اس کی تمام محنتیں رنگ لے آئی ہیں۔
مگر وقت کے ساتھ ایک عجیب تبدیلی بھی آنے لگی تھی۔
حمزہ اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔
وہ اب ہر بات پر اپنی رائے رکھتا تھا۔
ہر مشورے پر سوال کرتا تھا۔
اور ہر نصیحت میں مداخلت محسوس کرتا تھا۔
اکرم کو یہ تبدیلی فطری لگتی تھی۔
آخر جوانی اپنے ساتھ آزادی کی خواہش بھی تو لاتی ہے۔
مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ ان کے درمیان ایک خاموش فاصلہ بھی پیدا ہو رہا ہے۔
پہلے حمزہ شام کو گھر آکر گھنٹوں ابا کے ساتھ بیٹھتا تھا۔
اب وہ موبائل یا لیپ ٹاپ میں مصروف رہتا۔
پہلے ہر کامیابی سب سے پہلے ابا کو سناتا تھا۔
اب دوستوں کو بتاتا، پھر کبھی موقع ملتا تو گھر میں ذکر کرتا۔
اکرم محسوس کرتا تھا کہ کچھ بدل رہا ہے، مگر سمجھ نہیں پاتا تھا کہ کیا۔
ایک رات وہ صحن میں بیٹھا تھا۔
آسمان پر چاند مکمل تھا۔
حمزہ اس کے پاس آیا اور بولا:
’’ابا، آپ نے کبھی سوچا تھا کہ آپ گاؤں سے باہر جا کر کچھ بڑا کریں گے؟‘‘
اکرم مسکرایا۔
’’بیٹا، میرا خواب تم تھے۔ تم سے بڑا مجھے کچھ نظر ہی نہیں آیا۔‘‘
حمزہ خاموش ہوگیا۔
مگر اس خاموشی میں عجیب سی بے چینی تھی۔
شاید اس نسل کے خواب مختلف تھے۔
شاید وہ آسمان کو چھونے نکلے تھے جبکہ اکرم صرف ایک مضبوط چھت بنانے میں عمر گزار چکا تھا۔
پھر ایک دن وہ خط آیا جس نے سب کچھ بدل دیا۔
دبئی کی ایک بڑی کمپنی سے ملازمت کی پیشکش۔
بہترین تنخواہ۔
روشن مستقبل۔
بڑے امکانات۔
حمزہ کی خوشی دیدنی تھی۔
وہ بار بار آفر لیٹر پڑھتا، دوستوں کو فون کرتا، مستقبل کے منصوبے بناتا۔
مگر اکرم خاموش تھا۔
اس نے کئی بار کاغذ کو غور سے دیکھا۔
اس کے دل میں ایک انجانا خوف سر اٹھا رہا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ دنیا مواقع دیتی ہے، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ دنیا قیمت بھی وصول کرتی ہے۔
رات کے کھانے کے بعد اس نے دھیرے سے کہا:
’’بیٹا، ابھی تمہارے پاس تجربہ کم ہے۔ تھوڑا انتظار کرلو۔ یہاں بھی اچھی نوکری مل جائے گی۔‘‘
حمزہ کا چہرہ فوراً بدل گیا۔
’’کیوں ابا؟‘‘
’’بس… دل نہیں مانتا۔‘‘
’’یا آپ مجھے جانے نہیں دینا چاہتے؟‘‘
اکرم چونکا۔
’’ایسی بات نہیں۔‘‘
مگر حمزہ کے اندر برسوں کی جمع شدہ بے چینی جیسے پھٹ پڑی۔
’’ابا، آپ ہر بات میں ڈر جاتے ہیں۔ دنیا بدل چکی ہے۔ لوگ آگے بڑھتے ہیں۔ آپ ابھی بھی ماضی میں رہتے ہیں۔‘‘
اکرم خاموش رہا۔
حمزہ کی آواز بلند ہوتی گئی۔
’’دنیا داری کا تقاضا ہے کہ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھا جائے۔ میں رکے رہنے کے لئے پیدا نہیں ہوا۔‘‘
اکرم نے حمزہ کا، جو بت اپنے اندر تخلیق کیا تھا، اس جملہ نے اس بت کو پاش پاش کردیا ۔
ایسا لگا جیسے کسی نے اس کی ساری زندگی کو ایک لفظ میں سمیٹ کر غیر ضروری قرار دے دیا ہو۔
ماضی۔
تو کیا وہ صرف ماضی تھا؟
وہ رات اکرم نے جاگ کر گزاری۔
اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایک منظر آتا رہا۔
وہ دن جب حمزہ پہلی بار اس کے کندھوں پر بیٹھا تھا۔
وہ رات جب بخار میں تپتے بچے کو گود میں اٹھائے اسپتال بھاگا تھا۔
وہ لمحہ جب حمزہ نے پہلی بار ’’ابا‘‘ کہا تھا۔
کیا یہ سب واقعی صرف ماضی تھا؟
کچھ دن بعد حمزہ چلا گیا۔
ایئرپورٹ پر اکرم نے مسکرا کر اسے رخصت کیا۔
اس کے ہاتھ دعاؤں کے لئے اٹھے ہوئے تھے۔
مگر دل جیسے سینے میں نہیں، کسی اندھی کھائی میں گر رہا تھا۔
جہاز اڑ گیا۔
اور اکرم پہلی بار خود کو واقعی تنہا محسوس کرنے لگا۔
گھر واپس آیا تو ہر چیز ویسی ہی تھی۔
مگر کچھ بھی ویسا نہیں تھا۔
حمزہ کا کمرہ۔
اس کی کتابیں۔
اس کا پرانا کرکٹ بیٹ۔
الماری میں رکھی ہوئی بچپن کی تصویریں۔
ہر چیز جیسے خاموش ہو کر اکرم کو دیکھ رہی تھی۔
راتوں کو وہ اکثر دروازے کی طرف دیکھتا۔
پھر خود ہی مسکرا دیتا۔
جانتا تھا کہ آنے والا کوئی نہیں۔
مہینے سال بن گئے۔
فون آتے رہے، مگر کم ہوتے گئے۔
پہلے روزانہ۔
پھر ہفتہ وار۔
پھر کبھی کبھار۔
باتوں میں بھی پہلے جیسی گرمی نہ رہی۔
حمزہ مصروف رہتا تھا۔
اکرم سمجھنے کی کوشش کرتا تھا
مگر دل آخر دل تھا۔
ایک دن بارش ہو رہی تھی۔
اکرم پرانے صندوق سے کچھ سامان نکال رہا تھاکہ
اچانک ایک تصویر ہاتھ لگ گئی۔
اس تصویر میں وہ اور چھوٹا سا حمزہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے تھے۔
دونوں کے چہروں پر ایسی خوشی تھی جیسے دنیا میں کوئی غم موجود ہی نہ ہو۔
تصویر کے پیچھے کچھ لکھا تھا۔
یہ اکرم کی اپنی تحریر تھی:
’’ماضی کے بغیر حال نہیں بنتا، اور حال کے بغیر مستقبل نہیں آتا۔‘‘
اکرم دیر تک تصویر کو دیکھتا رہا۔
پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
مگر یہ شکوے کے آنسو نہیں تھے۔
یہ قبولیت کے آنسو تھے۔
وقت نے اسے ایک بڑی حقیقت سکھا دی تھی۔
محبت قبضہ نہیں ہوتی۔
محبت آزاد کرنا بھی جانتی ہے۔
اکرم نے تصویر واپس صندوق میں رکھی۔
کھڑکی سے باہر دیکھا۔
بارش تھم چکی تھی۔
بادل چھٹ رہے تھے۔
دور کہیں ہلکی سی دھوپ نمودار ہو رہی تھی۔
اس نے آہستگی سے کہا:
’’شاید ہر باپ کو ایک دن یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ بچوں کو صرف چلنا نہیں سکھانا ہوتا، ان کے بغیر جینا بھی سیکھنا پڑتا ہے۔‘‘
پھر کئی برس بعد اس نے اپنی زبان سے وہ لفظ ادا کیا جسے وہ ہمیشہ دفن کئے رکھتا تھا۔
’’نہیں…‘‘
نہیں، اب وہ ہر شام دروازے کی طرف دیکھ کر انتظار نہیں کرے گا۔
نہیں، اب وہ ہر فون کی گھنٹی پر چونک نہیں اٹھے گا۔
نہیں، اب وہ اپنے دکھ کو امید کے لباس میں نہیں چھپائے گا۔
کیونکہ اسے سمجھ آچکا تھا کہ بعض رشتے ختم نہیں ہوتے، صرف شکل بدل لیتے ہیں۔
اور بعض لوگ دور جا کر بھی دل میں رہتے ہیں، مگر زندگی میں واپس نہیں آتے۔
آسمان پر شام اتر رہی تھی۔
اکرم نے آنکھیں بند کیں۔
اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
درد اب بھی موجود تھا، مگر اب وہ زخم نہیں رہا تھا۔
وہ ایک یاد بن چکا تھا۔
ایک ایسا ماضی…
جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
���
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛8803003787