جموں //جموں و کشمیر کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے سینئر لیڈر چودھری لال سنگھ نے کہا کہ وادی کشمیر میں اپنے آپ کو لیڈر کہنے والے لوگ بغیر سیکورٹی جنوبی کشمیر کے دیہات کا دورہ کرکے دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں الیکشن لڑنے والے لوگ جو اپنے آپ کو لیڈر کہتے ہیں، کو کشمیری عوام درحقیقت اپنے لیڈر ہی نہیں مانتے ہیں۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’کیا کشمیر میں ووٹ ڈالے جاتے ہیں؟ اگر ووٹ ڈالے جاتے ہیں تو کتنے فیصد ڈالے جاتے ہیں؟‘۔ لال سنگھ جنہوں نے گذشتہ ماہ پارٹی کی ہدایت پر ریاستی کابینہ سے استعفیٰ دیا، نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں گاندھی نگر میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کشمیر میں الیکشن لڑنے والے کسی بھی مین اسٹریم سیاسی لیڈر کا نام لئے بغیر کہا ’اگر کشمیر کا کوئی شخص اپنے آپ کو لیڈر کہتا ہے تو وہاں دیہات میں گھوم کر دکھائیں‘۔ انہوں نے کہا ’یہ لوگ کہتے ہیں کہ جموں میں کوئی لیڈر نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کشمیر میں کوئی لیڈر نہیں ہے۔ اگر کشمیر میں کوئی لیڈر ہے تو ہماری طرح گھر گھر گھوم کر دکھائیں۔ وہ شوپیان کیوں نہیں جاتے ہیں؟ پلوامہ کیوں نہیں جاتے ہیں؟ کشمیر کے نکڑ نکڑ میں کیوں نہیں جاتے ہیں؟ جموں میں تو لیڈر گھوم رہے ہیں۔ کشمیری تو اُن کو لیڈر ہی نہیں مانتے ہیں۔ کیا وہاں ووٹ پڑتے ہیں۔ کتنے فیصد ووٹ پڑتے ہیں؟ یہاں لوگ الیکشن لڑتے ہیں، بات کرتے ہیں۔ آگے چلتے ہیں ، جدوجہد کرتے ہیں‘۔ لال سنگھ نے کہا کہ وہ فی الوقت بی جے پی سے الگ ہوکر تیسرے محاذ کے قیام کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ کٹھوعہ واقعہ (عصمت دری و قتل واقعہ) کی سی بی آئی انکوائری کرانا اس وقت میری اور میرے لوگوں کی پہلی ترجیح ہے‘۔ لال سنگھ نے کہا کہ کٹھوعہ واقعہ کی سی بی آئی انکوائری کے مطالبے کو منوانے کے لئے ’رسانہ کوارڈی نیشن کمیٹی‘ نے 20 مئی کو ضلع کٹھوعہ کے ہیرانگر تحصیل میں ایک ریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ، میں بھی شرکت کروں گا۔ انہوں نے کہا ’کوارڈی نیشن کمیٹی نے ہیرانگر میں ریلی کرنا کا اعلان کیا ہے۔ میں بھی اس میں شرکت کروں گا۔ یہ ریلی ہمارے صوبے کے سبھی لوگوں کی ہے۔ اس میں صوبے کے سبھی لوگ شرکت کرکے سی بی آئی انکوائری کی مانگ دہرائیں گے۔ یہ ریلی 20 مئی کو ہیرانگر میں قومی شاہراہ کے کنارے پر منعقد ہوگی۔ ہم سڑک کے ایک حصے پر چلیں گے جبکہ دوسرے حصے کو گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے کھلا رکھیں گے۔ اس ریلی میں آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا‘۔ سابق وزیر نے کہا کہ ہم کٹھوعہ واقعہ کی تحقیقات پاکستانی ایجنسی سے نہیں بلکہ انڈین ایجنسی سے چاہتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا ’جب یہ (بچی کا) قتل ہوا سب نے اس کی مذمت کی۔ کسی نے اس کا خیرمقدم نہیں کیا۔ مذمت کرنے کے ساتھ لوگ کھڑے بھی ہوئے۔ لوگوں نے پہلے دن سے کہا کہ اس کی سی بی آئی انکوائری ہو۔ اب گورے رنگ والوں جنہوں نے کہا کہ سی بی آئی انکوائری نہیں ہونی چاہیے، کے چہرے کالے نظر آنے لگے ہیں۔ سی بی آئی کیا پاکستان کی تحقیقاتی ایجنسی ہے؟ اتنا استحصال کس لئے؟‘۔ انہوں نے کہا ’ جب کشمیر میں 2009 کے (آسیہ اور نیلوفر) واقعہ کی سی بی آئی انکوائری ہوسکتی ہے تو اس کی کیوں نہیں ہوسکتی؟ دو پولیس افسروں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان پرریپ اور قتل کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ وہاں کی اے اور بی پارٹی نے واقعہ کی سی بی آئی انکوائری کرائی ۔ سی بی آئی انکوائری سے دونوں پولیس افسر بھری ہوئے‘۔ لال سنگھ نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا نام لئے بغیر کہا ’آپ کو تب سی بی آئی پر یقین کیوں تھا اور آج کیوں نہیں ہے؟ یہ آپ سے سوال ہے۔ اب یہ قاعدے قوانین سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب لاء اینڈ آڈر صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہو، تو اسی ایجنسی سے تحقیقات کرانی چاہیے جس سے لوگ مطمئن ہوں۔ کیا آپ ہماری ترقی روکے رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں تباہ کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ ہمیں انصاف بھی نہیں لینے دیں گے؟‘۔ انہوں نے کہا ’ہم نے کبھی کسی مہاجر فیملی کو تکلیف نہیں پہنچائی۔ بھائی چارے کو ہمیشہ مضبوط رکھا۔ جموں کو کمزور کرنے کا مطلب ملک کو مضبوط کرنا ہے۔ جموں کمزور نہیں ہورہا ہے بلکہ دیش کمزور ہورہا ہے۔ جموں کمزور ہوگا تو دیش کمزور ہوگا‘۔ لال سنگھ نے کہا کہ ہم نے چاند تارے نہیں صرف سی بی آئی انکوائری مانگی ہے۔ اُن کا کہنا تھا ’جب تک ہم لوگ ہیں ہم جموں کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ ہم نے صرف سی بی آئی انکوائری مانگی ہے، چاند تارے نہیں مانگے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’میں ایک سینئر ترین سیاستدان ہوں۔ میں سرکاروں کا کام کاج بخوبی جانتا ہوں۔ لوگ ان سے کوئی نوکریاں نہیں مانگ رہے ہیں۔ ڈوگرہ عوام کا عزت بحال کرو اور حقیقت کا پتہ لگانے کے لئے سی بی آئی انکوائری کا اعلان کرو‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ ’کیا وہ اپنے مستعفی ہوجانے سے دکھی ہیں‘ تو اُن کا جواب تھا ’میں اپنے مستعفی ہوجانے سے ذرہ بھر بھی دکھ نہیں۔ مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ میں بہت خوش ہوں کہ میں اپنے لوگوں کے لئے جنگ لڑ رہا ہوں۔ اُس کرسی سے یہ کرسی لاکھ درجہ اچھی ہے‘۔ انہوں نے کہا ’ہمیں کشمیر اور دہلی کے میڈیا نے سبوتاژ کیا۔ آپ کی قلم چھین کر انہوں نے لکھنا شروع کیا۔ اگر آپ نے اپنی قلم مضبوطی سے پکڑی ہوتی تو شاید ایسا نہیں ہوتا‘۔ واضح رہے کہ لال سنگھ کے حامیوں نے گذشتہ ماہ ’رسانہ کوارڈی نیشن کمیٹی‘ کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ سی بی آئی انکوائری کو بزور طاقت حاصل کریں گے۔ لال سنگھ کے حامیوں کی جانب سے تشکیل دی گئی رسانہ کوارڈی نیشن کمیٹی کے ایک رکن نے کہا تھا ’جموں کو آج تک کوئی چیز لڑائی کے بغیر حاصل نہیں ہوئی ہے۔ میڈیکل کالج، سینٹرل یونیورسٹی، ایمز اور جو کچھ بھی یہاں ہے، ہم نے ان چیزوں کو لڑائی سے حاصل کیا ہے۔ بار کونسل آف انڈیا کی ٹیم اور سارے لوگ کہتے ہیں کہ واقعہ کی سی بی آئی انکوائری ہونی چاہیے۔ ہم آپ (میڈیا) کے سامنے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ جب تک سی بی آئی انکوائری نہیں ہوگی ہم چپ نہیں بیٹھیں گے‘۔ کٹھوعہ واقعہ کی وجہ سے ریاست کی مخلوط حکومت میں شامل دو بھاجپا وزراء چندر پرکاش گنگا اور لال سنگھ کو گذشتہ ماہ اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ بی جے پی کے اِن دو وزراء نے یکم مارچ کو ضلع کٹھوعہ میں کمسن بچی کے عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کے حق میں ہندو ایکتا منچ کے بینر تلے منعقد ہونے والے ایک جلسہ میں شرکت کرکے سول و پولیس انتظامیہ کے عہدیداروں کو گرفتاریاں عمل میں نہ لانے کی ہدایات دی تھیں۔ کٹھوعہ میں جلسہ سے خطاب کے دوران ان وزراء نے ایک مخصوص کیمونٹی کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا جائے گا۔ تاہم دونوں مستعفی وزراء کا کہنا ہے کہ انہیں پارٹی کی طرف سے وہاں جانے کے لئے کہا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اُس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ کرائم برانچ پولیس نے گذشتہ ہفتے واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔ کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاؤں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔ تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔