عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری نے کہا ہے کہ تمام جماعتیں لداخ کے مفادات کے لیے متحد ہوئیں، اور مرکز ان کی خواہشات پر بات چیت پر مجبور ہوگیا۔ انہوں نے کہا، لداخ سے سبق لیتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے تاکہ مرکز کو عوام اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے پر مجبور کیا جا سکے تاکہ جموں و کشمیر کے مسائل حل کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہایت ضروری ہے کہ مرکز جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بات چیت شروع کرے تاکہ ان کے حقیقی مسائل اور شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کوئی کوشش کی جاتی ہے تو اپنی پارٹی اس کی حمایت کرے گی۔وہ سانبہ ضلع کے وردھی فارم راجپور کہولر برپور میں ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات فوری کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات زمینی سطح پر جمہوریت کو مضبوط بنانے اور عوام کو اپنے مقامی مسائل کے حل کے لیے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے اہم ہیں۔عوامی مسائل حل کرنے میں منتخب حکومت کی ناکامی پر بات کرتے ہوئے بخاری نے کہا ، بدقسمتی سے جموں و کشمیر میں بہت سے لوگ یا تو سیاسی خانوادوں کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں یا مذہبی وابستگیوں کی بنیاد پر۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مخصوص جماعت نے جموں میں 29 نشستیں حاصل کیں جبکہ دوسری جماعت نے وادی میں 42 نشستیں جیتیں۔ دونوں جماعتوں نے مختلف انداز میں مذہب کے نام پر ووٹروں کو گمراہ اور راغب کیا۔انہوں نے مزید کہا، تاہم جموں و کشمیر میں انتخابات ہمیشہ ایسے نہیں ہوتے تھے۔ ماضی میں لوگ فرقہ وارانہ یا مذہبی بنیادوں پر ووٹ نہیں دیتے تھے۔ تاہم، بی جے پی نے 2024 کے اسمبلی انتخابات میں گاندھی کی اس روشنی کی کرن کو بجھا دیا، جو 1947میں انہوں نے دیکھی تھی۔حکومت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے بخاری نے کہا کہ پارٹی نے انتخابات کے دوران جھوٹے وعدوں اور غلط بیانی کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا۔ بخاری نے کہا، ہمیں بتایا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کے لیے 28,400 کروڑ روپے کے صنعتی ترقیاتی پیکیج سے پائیدار ترقی آئے گی اور بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ 28,400 کروڑ روپے کے اس پیکیج میں سے تقریبا ً19,500 کروڑ روپے کی سبسڈی مبینہ طور پر جموں و کشمیر سے باہر کے صرف 22 صنعت کاروں کو دی گئی۔