قطری بحران ختم کرنے کےلئے عرب ممالک کے 13مطالبات

دبئی//عرب خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے الزام کے تحت قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ممالک نے امیر قطر کو 13 مطالبات بھیجے ہیں ،جن میں قطر کے سرکاری ٹیلیویژن الجزیرہ کو بند کرنے اور ایران کے ساتھ تعلقات میں کمی لانے کے مطالبات شامل ہیں۔ یہ اطلاع بائیکاٹ کرنے والے ممالک میں سے ایک کے اعلی اہلکار نے دی ہے ۔ سعودی عرب ، امارات، مصر اور بحرین کی طرف سے تیار کی گئی مطالبات کی فہرست میں قطر سے ملک میں واقع ترک فوجی اڈے کو بھی بند کرنے اور اپنی سرزمین پر موجودہ تمام مطلوبہ جنگجوﺅںکو متعلقہ ممالک کے حوالے کرنے کے مطالبے بھی شامل ہیں۔ قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک نے ان مطالبات پر عمل آوری کے لئے قطر کو 10 دنوں کا وقت دیا ہے ۔ مطالبات کی یہ فہرست اس بحران میں ثالثی کرنے والے کویت کے ذریعہ بھیجا گیا ہے ۔ تاہم، قطر کی طرف سے فوری طورپر ان مطالبات پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے ۔ لیکن دو روز قبل قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے واضح کردیا تھا کہ جب تک بائیکاٹ ختم نہیں کیاجاتا ہے ، کسی مسئلے پر بات چیت نہیں ہوگی۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے قطر کو مطالبات کی ایک فہرست پیش کی ہے اور کہا ہے کہ قطر اگر ان مطالبات کو پورا کردیتا ہے تو خلیجی ممالک اور مصر اس کا بائیکاٹ ختم کردیں گے۔اطلاعات کے مطابق قطر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جنگجوﺅںکی حمایت سے دستبردار ہوجائے اور جن شخصیات کے نام جنگجوﺅںیا ناپسندیدہ افراد کی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر جاری کردہ فہرستوں میں شامل ہیں،ان کو اپنے ہاں پناہ دینے سے باز آجائے۔انور قرقاش نے لندن سے شائع ہونے والے روزنامے الحیات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قطر تعلقات کی بحالی چاہتا ہے تو وہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے فیصلوں کی پاسداری کرے۔ وہ شام اور لیبیا میں انتہا پسند اور جنگجوتحریکوں کی مالی معاونت بند کردے اور ناپسندیدہ شخصیات کی میزبانی سے بھی دستبردار ہوجائے۔انھوں نے کہا کہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد نے 2014ءمیں الریاض سمجھوتے پر دست خط کیے تھے تو اس کا یہ مطلب تھا کہ وہ اپنے والد کی پالیسیوں سے دستبردار ہوگئے ہیں۔بالخصوص سابق امیر قطر حمد بن خلیفہ آل ثانی لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے ساتھ سعودی عرب کے مرحوم فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے قتل کی ایک سازش میں بھی ملوث پائے گئے تھے اور اس کا انکشاف منظر عام پر آنے والی آڈیو ٹیپس سے ہوا تھا۔انور قرقاش نے عراق میں یرغمال بنائے گئے قطریوں کی بازیابی کے لیے تاوان کے طور پر ادا کردہ بھاری رقوم کے بارے میں بھی سوال اٹھایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ” اگر قطر اپنی پالیسیوں سے ناتا توڑ دیتا ہے تو پھر ہی ”طلاق“ واقع ہوگی۔بصورت دیگر اگر اس کے ہوائی اڈے دنیا کے لیے کھلے بھی رہتے ہیں تو وہ اپنے اردگرد کے ممالک سے الگ تھلگ ہی رہے گا“۔