راجستھان کی تاریخ میں، راجا مہاراجوں کے زمانے سے ہی لڑکیوں اور خواتین کے سلسلے میں بہت سی رسوم و رواج اور روایات چلی آرہی ہے، جن میں سے کچھ ان کے حقوق کا دفاع کرتی ہیں تو کچھ ان کے حقوق کو سلب بھی کرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک روایت ہے ناطہ روایت۔کہنے کو تو یہ روایت خواتین کو حق عطا کرنے اور من پسند ساتھی کے ساتھ زندگی گزارنے کی وکالت کرنے والی ہے، لیکن فی الوقت یہ روایت خواتین کے حقوق کو سلب کرنے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ اس کی آڑ میں خواتین کا استحصال بھی کیا جا رہا ہے۔ ماہرین ناطہ روایت کو جدید لیو ان ریلیشن شپ کی ایک شکل مانتے ہیں۔ حالاں کہ ہندوستان میں لیو ان ریلیشن شپ آج بھی ایک متنازعہ اور موضوع بحث امر ہے۔ معاشرہ اسے مغربی تہذیب کی غلط روایت کہہ کر اس کی مخالفت کررہا ہے۔ تاہم راجستھان اور اس کے گردونواح میں یہ رسم صدیوں سے کسی نہ کسی شکل میں رائج ہے اور ناطہ روایت کی شکل میں اپنی جڑیں جمائے ہوئے ہے۔ اس روایت کے فروغ میں کم عمری کی شادی کو ایک اہم سبب مانا جاتا ہے، جو ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے راجستھان میں سب سے زیادہ ہے۔
کم عمری کی شادی کی کثرت کے سبب لڑکیاں کم عمر میں ہی شادی کے بندھن میں بندھ جاتی ہیں، جس کی وجہ سے انھیں اپنی ازدواجی زندگی میں کئی طرح کی جسمانی وذہنی پریشانیوں، مسائل اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے بے میل جوڑا یا شادی کے بعد شوہر کے ذریعہ تشدد یا کم عمری میں ہی شوہر کی موت وغیرہ، کئی سارے مسائل ہیں جن کی وجہ سے لڑکیاں اکیلی رہ جاتی ہیں۔ ایسی لڑکیوں اور خواتین کے لئے ہی راجستھان میں ناطہ روایت رائج ہے۔ کم عمری کی شادی کے سبب راجستھان میں کم عمر بیواؤں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ ایسے میں ان کم عمر بیواؤں کو پھر سے شادی شدہ زندگی میں لانے کے لئے ناطہ روایت واحد سہارا ہے۔
اس سلسلے میں سماجی کارکن گجادھر شرما کہتے ہیں کہ اس روایت میں کسی باضابطہ رسم و رواج کی پیروی نہیں کرنی پڑتی ہے۔ محض دونوں کی رضامندی ہی کافی ہوتی ہے۔ یہ روایت لیو ان ریلیشن شپ سے کافی ملتی جلتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بیواؤں اور مطلقہ خواتین کو سماجی زندگی گزارنے کی قبولیت دلانے کے لئے ہی ناطہ روایت شروع کی گئی تھی۔ ایک دیگر سماجی کارکن چھیل بہاری کے مطابق راجستھان میں یہ روایت برہمن، راجپوت اور جین کمیونٹی کو چھوڑ کر دیگر برادریوں جیسے لوہار، دھاکڑ، جوگی، گرجر، جاٹ، دلت اور آدیواسی علاقوں میں آباد خاص ذاتوں (بھیل، مینا، گراسیا، ڈامور اور سہریا) میں زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان میں ناطہ روایت کا چلن 75فیصد تک ہے۔ ان کے مطابق یہ روایت راجستھان کے گراسیا درج فہرست قبیلہ میں زیادہ ہے، جو کل آدیواسی آبادی کا 6.70 فیصد ہے اور یہ قبیلہ ادے پور، سروہی، پالی اور پرتاپ گڑھ میں بڑی تعداد میں ہے۔ گراسیا کمیونٹی میں اس روایت کو داپا روایت کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے تحت صرف نوجوان مرد و خواتین ہی نہیں بزرگ بھی آپسی رضامندی سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں اور بچے ہونے کے بعد شادی کرتے ہیں۔
سماجی کارکن برج موہن شرما کے مطابق 2001کی مردم شماری کے مطابق راجستھان میںدرج فہرست قبائل کی آبادی ریاست کی کل آبادی کا 12.6 فیصد ہے۔ جب کہ شرح خواندگی کی بات کریں تو ان میں مرد شرح خواندگی 44.7 فیصد اور خواتین شرح خواندگی محض 26.2 فیصد ہے۔ ناخواندگی کے سبب ہی قبائلی آبادی میں کم عمری کی شادی ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق راجستھان میں 16ایسے اضلاع ہیں جہاں کم عمری کی شادی کی شرح دیگر اضلاع کے مقابلے سب سے زیادہ ہے۔ بال کلیان سمیتی، سروہی کے صدر رتن بافنا کے مطابق یہ روایت خواتین کو رفیق حیات کے انتخاب کی جتنی آزادی دیتی ہے، اتنا ہی آج یہ ان کے استحصال کا بھی سب سے بڑا ہتھیار بن کر سامنے آ رہی ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا دیگر روایات کی طرح اس میں بھی مقامی سطح پر کئی تبدیلیاں ہوتی گئیں بلکہ اس میں کئی غلط رسمیں بھی شامل ہوگئیں۔ اس روایت کے سبب سماج میں لڑکیوں اور خواتین کی خریدو فروخت کا چلن بھی عام ہوا ہے۔ دوسری طرف روایت کے نام پر کئی ساتھی بنانے سے جنسی امراض کے فیصد میں بھی کافی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس کا اثر موروثی ہو رہا ہے جو آئندہ نسلوں کی صحت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
بہبودی درج فہرست قبائل محکمہ، جے پور کے افسر بانرا سولنکی کے مطابق ناطہ روایت خواتین اور غیرشادی شدہ لڑکیوں کو اپنے رفیق حیات کے انتخاب کا پورا موقع تو دیتی ہے لیکن اگر شادی شدہ خاتون کسی سبب پہلے شوہر کو چھوڑ کر کسی دوسرے شخص کو اپنا رفیق حیات منتخب کرتی ہے تو اسے پہلے شوہر یا اس کے گھر والوں کو جرمانہ یا سمجھوتہ رقم دینی ہوتی ہے، جسے مقامی زبان میں جھگڑا دینا کہا جاتا ہے۔ جھگڑا دینے کے بعد ہی وہ دوسرے رفیق حیات کے ساتھ رہ سکتی ہے۔ سال2008 میں باراں ضلع کے شاہ آباد بلاک واقع کیلواڑہ قصبہ کے رہنے والے مانک چند نے اپنی بیٹی ارمیلا کی شادی 15 سال کی عمر میں کر دی تھی۔ شادی کے 12 سال ساتھ رہنے کے دوران ارمیلا کو تین بیٹیاں ہوئیں۔ لیکن پہلی بیٹی کی پیدائش کے وقت سے ہی شوہر نشے کا عادی ہوگیا اور اس کے ساتھ مارپیٹ کرنے لگا۔ اس سے پریشان ہوکر ارمیلا ناطہ روایت کے تحت کسنائی پورہ کے رہنے والے سنیل کے ساتھ رہنے لگی۔مگر اس کے پہلے شوہر نےشادی ختم کرنے کے لئے 30 ہزار روپے کی مانگ کی، جسے ارمیلا اور سنیل فورا ادا کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد پنچایت نے انھیں چھ مہینے کا وقت دیا لیکن ارمیلا اور سنیل اب تک جھگڑے کی رقم ادا نہیں کر پانے کے سبب ازدواجی زندگی نہیں جی پا رہے ہیں۔
وہیں اس کے قانونی پہلو پر بات کرتے ہوئے چاکسو پولس تھانہ کے انچارج میگھ راج سنگھ نروکا کا کہنا ہے کہ ناطہ روایت کا کوئی قانونی طریقہ عمل نہیں ہے، کیوںکہ یہ پوری طرح سے سماجی بندوبست سے متعلق ہے، جس میں دونوں فریق راضی نامہ کے ساتھ سمجھوتا کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ آج تک اس روایت کے خلاف کسی نے بھی کیس درج نہیں کرایا ہے۔ رہی بچوں کی بات تو 18 سال کے ہونے سے پہلے بچوں کو والدین کے پاس رکھنے کا حق ہوتا ہے، تاہم والد کے ذریعہ بچوں پر اپنا حق جتانے پر کئی بار والد کے پاس بھی بچے رہ جاتے ہیں۔ بہبود اطفال منصوبے کی افسر ندھی چندیل کے مطابق اس روایت کے سبب بچوں کا بچپن بھی چھن جاتا ہے، کیوں کہ انھیں ماں باپ میں سے کسی ایک سے الگ ہونا پڑتا ہے۔ اس سے کہیں نہ کہیں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی بار بچیوں کو نئے والد یا اس کے گھر کے دیگر افراد کے ذریعہ استحصال یا جنسی تشدد کا بھی شکار ہونا پڑتا ہے، جس کا ان کے بچپن پر منفی اثر پڑتا ہے۔
ضرورت ہے اس روایت سے پیدا ہونے والی برائیوں کے خلاف سماج کو بیدار کرنے کی۔ یہ روایت جہاں خواتین کو استحصال سے آزاد کرنے کا ذریعہ ہے وہیں اس سے ہونے والی برائیوں کو بھی روکنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے خواتین کوخواندہ بنانے کے تئیں خاص قدم اٹھانے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اپنے حقوق کو پہچانکر ناطہ روایت کی جگہ قانونی طور سے اپنے رفیق حیات کا انتخاب کر سکیں۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ اس روایت کی آڑ میں جاری سماجی برائیوں کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔
(یہ مضمون سنجوئے گھوش میڈیا ایوارڈ 2020 کے تحت لکھا گیا ہے)
جےپور، راجستھان