شہباز رشید
یورپ کا نیوکلیئر تحقیق کے لئے بنایا گیا ریسرچ ادارہ جسے CERN کے نام سے جانا جاتا ہے پوری دنیا میں سائنسی تحقیق کے حوالے سے سب سے بڑا ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہے۔سی ای آر این دنیا کی سب سے بڑی پارٹیکل فزکس تجربہ گاہ (Laboratory) بھی ہے۔یہ تجربہ گاہ سیویزرلینڈ کے دارلخلافہ جینیوا کے اطراف میں واقع ہے۔یہ سائنسی تحقیقی ادارہ 1954میں یورپین ممالک کے مشترکہ اتحاد کے مقاصد کے تحت اس لئے معرض وجود میں لایا گیا تاکہ اس ادارے کے ذریعے یورپ کے باصلاحیت سائنسدانوں کی ہجرت فطانت(Brain drain) کو روکا جائے۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ صحیح ہو گا کہ اس ادارے کے توسط سے عالمی ذہانت کو یورپ میں سمیٹا جارہا ہے۔ابھی اس تجربہ گاہ میں دنیا کے 100ممالک سے دس ہزار سے زائد سائنسدان کام کر رہے ہیں۔اس تجربہ گاہ میں سائنسدانوں کو دنیا کے سب سے بڑے بڑے اور معیاری سائنسی آلات کی مدد سے کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔اس تجربہ گاہ میں زیادہ زور کائنات کی موجودہ ہیت اور اس میں عمل پذیر طبیعاتی قوانین کو جاننے پر دیا جاتا ہے۔CERN میں دنیا کی نہایت اہم اور بڑی ایجادات ہوئی ہیں۔جیسے 1983میں ایلیمنٹری پارٹکلز کی دریافت جنہیں Z اور W بوسنس (W&Z Bosons) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔اسی تجربہ گاہ میں برطانوی سائنسدان ٹم برنرس لی نے 1989میں کمپیوٹرز کا آپسی مکالمہ کرنے کا طریقہ بنا کر ورلڈ وائڈ ویب (WWW) ایجاد کیا۔1995میں CERN کے سائنسدانوں نے پہلی بار ہائیڈروجن کے اینٹی میٹر کا ایٹم جسے اینٹی ہائیڈروجن کہا جاتا ہے بنایا۔2000ء میں اسی تجربہ گاہ سے سائنسدانوں نے مادے کی ایک نئی ہیت جسے کوارک گولون پلازما کہا جاتا ہے دریافت کیا۔2012ء میں ہیگس باسن (Higgs bosons) پارٹکلز کو سی ای۔آر این کے لارج۔ہارڈن کولائڈر میں دریافت کیا۔
لارج ہارڈن کولائڈر ایک بہت بڑی مشین جو دنیا کا سب سے بڑا پارٹکل ایکسلریٹر ہے۔اس مشین میں ماہرین طبعیات ذروں کو بہت تیز رفتار کیساتھ ٹکراتے ہیں یہ دیکھنے کیلئے کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ذروں کا یہ ٹکراو (Particle collision) سیکینڈس کے کچھ فریکشنس کے لئے ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جو بگ بینگ کے چند ساعتوں کے بعد پیدا ہوئے تھے جب کائنات کی ابتدا ہو رہی تھی۔ان کولیجنز یا ذروں کے ٹکراو کو سمجھنے سے ماہرین چند اہم ترین سوالات کا جواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں جیسے مادہ کس سے بنا ہے اور زروں کو وزن کیسے حاصل ہوتا ہے۔LHC کی 2008میں تکمیل کے بعد اسے خصوصی طور اسٹینڈرڈ ماڈل آف پارٹیکل فزکس کا عملی ٹیسٹ کرنے کے لئے مصروف رکھا۔اسٹینڈرڈ ماڈل آف پارٹیکل فزکس دراصل ایک تھیوری ہے جو 17بنیادی پارٹکلز اور کائنات کی چار بنیادی طاقتوں کے آپسی ربط و تعلق کے متعلق بحث کرتی ہے۔اسٹینڈرڈ ماڈل کئی دہائیوں سے کبھی بھی مشاہدے میں نہ آنے والے پارٹیکل جسے ہگس بوسون کہا جاتا ہے کے موجود ہونے کے متعلق پیشن گوئی کرتا آیا تھا جو آخرکار 2012 ایک حقیقت کے طور پر ثابت ہو گیا۔
لارج ہارڈن کولائڈر 27کلومیٹر لمبی زمین کے اندر بنائی گئی دائرہ نما(Circular)سرنگ ہے۔اس سرنگ میں 1232قطبی میگنٹس (جن میں ہر ایک کی لمبائی 15میٹر ہے اور پورا وزن 100035ٹن ہے )کا استعمال پروٹونز کو دو مقابل سمتوں میں دوڑانے کے لئے ہوا ہے تاکہ یہ ذرے ٹکرا کر چند ساعتوں کے لئے اپنے سے چھوٹے ذروں میں ٹوٹ جائیں۔جو نہایت انسٹیبل(Unstable )ہوتے ہیں .سات بڑے بڑے ڈیٹیکٹرز ان نایاب ذروں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے نصب کئے گئے ہیں۔اس پورے سائنسی و تکنیکی انتظام کے ذریعے کائنات کی ابتدائی اور موجودہ ہیئت کو جاننا مقصود ہے۔سائنس کا یہ دلچسپ اور حیرت انگیز اسٹکرچر انسان کے سائنسی رجحان کا بہترین عکاس ہے کہ کس طرح سے انسان اس دنیا میں رہ کر خدا کی اس کائنات کے ایک ایک ذرے پر تحقیق کر کے عظمت حاصل کرتا ہے۔انسان کی یہ کاوش ہے کہ کس۔طرح سے یہ کائنات پیدا ہوئی, یہ مادہ کیسے اور کہاں سے وجود میں آیا, ’’عدم وجود‘‘ سے وجود پانے والی کائنات کیسے یہ حیرت انگیز اسٹریکچر اختیار کرگئی?ان جیسے اور بھی کئی پیچیدہ سوالات ہیں جن کا جواب تلاش کرنے کے لئے CERNمحو عمل ہے۔