سرینگر// پرنسپل سیکرٹری پشو و بھیڑ پالن اور ماہی پالن محکمہ نوین کمار چودھری نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ جموں وکشمیر کے دونوں صوبوں میں کم از کم ایک لیکوفائیڈ نائٹروجن گیس ( ایل این جی ) پلانٹ کی تزئین و آرائش کریں تاکہ یہاں کی مقامی پیداوار بڑھ سکے ۔ اُنہوں نے یہ ہدایات جموں وکشمیر لائیوسٹاک بورڈ کی 32 ویںسٹیٹ عمل آوری ایجنسی ( ایس آئی اے ) کی میٹنگ میں دیں۔میٹنگ میں دونوں صوبوں کے ڈائریکٹران اینمل ہسبنڈری ،ڈی فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسزسکاسٹ کشمیر اور جموں ،دونوں صوبوں کے لائیو سٹاک ڈیولپمنٹ بورڈوں کے سی اِی اوز اور محکمہ کئی دیگر اَفسران نے شرکت کی۔جموں کے اَفسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔پرنسپل سیکرٹری نے اَفسران سے کہا کہ وہ ہر سٹیشن پر کم سے کم 10فیصد ایل این ججی محفوظ رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی صورتحال کا سامنا کیا جاسکے ۔ اُنہوں نے زرعی یونیورسٹیوں کے ممبران کے ساتھ ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت دی تاکہ یہاں ایل این جی اور پیدوار کی مانگ کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ یہاں پر انے ایل این جی پلانٹوں کی تزئین و آرائش کے امکانات بھی موجود ہیں۔نوین چودھری نے اَفسران سے مزید کہاکہ وہ نزدیکی مقامات پر مصنوعی تخم ریزی کی بہترسہولیات بہم رکھیں تاکہ لوگوں کو اس سہولیت کے لئے دور دور مسافتیں طے نہ کرنا پڑے۔اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ پشو دھن میلوں کو باقاعدہ انعقاد کریں جس میں خریدار اور بیچنے والے دونوں کو محکمہ کی طرف سے کاروبار کرنے میں مدد ملے۔پرنسپل سیکرٹری نے سکاسٹ اِنتظامیہ سے کہا کہ وہ اَپنے تحقیقی پروگراموں کو محکمہ کے تقاضوں کے مطابق بنائیں تاکہ اِن یونیورسٹیوں کے فراہم کردہ مستند ڈیٹا پر ایک مضبوط پالیسی بنائی جاسکے ۔اُنہوںایچ او ڈی سے کہا کہ وہ تعلیمی سال شروع ہونے پر محکمہ کی تحقیقی ضروریات زرعی یونیورسٹیوں کو فراہم کرے تاکہ متعلقہ ڈیٹا مناسب وقت پر موصول ہو۔ اُنہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ مسائل کو حل کرنے اور ایک دوسرے کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے باقاعدگی سے مشترکہ میٹنگ کا اِنعقاد کریں۔میٹنگ میں گائے کی نئی اَقسام کی کامیابی کا تعین کرنے کے لئے مستقبل میں تحقیقی منصوبوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ لیا گیا ۔یونیورسٹیوں سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ پانچ چھ ہفتوں کے مختصر مدت کے سر ٹیفکیٹ کورسوں کو مختلف قومی اداروں کے مشابہت پر متعارف کریں۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ مصنوعی تخم ریزی سے دودھ کی پیداوار کو بڑھانے میں مدد ملتا ہے اور محکمہ یہ کام بغیر معاوضہ کررہا ہے ۔ میٹنگ کو بتایا گیا کہ گزشتہ برس8.5 لاکھ سے زیادہ مصنوعی تخم ریزی کی جاچکی ہیں اور اس اِمسال محکمہ کے لئے 13 لاکھ اے آئی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ یہاں کئی سی ایس ایس جاری ہیں جو ہدف کے حصول میں محکمہ کی مدد کریںگے ۔ اِن میں راشٹریہ گوکل مشن ( آر جی ایم )، نیشن وائیڈ اے آئی پروگرام ( این اے آئی پی ) ، کرشی کلیان ابھیان ( کے کے اے) ، اور نیشنل مشن آن بوائن پروڈکٹیو یٹی ( این ایم بی پی) شامل ہیں۔ تمام سکیمیں یہاں بوائین بریڈنگ بنیادی ڈھانچے کو اَپ گریڈ اور مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کرتی ہیں اور کسانوں کی دہلیز تک خدمات مفت پہنچاتی ہیں۔