جموں//گورنر کے مشیر بی بی وِیاس نے کہا کہ کسی بھی آفات سماوی سے نمٹنے کے لئے خصوصی تیاریوں کی اشد ضرورت ہے اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کسی بھی ایمرجنسی کے موقعہ پر بچوں اور خواتین کی ضروریات کے سلسلے میں خصوصی اقدامات کئے جانے چاہیئے تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ راحت فراہم کی جاسکے۔مشیر موصوف جموں اینڈ کشمیر سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے منعقدہ سہ روزہ ریاستی سطحی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔اس پروگرام کا اشتراک ڈویژنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی ، این ڈی ایم اے اور یونیسف نے کیا تھا۔ ورکشاپ میں این ڈی ایم اے کے سابق ممبر ڈاکٹر مظفر احمد اور مختلف محکموں کے کئی سربراہاں نے شرکت کی۔ ان سربراہوں میں سماجی بہبود کے ڈائریکٹر ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ،ناظم تعلیم جموں و دیگر افسران بھی شامل تھے۔ بی بی وِیاس نے یونیسف کی ان کوششوں کو سراہا جن کے تحت یہ ادارہ بچوں اور خواتین کی بہبودی کے لئے کام کررہا ہے ۔انہوں نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے پیشہ واروں کی بھی ستائش کی جنہوں نے مختلف آفات سماوی کے موقعوں پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بی بی وِیاس نے اس موقعہ پر کہا کہ ڈی آر آر کے لئے ریاستی سطح کے پلیٹ فارم قائم کرنے کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جن میں ماہرین اور شراکت داروں کی کمیٹیا ں شامل ہوں گی ۔ ان میں حکومت ، یونیسف ، ماہرین تعلیم ، سول سوسائٹی اور این جی او شامل ہیں۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بچوں ، خواتین و دیگر گروپوں کی طرف خصوصی توجہ دینے کے لئے محکمہ نے ’’ Help People, to help themselves" کا پروگرا م شروع کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آفات سماوی سے تعلیم ، صحت و دیگر خصوصی خدمات متاثر ہوتی ہیں۔ڈائریکٹر ڈیزاسٹرمینجمنٹ عامر علی نے اس موقعہ پر کہا کہ اس ورکشاپ کی بدولت مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے شرکأ کو بچوں اور خواتین کی طرف خصوصی توجہ دینے کی عمل میں تربیت فراہم کی گئی ۔ڈویژنل کمشنر جموں سنجیو ورما نے بھی یونیسف کی ان کوششوں کو سراہا جن کے تحت اس پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ورکشاپ کے دوران یونیسف کے سرب جیت سنگھ ساہوتا نے شرکأ کو آفات سماوی کے موقعہ پر بچائو کے اقدامات کے بارے میں تربیت فراہم کی ۔اس موقعہ پر شرکأ میں اسناد تقسیم کئے گئے ۔ ایڈیشنل کمشنر جموں انورادھا رانی نے شکریہ کہ تحریک پیش کی۔