سرنکوٹ//لگ بھگ8سال قبل محکمہ تعمیر ات عامہ کی طرف سے لٹھونگ کوکانی ہوڑی سے جوڑنے کیلئے ایک پل کی تعمیر کام شروع کیاگیاتھاتاہم اس کی تکمیل آج تک نہیں ہوپائی ۔ابتداء میں پل کی تعمیر کاکام تیزی سے ہوا اوراس کیلئے پنہالی نالہ پر تین پلر کھڑے کئے گئے لیکن اس کے بعد محکمہ نے پھر اس کی جانب مڑ کر دیکھاتک نہیں اور آج بھی عام لوگ و روزانہ سکول جانے والے طلاب کو اپنی جان جوکھم میں ڈال کر عبور و مرور کرناپڑتاہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ تعمیری کام شروع ہونے پر انہیں خوشی ہوئی تھی کہ آر پار جانے میں خطرہ مول نہیں لیناپڑے گامگر یہ کام ادھوراچھوڑ دیاگیاہے اور وہ دریا کے بیچوں بیچ گزرنے پر مجبور ہیں۔بیشتر لوگ اس بات پر پریشان رہتے ہیں کہ وہ اپنے سکول جانے والے بچوں کو دریاعبور کرانے کیلئے ان کے ساتھ جائیں یاکام پر ۔مقامی شہریوں محمد یوسف، محمد امین،محمد شکیل ،محمد نزاکت، مشتاق احمدوغیرہ نے بتایاکہ پل نہ ہونا ان کیلئے بہت بڑی پریشانی کا باعث بناہواہے لیکن حکام کی طرف سے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ۔ان کاکہناہے کہ ذرا سی بارش ہوجانے پر ان کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں اور پل کی عدم موجودگی میں ان کے بچے وقت پر سکول نہیں پہنچ پاتے اور نہ ہی واپس گھر آپاتے ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ بچوں کو بارشوں کے موسم میں سکول سے ہی چھٹی کرناپڑتی ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ متعلقہ حکام اور مقامی نمائندے کے پاس بھی گئے اور انہیں یہ یقین دلایاگیاتھاکہ بہت جلد تعمیری کام شروع کیاجائے گالیکن ابھی تک یہ کام شروع نہیں ہوا۔ لوگوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانی ہوڑی علاقے کو بالکل نظراندازکردیاگیاہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اب پل پر چھت ڈالنا باقی تھاتاہم کام نہیں کیاجارہا ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ اگر فنڈز دستیاب ہیں توپھر کام مکمل کیاجائے تاکہ انہیں روز روز کی پریشانی سے نجات مل سکے ۔اے ای ای سرنکوٹ اشفاق مغل نے بتایاکہ فنڈز کی کمی کے باعث کام نہیں ہوسکاتاہم اب ٹینڈر کردیئے گئے ہیں اور کام جلد شروع کیاجائے گا۔