ہارون ابن رشید
اساتذہ ہمارے لیے نعمت ِ خدا وندی ہیں۔ جو ایک اچھی قوم بنانے اور دنیا کو بہتر جگہ بنانے کا فریضہ انجام دیتےہیں۔ اساتذہ ہی ہمیں زندگی گزارنے کا اصل راستہ دکھاتے ہیں،زندگی کی حقیقتوں اور مقاصد سے واقف کراتے ہیں ،دینی اور دنیوی معاملات سے آشنا کراتے ہیں،غور و فکر کی صلاحیت پیدا کرواتے ہیںاور تلوار کے مقابلے میں قلم کی اہمیت بھی سمجھاتےہیں۔معاشروں میں ان کی بہت عزت کی جاتی ہے کیونکہ وہ معاشرے کےافراد کی معیار زندگی کو بلند کراتے ہیں۔ایک اچھےکی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کی بہترسے بہتر رہنمائی کرسکے۔ایک قابل ،ذہین اور نیک استاد ہی کی بدولت طالب علموں کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوجاتا ہے اور وہ انسانیت کے راز سے واقف ہوجاتے ہیں ،اُن کی زندگیاں بدل جاتی ہیں ، وہ فرشتوں سے بہتر انسان بن جاتے ہیںاور ان کے کردارو اطوار کو ایک قابل ِ قدر اور قابل احترام سمجھا جاتا ہے۔اسی لئے استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے اور روحانی والدین کا درجہ دیا جاتاہے۔ استاد کا پیشہ ایسا ہے جس کا تعلق پیغمبری سے ہے۔ اس پیشے کا مقصد ہی انسان سازی ہے جو ایک ایسی صنعت کا درجہ رکھتا ہے جس پر تمام صفات کا ہی نہیں بلکہ ساری زندگی کا دارومدار ہے۔ معلمین کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں۔
5 اکتوبر دنیا بھر میں اساتذہ کا عالمی دن منایاجاتا ہے۔ یہ دن اساتذہ کے لئے معاشروں کے مستقبل کے تئیں اُن کے تعاون اور کوششوں کو خراج ِتحسین حاصل کرنے کا اعزازکا دن ہے۔ ظاہر ہے اساتذہ شہد کی مکھی کی طرح ہوتے ہیں جو دوسروں کو مٹھاس دینے ہیں۔ اپنے طلاب کے مستقبل کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،انہیں زندگی گزارنے کا فن سکھاتے ہیںاور انہیں ملک و قوم کے رہبر و رہنما بننے کے قابل بناتے ہیں۔بے شک ہر قوم کا مستقبل قابل احترام اساتذہ کے ہاتھوں میں ہی ہوتا ہے۔
اور اپنی خوبیوں،کاوشوں اور کارکردگیوں کے باوصف اُنہیں قوم کا معمار کہا جاتا ہے۔ وہ سال بھر اس دن کا انتظار کرتے رہتے ہیں تاکہ اپنے تئیں اپنے طلبا کی محبت اور احترام کا جائزہ لیںسکیں،اساتذہ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بخوبی و احسن طریقے پر انجام دے رہے ہیں اور طلباء و طالبات کی توقعات پر پورا اترے ہیں۔ گویا اپنے طالبان کو اپنے پیروں پر کھڑا دیکھنے کے متمنی ہیں۔ وہ اپنے شاگردوں کو ہمیشہ ہمیں کامیاب دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ وہ اپنے طلباء کو پھولوں کی طرح کھلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہمیشہ اپنے اساتذہ کا احترام کریںاور اُن سے پیار کریں۔
جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں
دنیا میں بہت سارے انسانی رشتے ہوتےہیں، جن میں کچھ رشتے خون کے ہوتے ہیں اور کچھ روحانی رشتے ہوتے ہیں، ان ہی رشتوں میں سے ایک اُستاد کا رشتہ ہے۔ اسلام میں استاد کا رشتہ ماں باپ کے برابر ہے کیو نکہ یہ استاد ہی ہے جو والدین کے بعد اصل زندگی کے معنی سکھاتے ہیں۔ زندگی جینا سکھاتے ہیں حق اور ناحق میں فرق کرنا سکھاتے ہیں۔اُستاد کی اہمیت میں پیارے نبیؐ نے فرمایا کہ مجھے معلم بنا کر بیجھا گیا تو اس سے یہ معلوم ہواکہ استاد کا مرتبہ کتنا بلندو بالا ہے۔ والدین بھی بچے کے اُستاد ہی ہوتے ہیں،بچہ بلوغت کی عمر تک اپنے والدین سے جو کچھ سیکھتے ہیں، وہ ان کے کردار میں بھی خاصا نماں نظر آتا ہے۔
یہ استاد ہی ہے جس نے طالب علم کو زندگی کا سلیقہ اور مقصد سکھایا ، سوچ اور فکر کی راہ متعین کی ، اعتماد دیا ، زندگی کی گٹھیاں سلجھانے کے گُر بتائے ، محبتوں کے ساتھ اس وقت پہلا سبق پڑھایا، جب ہم کچھ نہیں جانتے تھے ، اَن پڑھ اور جاہل تھے۔ ہمارے اساتذہ نے اپنی صلاحیتیں ہم پر صرف کیں اور ہمیں اس قابل بنایا کہ آج ہم مضبوط کردار اور مثبت روایات کے امین اور معاشرے میں ایک مقام رکھتے ہیں۔قومیں جب بھی عروج حاصل کرتی ہیں تو اپنے اساتذہ کی تکریم کی بدولت ہی حاصل کرتی ہیں۔کسی قوم پر زوال آنے کی سب سے بڑی وجہ اساتذہ کی تکریم چھوڑ دینا ہے۔
رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
آخر پر میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اللہ سبحان و تعالیٰ قوم کے معماروں کو سلامت رکھے ۔آمین
(مضمون نگار ، پی جی کے طالب علم ہیں)
<[email protected]>