گلاسگو//اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے سربراہ اجلاس کے دوران آب و ہوا سے متعلق اہداف کو بڑھانے پر زور دیا گیا۔ میزبان ملک برطانیہ نے اس سلسلے میں ماحولیاتی معاہدے سے متعلق سیاسی فیصلوں پر مبنی ایک مسودہ پیش کیا۔ اس مسودے پر گلاسگو میں جاری عالمی موسمیاتی کانفرنس میں آیندہ بات چیت کی جائے گی۔امریکا اور چین ماحولیاتی تبدیلیوں کا ملکر مقابلہ کرنے پر متفق ہو گئے۔ماحولیاتی آلودگی کے سب سے بڑے ذمہ داروں نے گلاسگو میں معاہدے پر دستخط کر دیے۔چین نے میتھیں کے اخراج میں کمی کے معاہدے پر پہلی بار آمادگی ظاہر کی ہے اور چین کوئلے کے استعمال میں 2026 تک مرحلہ وار کمی پر تیار ہو گیا ہے تاہم چین نے کوئلے کی مقدار میں کمی سے متعلق تفصیلات میں جانے سے گریز کیا ہے۔کوپ 26 کے موقع پر پریس کانفرنس میں بورس جانسن نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کو نہ روکا گیا تو ہم جانتے ہیں کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے، آنے والی نسلوں کو آب و ہوا کی تبدیلیاں روک کر بہترین تحفہ دے سکتے ہیں۔مسودی میں تمام شریک ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ آب و ہوا سے متعلق 2030 ء کے لیے طے کیے گئے اپنے قومی اہداف پر نظر ثانی کریں اور اسے مزید بہتر بنائیں۔ مسودے میں پہلی بار تمام ممالک سے کوئلے اور ایندھن پر سبسڈی کے بتدریج خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اجلاس سے خطاب میں مقررین نے زور دیا کہ دنیا کو اس وقت مضر گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے لیے ٹھوس اور موثر وعدوں کی ضرورت ہے۔