قصہ کرسی کا مجھے بھی کچھ کہنا ہے

یہ  بات کسی شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سیاست کشمیر کے موسم کی طرح  ہمیشہ بے اعتبار رہی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ یہ چیز انہیں وراثت میں ملی ہے۔ ہم ماضی کو کریدیں تو وہ وہ چیزیں سامنے آئیں گی کہ آپ بھی ’’شر مسار ہو مجھ کو شرم سار کر‘‘ والی بات ہوگی ۔ اس لئے ان کی تازہ سیاسی رنگ بدلی پر بات کرتے ہیں ۔ این سی نے حالیہ میونسپل اور پنچایتی الیکشن کا بائیکاٹ کیا اور وجہ یہ بتائی کہ دفعہ ۳۷؍اے کے بارے میں جب تک مرکز اپنا موقف واضح نہ کرے اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کا دفاع نہ کرے، ہم الیکشن میں حصہ نہ لیں گے ۔ پی ڈی پی نے اس سے پہلے ہی یہی فیصلہ لیا تھا کہ ہم بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے اور وجہ وہی بتائی تھی جو این سی کے قائد نے کچھ دن بعد دہرائی۔ حالانکہ لوگ جانتے ہیں کہ ان دونوں پارٹیوں نے چند ہی دن پہلے کرگل ہل ڈیولپمنٹ کونسل کے الیکشن میں بھر پور حصہ لیا تھا جس میںا ین سی نے میدان مارلیا ، دورغ بر گردن راوی کہتے ہیں کہ یہاں بھی پراکسی اُمیدوار میدان میں اُتارے۔ واللہ اَعلم ۔ بہرحال کر گل سے فارغ ہوکر کشمیر میں ان کی سیاست کیوں بدلی ، اس کا ذکر نہ کر نا ہی بہتر ہے ۔ اہل کشمیر جانتے ہیں کہ یہ دونوں پارٹیاں حقیقت میں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے بچاؤ میں صرف زبانی جمع خرچ کر تی رہتی ہیں، جب کہ تاریخ گواہ ہے کہ انہی لوگوں نے اپنی اپنی حکومتوں کے دوران کشمیر کی خصوصی پوزیشن پر ہمیشہ سودا بازیاں کیں ، کبھی لینڈ گرانٹس بل کی صورت میں ، کبھی جموں کشمیر بنک کو ریزرو بنک انڈیا  سے منسلک کر کے ، کبھی امرناتھ شرائن بورڈ کو آٹھ سو کنال زمین دے کر ، کبھی جی ایس ٹی کو ریاست میں لاگو کر کے وغیر ہ وغیرہ ۔ ان کی روز اول سے ساری کوششیں یہ رہی ہیں کہ ریاست کا اپنا آئین ، اپنا جھنڈا، اپنی سرکاری زبان، اپنا معاشی نظام، اپنا سماجی تانا بانا بکھر کرر ہ جائے۔ ان پارٹیوں کی تاریخ کشمیر یوں کے ساتھ وشواس گھاتوں سے بھری پڑی ہے ۔ انہوں نے کشمیر یوں کے عزت و آبرو کا نعرہ دیا مگر ہمیں بے عزت وبے آبرو کر کے چھوڑا ۔ انہوں نے ہیلنگ ٹچ کی تقریریں کیں مگر ہماری قبریں کھدواتے رہے۔ اس لئے کشمیری عوام کو جس طرح بی جے پی اور کانگریس سے کسی خیر کی توقع نہیں،اسی طرح ان پارٹیوں سے کبھی کسی اچھے کام کی خواب وخیال میں بھی اُمید نہیں ۔ ذرا یہ دیکھئے ، ڈاکٹر فاروق اب یہ کہتے ہیں کہ این سی اگلی ریاستی حکومت اپنے بل بوتے پر بنائے گی اور یہ بھی کہ پارٹی قبل از الیکشن کسی گٹھ جوڑ کا حصہ نہیں بنے گی۔ ٹھیک ہے جو چاہیں وہ کہیں اور کریں مگر سوال یہ ہے کہ اگر انہوں نے بلد یاتی اور پنچایتی الیکشن کا بائیکاٹ یہ کہہ کر کیا کہ پہلے مرکز ریاست کی خصوصی پوزیشن کی ضمانت دے توا ب دلی نے ایسا کیا کیا کہ نیشنل کانفرنس اگلے اسمبلی الیکشن میں حصہ لینے کا پیغام دے رہی ہے ۔ کوئی جواب ہے ان کے پاس ؟ یہ صرف کرسی کا قصہ ہے اور بس۔