یواین آئی
واشنگٹن// امریکی امور خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، لبنان کے صدر جوزف عون نے واشنگٹن کے اپنے سرکاری دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ میں ہونے والی اس ملاقات میں “امریکہ-اسرائیل-لبنان سہ فریقی فریم ورک” پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مارکو روبیو نے واشنگٹن کے اس عزم کو دہرایا کہ امریکہ “سہ فریقی فریم ورک کے کامیاب نفاذ” اور لبنان کی “امن، معاشی بحالی اور اپنے عوام کے لیے ایک بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کی کوششوں” کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔دوسری جانب، لبنانی صدارت کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر عون نے روبیو کے ساتھ ملاقات میں “لبنان، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی فریم ورک کے نفاذ کے حوالے سے لبنان اور امریکہ کے موقف کو ہم آہنگ کرنے اور پہلے پائلٹ زون (تجرباتی علاقے) سے اسرائیل کے انخلا کو یقینی بنانے کی ضرورت” پر زور دیا۔صدر عون نے امریکہ سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ لبنانی فوج اور دیگر عسکری اداروں کو زیادہ مضبوط مدد فراہم کرے، اور لبنان کی معیشت میں اپنا کردار بڑھاتے ہوئے خاص طور پر توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کرے۔وزیر خارجہ روبیو نے ان امور پر صدر عون کے موقف کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ “لبنان کی تمام سرزمین پر خودمختاری کی بحالی، سہ فریقی فریم ورک پر عمل درآمد، معاشی خوشحالی کی واپسی اور ملک بھر میں ریاستی رٹ قائم کر کے لبنان کے فعال کردار کو دوبارہ زندہ کرنے” کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تائید کرتے ہیں۔روبیو نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ لبنان کو کسی دوسرے مذاکراتی راستے سے نہیں جوڑا جا سکتا، لبنان کی خودمختاری کا استعمال صرف لبنان کے آئینی اداروں کے فیصلوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔”چار روزہ سرکاری دورے پر ہفتے کے روز واشنگٹن پہنچنے والے صدر عون کی منگل کے دن وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات طے ہے۔لبنانی صدارت کے پچھلے بیان کے مطابق، لبنانی صدر کی امریکی سینیٹ کے ارکان اور ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔یاد رہے کہ امریکہ کی ثالثی میں دونوں فریقین کے درمیان 26 جون کو فریم ورک معاہدے پر دستخط ہونے کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری ہیں۔