جب سے کورونا وائرس کی وجہ سے انسان مقید ہوکر رہ گئے ، ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی واقع ہوگئی ہے ۔’یہ کورونا وائرس کی وبائی صورتحال سے متعلق واحد مثبت بات ہے‘،اس کا اظہار وہ افراد کررہے ہیں جنہیں ماحولیاتی آلودگی کو لیکر تشویش لاحق تھی۔ہمارے یہاںسرینگر اور جموں کے علاوہ بھارت کے سبھی بڑے بڑے شہروں سے اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ وہاں کورونا پابندیوں کی وجہ سے ماحولیات میں نمایاں اور خوشگوارتبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔اہلیان دلی نے گذشتہ برس دہائیوں بعد ہمالیائی پہاڑوں کی زیارت کی اور یہی حال بھارت کے دوسرے میٹرو پولیٹن شہروں کا ہے جہاں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے مدتوں بعد شفاف ہوا کا نظارہ کیا ہے لیکن افسوس صد افسوس! کہ وہ آزادی کے ساتھ گھومنے پھرنے سے قاصر ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ پورے عالم میں کورونا وائرس کے پھیلنے سے صنعتی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔ کارخانوں کی چمنیوں سے ماحول کو آلودہ کرنے والے دھوئیں کے اخراج میں وقفہ پیدا ہو گیا ہے، نائٹروجن آکسائیڈ کا اخراج بھی کم ہو چکا ہے جس کے باعث ہوا کے معیار میں بہت بہتر ی آئی ہے۔
وبائی صورتحال کو قابو کرنے کیلئے عائد پابندیوں نے اقتصادی معمولات میں بندشیں پیدا کر رکھی ہیں جن سے ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بھی شدید کمی واقع ہو چکی ہے۔اطلاعات کے مطابق صرف چین، جہاں 2019کے اواخر میں کورونا وائرس کو پہلی بار ظاہر ہوتا ہوا دیکھا گیا، میں اس گیس کے اخراج میں پچیس فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
وبا ئی صورتحال نے انسانوں کو ان کے گھروں تک محدود کر رکھا ہے، سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے اور ایسے میں شہروں کے قریب رہنے والی جنگلی حیات کے وارے نیارے ہو گئے ہیں۔ سڑکوں کے کنارے اور پارکوں میں مختلف قسم کے پرندے اور زمین کے اندر رہنے والے جانور اطمینان کے ساتھ پھرتے نظر آرہے ہیں۔لیکن یہ بات باعث تشویش ہے کہ وبائی صورتحال کے دوران ایک بار استعمال کی جانی والی چیزوں، یعنی ڈسپوزیبل اشیاء کا استعمال کئی گنا بڑھ گیا ہے جس سے بے شک زمین پر پڑنے والے منفی اثرات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔اور تو اوراسپتالوں کے اندر استعمال ہونے والے پلاسٹک کے دستانے اب عام دکانوں میں بھی استعمال ہونے لگے ہیں۔
خوفناک کورونا وائرس کا متذکرہ بالا مثبت اثر ، کہ ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ، تاہم ماہرین کے مطابق دیرپا نہیں ہے۔ ماہرین کہتے ہیں ’’ یہ درست ہے کہ اس وقت ماحول کی آلودگی میں کمی ہوئی ہے اور مزید بھی ہو رہی ہے۔ لیکن اس کے طویل المدتی اثرات زیادہ منفی ہوں گے، کیونکہ اس وقت صنعتیں بند ہیں، سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے، جہازوں کی پروازیں کم ہیں اور اقتصادی سرگرمیاں انتہائی سست روی کا شکار ہیں، لیکن جب یہ وبا ختم ہوگی تو اقتصادی بحالی کے لئے تیزی سے کام شروع ہوگا۔ اس وقت آج کے خوف کے سبب لوگ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کم اور ذاتی گاڑیوں کا زیادہ کریں گے اور آلودگی میں ایک دم اضافہ شروع ہو جائے گا‘‘۔
ایک اور ماہر ماحولیات کے بقول وبائی صورتحال ختم ہوتے ہی دنیا بھر میں تیز رفتاری سے کام شروع ہو جائے گا اور گرین ہاؤس گیسوں کا پہلے سے زیادہ اخراج شروع ہو جائے گا، وہ رقومات بھی جو گلوبل وارمنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لئے مختص کئے گئے تھے ، ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے نام پر ، اقتصادی سرگرمیوں کی مد میں خرچ کرنے کیلئے واگذار کی جائیں گی ، اور یوں ایسی سرگرمیاں ماضی کی نسبت زیادہ تیز ہو جائیں گی اور آلودگی کو کم کرنے کے لئے ہونے والا کام رک جائے گا جو ماحولیات پر حد سے زیادہ خراب اثرات کا باعث بنے گا ۔ماہرین کے اس خیال کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسا صاف لگ رہا ہے کہ چہرے کا ماسک اب انسانی لباس کا مستقل حصہ بن گیا ہے کیونکہ کورونا کی صورتحال سے چھٹکارا پاتے ہیں اولاد آدم کوآلودہ ترین ماحول کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اس ممکنہ ماحولیاتی آلودگی کے نتیجے میں سینی ٹائزیشن بھی ناگزیر ہوگی اور یوں کورونا پروٹوکول کا بیشتر حصہ انسانی زندگی کا لازمی حصہ بننے جارہا ہے۔
ایک طرف حال یہ ہے کہ ہوا میں آلودگی قابل ذکر حد تک کم ہوئی ہے لیکن دوسری طرف کورونا وائرس نے اشرف المخلوقات کو دہشت زدہ کر رکھا ہے۔صرف بھارت میں روزانہ بنیادوں پر لاکھوں افراد متاثر ہورہے ہیں اور ہزاروں موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ فی الحال ماہرین کے ساتھ ساتھ حکمران بھی بے بس دکھائی دے رہے ہیں اور عام لوگوں کی نظروں سے بھی نجات کے آثار معدوم ہیں۔ سنسان سڑکیں اور ویران شاپنگ مراکز انسان کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں یہاں تک کہ جو لوگ ابھی ماضی قریب تک ہر ہفتے ہوائی جہازوں میں سفر کرتے ہوئے اپنی قسمت پر اترتے تھے ،وہ طبی آکسیجن کی تلاش میں سرگرداں نظر آرہے ہیں ۔