عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//بی جے پی جموں و کشمیر نے جنرل سکریٹری اشوک کول کی قیادت میں چرچ لین، سری نگر میں ایک تنظیمی میٹنگ منعقد ہوئی ۔جس پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کی مزید مضبوطی، رابطہ کاری کی ہموار ی اور کشمیرمیں بی جے پی کی موجودگی اور اثر و رسوخ کو گہرا کرنے کے لیے مستقبل کی حکمت عملیوں کے تعین پر تبادلہ خیال ہوا ۔کول نے ایک مضبوط اور نظم و ضبط والے تنظیمی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی کی پھیلتی ہوئی رسائی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کی ترقی کا انحصار نچلی سطح پر بااختیار بنانے، لوگوں کے ساتھ مسلسل رابطہ اور پارٹی کے اصولوں کے تئیں غیر متزلزل وابستگی پر ہے۔ کول نے بی جے پی کے پیغام کو علاقے کے کونے کونے تک پہنچانے میں پارٹی عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ نئے جوش اور لگن کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارٹی کا حتمی مقصد عوام کی بے لوث خدمت کرنا اور جموں و کشمیر میں جمہوری حکمرانی کے جذبے کو مضبوط بنانا ہے۔ادھرپارٹی ترجمان الطاف ٹھاکر نے عمر عبداللہ کی زیرقیادت حکومت پر سخت تنقید کی ہے جسے انہوں نے سیلاب سے بچاؤ کا کوئی منصوبہ وضع کرنے میں اس کی “مکمل ناکامی” قرار دیا ہے، حالانکہ وادی کو صرف دو دن کی بارش کے بعد ایک بار پھر سیلاب جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ٹھاکر نے کہا کہ حکومت نے لوگوں اور اہلکاروں کو ہنگامی حالات کے لیے تیار کرنے کے لیے ایک بھی موک ڈرل نہیں کی، انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے 2014 کے تباہ کن سیلاب سے “کوئی سبق نہیں سیکھا”۔