قائد اعظم اورمسلم یونیورسٹی

پچھلے  ہفتے قائد اعظم محمد علی جناح سے وابستہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قضیہ پیش آیا ۔ یہ قضیہ قائد اعظم کی اُس تصویر کے حوالے سے ہے جو اے ایم طلباء یونین کی عمارت میں1938ء سے اُن جلیل القدر ہستیوں کی تصاویر میں شامل ہے جنہیں یونین کا مستقل ممبر ہونے کا شرف حاصل ہے ۔بھاجپا کے ممبر پارلیمنٹ علی گڑھ کے ستیش گوتم نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ایک مکتوب میں یہ مانگ کی کہ قائد اعظم کی تصویر کو اس جگہ سے اُتارا جائے جہاں یہ لگائی گئی ہے۔ اس سے پہلے کہ وائس چانسلر اس مکتوب کا کوئی مناسب جواب دیں، ہندو یوا واہنی سے وابستہ جوان یونیورسٹی کے احاطے میں گھس آئے اور قائد کی تصویر اُتارنے کے ضمن میں نعرے بازی کرتے رہے۔ ا س سے یونیورسٹی کا ماحول مکد ر ہو اور ایک تنازعے کو کھڑا کیا گیا ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 80؍ سال کے طویل عرصے میں جب سے قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر طلباء یونین کے احاطے میں لگی ہوئی آج تک کسی نے بھی اعتراض کی انگلی نہیں اٹھائی ۔ یونین کے احاطے میں قائد اعظم کے علاوہ مہاتما گاندھی،پنڈت جواہر لال نہرو،بھیم راؤ امبیدکر اور امام الہند مولانا آزاد کی تصاویر بھی لگی ہوئی ہیں۔ قائد اعظم کی مانند یہ برگذیدہ اشخاص بھی یونین کا مستقل ممبر ہونے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔اِس سے صاف عیاں ہے کہ اِن سر کردہ شخصیات کو بلا لحاظ مذہب و ملت،بلا لحاظ عقیدہ سیاسی صرف و صرف اُن کی عوامی ساکھ کی بنیاد پر یہ شرف حاصل ہوا کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلبا کی یونین کے مستقل ممبر بنائے جائیں۔
 قائد اعظم محمد علی جناح کے سیاسی عقائد کچھ بھی رہے ہوں بھلے ہی اُن کو ہندوستان کو تقسیم کروانے کا واحد ذمہ وار قرار دیا جائے اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بر صغیر کی تاریخ کے اوراق پہ چھائے ہوئے ہیں۔جہاں تک اُنکے سیاسی رول کا تعلق ہے اُس کے بارے میں رائے متضاد ہو سکتی ہے اور یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں البتہ کہا جا سکتا ہے جتنی بھی توجہ اُنکی ذات پہ مرکوز رکھی جا تی ہے جس حد تک بھی اُنکا شخصیاتی تجزیہ کیا جاتا ہے اُسی حد تک اُنکی ذات نکھرتی جاتی ہے ۔ یہ ظاہرہے موجودہ دور میں بھاجپا اور ہندتوا کے عقیدے کو ماننے والے تقافتی قوم پرست قائد اعظم کی تصویر اتروانے پہ بضد اِس سے سیاسی فوائد اٹھانا چاہتے ہیں لیکن ماضی میں یہی ثقافتی قوم پرستی کے پجاری اُنکی عظمت کا اعتراف پہ مجبور ہوئے۔لال کشن ایڈوانی آج گئے کئی سال پہلے پاکستان کے دورے کے دوران اپنے اِس بیاں کے بعد کہ قائد اعظم ایک سیکولر شخصیت کے مالک تھے ہندوتوا سے وابستہ تنظیموں میں اپنی سابقہ ساکھ کھو بیٹھے۔لال کشن ایڈوانی ہندوتوا سے وابستہ تنظیموں میں واحد شخص نہیں تھے جو قائد اعظم کی شخصیت کے سحر میں کھو کر سچ بولنے لگے بلکہ بھاجپا سے وابستہ جسونت سنگھ نے پوری ایک کتاب رقم فرمائی جس کی اساس یہ ہے کہ قائد اعظم کا دو قومی نظریہ تب منظر عام پہ آیا جب وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک ہی سیاسی صف میں رکھنے میںنا کام ہوئے اور اُنکی نا کامی کی وجہ یہ رہی کہ ہندوستان کی کچھ بر گذید ہ شخصیات مسلمانوں کو اُنکی آبادی کے تناسب سے سیاسی حقوق دینے اور اقتدار میں شریک رکھنے میں نہ صرف پس و پیش سے کام لے رہے تھے بلکہ سریحاََ مخالف تھے۔علیگڑھ میں گذشتہ دنوں کے واقعات کے بعد کیا کچھ بھارتی مطبوعات میں دیکھنے کو ملا اُسکے تجزیہ سے پہلے ماضی کے اوراق پلٹ کر ایک بار پھر قائد اعظم کی درخشاں سیاسی زندگی پہ طائرانہ نظر ڈالنا الزامی ہے۔ 
قائد اعظم محمد علی جناح کانگریس میں 20ویں صدی کے شروعاتی دور میں ہی شامل ہو چکے تھے اور جلد ہی وہ سیاست ہند پہ چھا گئے۔اُس سے پہلے برطانیہ میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی وہ کانگریس کے بر گذیدہ لیڈر دادا بائی نارو جی کے سیکرٹری کے طور پہ کام کر چکے تھے۔دادا بائی نارو جی نے برطانوی پارلیمان کا الیکشن 1893ء میں لڑا اور وہ لنڈن کے ایک حلقہ انتخاب سے صرف تین وؤٹوں سے کامیاب قرار دئے گئے ۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار و متحدہ قومیت کے طلبگار وکالت کے طالب علم محمد علی جناح نے دادا بائی کی کھل کے حمایت کی۔دادا بائی کی سیاسی محفل جناح کے لئے تعلیم سیاسی کا پہلا مدرسہ تھا اور ہندوستان واپس آنے کے بعد کانگریس میں اِن الفاظ کے ساتھ شامل ہوئے ’’میں مسلم گوکھلے بننا چاہتا ہوں‘‘ !گوکھلے ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے جیسا کہ اُ نکے سیاسی منشور سے ثابت ہوتا ہے۔گوکھلے کی شاگردی پس از دادا بائی نارو جی جناح کیلئے تعلیم ثانوی سیاسی ثابت ہوئی۔اپریل 1913ء میں گوکھلے اور جناح ساتھ ساتھ انگلینڈ روانہ ہوئے۔ بقول سروجنی نائیڈو ’’عربی ستاروں و مصری سمندروں نے وطن کی خاطر اُن کی بے لوث خدمات و باہمی امیدوں و خوابوں کی یاداشت رکھی ـ‘‘ شومئی قسمت اِس سے پہلے یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے گوکھلے 1915ء میں پرلوک سدھارے۔محمد علی  جناح کانگریس تنظیم کے لئے بھر پور کام کرتے رہے اور ہر مہینہ اپنی پریکٹس سے 1000روپیہ تنظیم کو چندہ دیتے تھے جو اُس زمانے میں رقم کثیر تھی ۔ 
 مہاتماگاندھی کی جنوبی افریقہ سے 1915ء میں آمد سے ہندوستان سیاست میں بتدریج ایک بدلاؤ منظر عام پہ آنے لگا جو محمد علی جناح کی سیاست سے میل نہیں کھاتا تھا ۔ قائداعظم کو جسونت سنگھ سمیت کئی تجزیہ نگارایک ایسے سیاستداں کے روپ میں دیکھتے ہیں جو ہندو مسلم تنازعات کو قانونی اداروں میں بحث مباحثے و قانون سازی کے عمل سے حل کرنے میں میں یقیں رکھتے تھے اور وہ سیاسی ایجی ٹیشن کے رواداد نہیں تھے جہاں قانونی اداروں سے سیاست سڑکوں پہ آتی ہے۔ ہندو مسلم اتحاد کو عملیانے کیلئے قائد اعظم کی کوششیں 1916 ء میں رنگ لائیں جب لکھنو پیکٹ منظر عام پہ آیا ۔لکھنو پیکٹ نے ہندؤں و مسلمانوں کے مابین سیاسی رشتوں کی آئینی بنیاد فراہم کی ہوئی تھی جس کو ممکن بنانے میں کانگریس و مسلم لیگ نے باہمی کام کیا ہوا تھا ۔اِس سے ہندؤں و مسلمانوں کی سیاسی تنظیموں میں بھی ایک مثبت رابطے کی بنیاد پڑ چکی تھی۔اِس پیکٹ کے بعد سروجنی نائیڈو نے محمد علی جناح کو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر قرار دیا۔
1920ء سے 1930ء تک جب مہاتما گاندھی کا ستارہ عروج پہ تھا قائد اعظم جناح کی کوششوں کا جو ہندو مسلم اتحاد کیلئے اُنہوں نے کی تھی اور کر بھی رہے تھے کانگریس میں کوئی خریدار نہیں تھا وہ مرکزی اسمبلی میں اپنے حدف کو عملی بنانے کیلئے کوشاںرہے اور اِس دوران ایسا بھی مقام آیا جب مہاتما گاندھی کی ستیہ گراہی سیاست سے اختلاف کرتے ہوئے کانگریس کا ایک دھڑا مرکزی اسمبلی میں آئینی جدوجہد پہ عمل پیرا ہوا۔اِنہیں سوراجی کہا جا تا تھا اور اِس دھڑے میں میانہ رو سیاست داں شامل تھے جن میں موتی لال نہرو و سی آر داس جیسے معروف افراد کا نام لیا جا سکتا ہے۔ جناح اِن کے ساتھ آئین ساز ایوانوں میں کام کرتے رہے لیکن بات بنتی نظر نہیں آ رہی تھی۔ موتی لال نہرو و قائد اعظم جناح میں اگر چہ نظریاتی ہم آہنگی تھی لیکن مہاتما گاندھی کی موافقت کے بغیر موتی لال نہرو و سی آر داس جیسے قد آور رہبر بھی بے دست و پا نظر آ رہے تھے۔ قائد اعظم جناح کی کوششیں ہندو مسلم اتحاد کو آئینی تحفظ دینے پہ متمرکز رئیں۔اُنکا بنیادی مقصد مسلمین ہند کیلئے  33% نمائندگی کا حصول تھا۔
موتی لال نہرو جومہاتما گاندھی کی مانند مسلمانوں کے تحفظات کی حمایت پہ کچھ حد تک مائل تھے کے ہاتھ مہا سبھائیوں نے باندھ لئے تھے ۔ ہندو مسلم اتحاد کو آئینی تحفظ دینے کے خوابوں کی تعبیر ہندوستان میںنہ پاکر محمد علی جناح دل برداشتہ عازم انگلستان ہوئے اوروہاں کی عدالتوں میں اپنی قابلیت کے اُنہوں نے ایسے ہی جھنڈے گاڑے جیسے کی ہندوستانی عدالتوں میں مخصوصاََ بمبئی ہائی کورٹ میں جہاں 20 ویں صدی کے ابتدائی سالوں میں ہر دن کی اُنکی فیس اُس زمانے میں 1500روپیہ تھی۔علامہ اقبال ؒ اور دیگر برگذیدہ مسلم رہنماؤں کی گذارشات کے بعد آخر جناح کو واپس آنا ہی پڑا اور جب وہ واپس آئے اُس کے بعد اُن کا حدف مسلمین کے لئے ایک علحیدہ ملک کے سوا کچھ اور نہیں رہا اور اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقدمہ اُنہوں نے ایسے لڑا کہ انہونہ ہونی ہو کے رہ گئی اور پاکستان وجود میں آیاحالانکہ قائد اعظم کی سیاسی زندگی کا حدف ایک متحدہ ہندوستان میں مسلمین ہند کیلئے آئینی ضمانتوں کا حصول تھا لیکن چونکہ فرقہ پرست عناصر مطلوبہ ضمانتیں فراہم کرنے پہ آمادہ نہیں تھے لہذا قائد اعظم کیلئے مسلمین کیلئے ایک علحیدہ مملکت مانگنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا۔ 
قائد اعظم کے مخالفین میں پنڈت نہرو جیسے سیکولر لیڈر بھی شامل تھے جن کا خیال تھا کہ کہ سیکولرازم ہر مسلے کا حل ہے اور اُس کا فروغ ہر فرقے کی مانگ کا حل ہے بنابریں کسی اور ضمانت کی ضرورت نہیںلیکن وقت نے اِس تصور کو غلط ثابت کیا ہے۔ آزادی اور ہندوستان کی تقسیم کے 70سال کے بعد ہندوستان کے سیکولر آئین کے تحت بھاجپا کے 1386ممبراں قانوں سازیہ میں مسلمانوں کی تعدادصرف و صرف  4ہے جبکہ مسلمین ہند آبادی کا کم و بیش یک چہارم یا یک پنجم تشکیل دیتے ہیں۔ یہ اعداد و شمارمعروف کالم نویس آکار پٹیل کے  6مئی 2018ء  کے ٹائمز آف انڈیا کے ایک کالم میں شامل ہیں۔آکار پٹیل رقمطراز ہیں کہ یہ سیاسی عدم رواداری کی ایک ظالمانہ روش ہے جسے جان بوجھ کے روا رکھا گیا ہے۔آکار پٹیل کا ماننا ہے کہ جناح نہیں تو کوئی اور آج کے زمانے میں اِس ظالمانہ روش کے بارے میں پوچھ ہی لے گا؟ بھاجپا ایک مانی ہوئی فرقہ پرست جماعت ہی سہی کانگریسی دور میں بھی مسلمین کو کبھی بھی خاطر خواہ نمائندگی نہیں ملی۔ کرناٹکا میں جو کہ جنوبی ہند کی ایک ریاست ہے جہاں فرقہ پرستی اتنی شدید نہیں جتنی کی شمال میں ہے مسلمین آبادی کا 16فیصدی حصہ ہیں۔اِس حساب سے قانوں ساز یہ کی کل نشستوں جن کی تعداد 224ہے میں آبادی کے تناسب کے حساب سے کم و بیش 36نشستیںمسلمین کی ہونی چاہیے تھیں لیکن پچھلی اسمبلی میں صرف  9 ممبراں مسلمان تھے جبکہ 1983ء کی اسمبلی میں صرف  2ممبراں مسلمان تھے۔یہ کانگریس کے عروج کا زمانہ تھا ۔ اب کوئی بقول میرزا غالب یہ کہے کہ ہم بتلائیں کیا؟
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا حالیہ ہنگامہ کرناٹکا میں ایک سخت انتخابی عمل کے دوراں پیش آیا جہاں کانگریس اور بھاجپا میں کانٹے کی ٹکر ہے جس میں بھاجپا کی کوشش یہی ہے کہ وہ اِس ریاست میں کانگریس کی سرکار کو چلتا کر کے ایک تو جنوب میں اپنے قدم جما کے ہندوتوا کے پھیلاؤ کیلئے سنگ پریوار کی سیاسی مہم کو آگے بڑھائیں ثانیاََ ہندوستان کو کانگریس مکت یعنی کانگریس سے خالی کرنے کا اپنا سیاسی خواب پورا کر لیں۔اپنی اِس مہم میں فرقہ پرستی کو جس طریقے سے بھی ہو سکے ہوا دینا سنگ پریوار کا دیرینہ طریقہ کار ہے۔یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا کہ جن ایام میں یوپی کے وزیر اعلی یوگی ایودھیا ناتھ بھاجپا کی انتخابی مہم کو کرناٹکا میں فروغ دے رہے تھے اُنکی تشکیل دی ہوئی جوانوں کی تنظیم ہندو یوا واہنی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہ ہلہ بولنے کی تیاریوں میں لگی ہوئی تھی۔قائد اعظم جناح کی تصویر کو بہانہ بنایا گیا تاکہ فرقہ پرستی کو ہوا دے کے کرناٹکا کے ہندورائے دہندگاں کو اپنے حق میں ہموا کیا جا سکے۔
گجرات الیکشن کے دوران کچھ مہینے پہلے ایک ایسی ہی ترکیب عملیائی گئی۔منی شنکر آئیر نے اپنے پاکستانی رفیقوں کو مدعو کیا تھا اور اِس دعوت میں اُنکے بھارتی رفقا بھی شامل تھے۔اِس تقریب کو ایک سازش کا عنوان دیا گیا اور ہنگامہ اِس حد تک برپا ہوا کہ کانگریس کو منی شنکر آئیر کی رکنیت معطل کرنی پڑی۔آج کے ہنگامے میں بھی منی شنکر آئیر کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے ، چونکہ اُنہوں نے پاکستان کے اپنے حالیہ دورے کے دوراں ایک تقریب میں محمد علی جناح کو احتراماََ قائد اعظم کہااور یہ بھی کہہ بیٹھے کہ دو قومی نظریے کو قائد اعظم سے بہت پہلے 1923ء میں ویر ساورکر نے یہ کہہ کے منظر عام پہ لایا کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف قومیں ہیں۔رہی قائد اعظم کی بات اُن کے لئے جب یہ ثابت ہوا کہ یہاں کی فکر و نظر یہی ہے تو اُنہوں نے ہندوؤں اور مسلمین کو متحد رکھنے کی اپنی سیاسی مہم ترک کر لی اور پاکستان کی مانگ لے کے سامنے آئے۔ محمد علی جناح کو قائد اعظم کہنے میں منی شنکر آئیر سے کوئی گناہ سر زد نہیں ہوا کیونکہ گاندھی بھی اُنہیں قائد اعظم کہتے تھے۔سچ تو یہ ہے کہ گاندھی جی، قائد اعظم جناح، پنڈت جواہر لال نہرو، امام الہند مولانا آزاد،لیاقت علی خان،سردار پٹیل۔راج گوپال آچاریہ بر صغیر کے اہم سیاسی کردار ہیں جن کا نام تاریخ میں ثبت ہو چکا ہے ۔اگر ایک مقام پہ پہنچ کے اُن کے راستے الگ ہوئے تو اُس کا یہ مطلب نہیں کہ تاریخ کے اوراق سے اُن کانام حذف ہو گیا۔ 
Feedback on: [email protected]

 
 
  سلمان خور شید کی حق بیانی
 خونِ مسلم کے چھینٹے کہاں نہیں ؟ 
 احوالِ ہند
 
 سہیل انجم
 
سلمان  خورشید نے ایک بیان کیا دے دیا کہ ہنگامہ مچ گیا۔ کانگریس پارٹی دفاعی پوزیشن میں آگئی اور بی جے پی والوں کو دھما چوکڑی کا سنہری موقع مل گیا۔ بعض نیوز چینلوں کو مسالے دار موضوع ہاتھ آگیا اور انھوں نے کھچڑی پکانے اور اس میں کانگریس دشمنی کا تڑکا لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ بی جے پی کے ترجمانوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور سلمان خورشید کے بیان کو سیاق و سباق سے کاٹ کر دیکھا جانے لگا اور وہ مفہوم نکالا جانے لگا جو اس میں ہے ہی نہیں۔ بی جے پی لیڈروں کو اس میں یدطولیٰ حاصل ہے کہ وہ کسی بھی بیان کا کوئی بھی مفہوم نکال لیں اور عوام کے سامنے پیش کر دیں۔ سلمان خورشید نے سوال کرنے والے سے کہا تھا کہ ’ہاں ہمارے دامن پر خون کے دھبے ہیں۔ تم ’ان‘ پر وار کرو گے تو تمہارے دامن پر بھی دھبے آئیں گے‘۔یعنی ہم نے وار کرنے والوں کا سامنا کیا جس کی وجہ سے ہمارے دامن داغ دار ہوئے ہیں۔
ویسے حقیقت یہ ہے کہ سلمان خورشید نصف سچائی بیان کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان میں بیشتر بڑے مسلم کش فسادات کانگریس کے دور حکومت میں ہوئے ہیں کیونکہ اسی نے چند برسوں کو چھوڑ کر آزادی کے بعد کے بڑے عرصے میں ملک پر حکومت کی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ کانگریس کے دور میں ہی بابری مسجد میں رام للا پرکٹ ہوئے۔ کانگریسی وزیر اعلی نے مورتیاں رکھنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اسی کے دور میں بابری مسجد کا تالا کھولا گیا۔ وہاں پوجا شروع ہو ئی اور بابری مسجد کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ کانگریس کے دور میں فسادات کے دوران لاکھوں کی تعداد میں مسلمان گاجر مولی کی طرح کاٹے گئے۔ ان کی لاشیں دفن کرکے ان پر گوبھی بو دی گئی۔ اسی کے دور میں مسلم یونیورسٹی کا تنازعہ پیدا ہوا۔ بابری مسجد انہدام کے بعد ممبئی میں بھڑکے فسادات کی جانچ کے لیے سری کرشنا کمیشن تشکیل دیا گیا لیکن اگر بی جے پی اور شیو سینا کی حکومت نے سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ پر عمل آوری نہیں کی تو کانگریس کی حکومت نے بھی نہیں کی۔ کانگریس حکومت نے فسادات کی جانچ کے لیے لاتعداد کمیشن تو بنائے لیکن ان کی رپورٹوں پر کوئی عمل نہیں کیا۔ کانگریس کے متعدد لیڈروں پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی دھوتی کے اندر خاکی نیکر پہنتے ہیں۔ خود سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ پرپر بھی یہی الزام عاید کیا جاتا ہے۔ کیا کوئی مسلمان اسے بھول سکتا ہے کہ انہی کے دور حکومت میں بلکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی نادیدہ سرپرستی میں بابری مسجد شہید ہوئی اور جب تک وہ شہید نہیں ہو گئی وہ پوجا پاٹ کرتے رہے۔ بے شمار ایسے واقعات ہیں جو مسلمانوں کے تعلق سے کانگریس کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں۔ کانگریس نے مسلمانوں کو جتنے زخم دیے ہیں اتنے کسی بھی پارٹی نے نہیں دیے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ کانگریس نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت سی اسکیمیں بھی بنائیں اور ان کی سماجی، تعلیمی و اقتصادی پسماندگی کو دور کرنے کی کوشش بھی کی۔ کانگریس دور حکومت ہی میں مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے سچر کمیٹی جیسی بے مثال کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح صورت حال دنیا کے سامنے پیش کی۔ اس کمیٹی کی رپورٹ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں مسلمانوں کی حقیقی شبیہ نظر آتی ہے۔ لیکن یہ بھی بجا ہے کہ اس کی سفارشات پر عمل آوری کے لیے اسی طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا جس طرح دوسری رپورٹوں پر عمل آوری کے سلسلے میں کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس سے مسلمانوں کو دھوکے زیادہ ملے ہیں حق اور انصاف کم ملا ہے، جب کہ آزادی کے بعد ایک طویل عرصے تک مسلمان من حیث القوم کانگریس کو ہی ووٹ دیتے رہے ہیں۔ مسلمانوں نے فسادات میں اپنے لاکھوں عزیزوں کا قتل تو معاف کر دیا لیکن بابری مسجد کی شہادت کا جرم معاف نہیں کیا۔ ان کا بہت بڑا طبقہ آج بھی کانگریس سے ناراض ہے۔ کانگریس نے اس کی زبردست قیمت چکائی ہے اور اب بھی چکا رہی ہے۔  
 چلئے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سلمان خورشید نے اعتراف گناہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کانگریس کے دامن پر مسلمانوں کے خون کے دھبے ہیں تو یہ کوئی بری بات نہیں۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف وہی کرتا ہے جو اعلیٰ ظرف ہوتا ہے۔ کانگریس کے متعدد رہنماؤں نے مسلم کش فسادات پر، بابری مسجد کے انہدام پر اور مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں پر خواہ دبے لفظوں میں ہی سہی، اظہار افسوس تو کیا ہی ہے۔ انھوں نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ پر بھی بارہا اپنی ندامت کا اظہار کیا اور سکھ مخالف فسادات پر تو کئی بار معافی مانگی ہے، لیکن کیا یہ اخلاقی جرأت بی جے پی کے رہنماؤں کے پاس بھی ہے۔ آج بی جے پی کے جو ترجمان اچھل اچھل کر کانگریس کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ بتانے کی زحمت کریں گے کہ ان کی پارٹی نے یا لیڈروں نے کبھی کسی فساد پر معافی مانگی ہے یا اظہار افسوس کیا ہے؟ کیا وزیر اعظم نریندر مودی کے اندر اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ ان کے دور حکومت میں گجرات میں جو بدترین فسادات ہوئے تھے اور جن میں دو ہزار سے زائد مسلمان مارے گئے تھے، اس پر ان کو افسوس ہے اور ریاست کا وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے وہ اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک بار اظہار افسوس کیا بھی تو ایسی ذلت آمیز زبان میں کہ مسلمانوں کو کتے کا پلّا کہہ دیا۔ کیا مودی کے اندر یہ اعتراف کرنے کی جرأت ہے کہ وزیر اعظم بننے کے بعد ملک میں جو بھی فسادات ہوئے ہیں، گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کو جس مارا گیا ہے اور ان کے ساتھ جس طرح ناانصافیاں ہوئی ہیں ،وہ وزیر اعظم ہونے کے ناطے ان کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں؟ کیا محمد اخلاق، پہلو خان، حافظ جنید اور دوسرے بے قصوروں کی ہلاکت پر وہ اظہار افسوس کر سکتے ہیں؟ 
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی بھاجپائی لیڈر اتنی اخلاقی جرأت نہیں رکھتا کہ وہ ان واقعات کے لیے اظہار افسوس کرے بلکہ اس دور حکومت میں تو سنگھی نظریات کے حامل ان تمام لوگوں کو رہا کرنے کا سلسلہ چل پڑا ہے جو فسادات اور بم دھماکوں میں ملوث رہے ہیں۔ اتر پردیش کی حکومت نے پہلے وزیر اعلیٰ یوگی کے خلاف مقدمات چلانے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ اس کے بعد مظفر نگر فساد کے سلسلے میں بھاجپائیوں پر جو مقدمات ہیں ان کو ختم کرنے کا قدم اٹھایا اور اب سادھوی پرگیہ، سادھوی پراچی اور بالیان وغیرہ پر عاید مقدمات اٹھانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ دراصل بی جے پی والوں کو معلوم ہے کہ سیاست میں اخلاق اور شرافت کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ اس سے الٹا نقصان ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ کسی بھی قسم کی اخلاقی پابندی سے خود کو آزاد سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کبھی یہ حقیقت تسلیم نہیں کی کہ وہ مسلم کش فسادات میں ملوث رہے ہیں۔ بلکہ انھوں نے ہمیشہ اپنی کارستانیوں کو جواز بلکہ دیش بھگتی کا جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے۔ دور حاضر میں سیاست میں جو اخلاقی فقدان ہے اس کے تناطر میں سلمان خورشید کا اعتراف قابل ذکر بھی ہے اور قابل ستائش بھی۔ اس قسم کی جرأت کا مظاہرہ کبھی کبھی ہی ہوتا ہے۔
 
لال قلعہ اور تاج محل کے بغیر
 ہندوستان نامکمل
اظہارِ خیال
 مشرّف عالم ذوقی 
ہر دن تیزاب کی جھلسا دینے والی بارش کے باوجود ایک اچھے دن کا انتظار ،رات ہوتے ہی امیدیں ایسے دفن ہوتی ہیں جیسے اچھے دنوں کا انتظار ہی فضول ہو ۔پھر ایک نئی صبح سیاسی میزائلوں کا رقص اور مرتا ہوا ہندوستان ۔اچھے دنوں کا انتظار لہولہاں، اور خوف زدہ کرنے والی حقیقت کے ساتھ آزادی ،ہمہ آہنگی اور جمہوریت کے جذبے کو روندتا ہوا ہمیں اپاہج ،سرد اور بے جان لاش میں تبدیل کر رہا ہے ۔آج کی تاریخ میں موجودہ سیاست کا ہر حربہ ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو رہا ہے .
وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
کارواں لٹ چکا ،نشانیاں ختم کی جا رہی ہیں ،تہذیبی اور قومی شناخت پر حملہ ہمیں غیر محفوظ بنا رہا ہے ۔مودی صاحب نے چین سے واپس لوٹنے کے بعد ہندوستان کی سو نشانیوں میں سے سے ایک لال قلعہ کو پانچ برسوں کے لئے ڈالمیا کے ہاتھوں بیچ دیا ،یا لیز پر چڑھا دیا ۔یہاں لیز پر چڑھانے سے زیادہ صحیح لفظ بیچ دینا ہے کیونکہ تاج محل ، لال قلعہ یا قطب مینار کسی معمولی زمین کا کوئی ایسا ٹکڑا نہیں ہے جسے کوئی بھی حکومت ایک سو چالیس کروڑ عوام کے جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے بیچنے یا لیز پر چڑھانے کا تصور بھی کر سکے۔یہ مرکز کی نہیں ، ملک ہندوستان کی وراثت ہے ۔یہ کسی سرکار کی نہیں عوام کی وراثت ہے ۔اس کا سودا کرنا ، مودی جی کی زبان میں ایک ماں کا سودا کرنا ہے ۔اقتدار میں آنے سے قبل مودی اپنی ہر جذباتی تقریر میں یہ اشارہ دیا کرتے تھے کہ میں ملک کو جھکنے نہیںدوںگا، خوفناک حادثے کے بعد پورا ملک خود کو یتیم محسوس کر رہا ہے ۔ایک وراثت لیز پر نہیں چڑھی ، ہندوستانیوں کی غیرت اور عزت کو لیز پر چڑھادیا گیا ہے ۔ایک زمانہ تھا جب ملک کو غلام بناتے ہوئے انگریز حکومت نے لال قلعہ کی فصیلوں پر یونین جیک کو لہرایا تھا ،آزادی ملتے ہی یونین جیک یعنی غلام ہندوستان کی نشانی کو اُتار پھیکا گیا اور اس کی جگہ آزاد ہندوستان کے ترنگے نے لے لی اور اس طرح لال قلعہ کی فصیل آزاد ہندوستان کی مضبوط علامت بن گئی ۔۔۔ ایک ایسی علامت جہاں ستر برسوں کی تاریخ میں جشن آزادی کی تقریبات میں لال قلعہ کی فصیلیں ملک کے وقار اور سلامتی کے لئے ڈھال بن کر ہندوستانی عوام کا حوصلہ بڑھاتی رہیں ۔کیا یہ جان بوجھ کر کیا گیا ؟ کیا اس کے پیچھے بھی ٢٠١٩ کا انتخاب ہے ؟ کیا اس کو لیز پر چڑھانے کا منشا یہ ہے کہ ہم مغلوں کی وراثت سے مغلوں کا نام ہٹانے کی جرأت کر رہے ہیں اور ہندوستان کی اکثریت اس اشارے کو سمجھ کر خوش ہوگی ؟ ایک معمولی سڑک کا ٹینڈر بھی پاس ہوتا ہے تو بولی پچیس کروڑ سے زیادہ کی لگتی ہے ۔کیا لال قلعہ یا تاج محل کی عظمت کی دھجیاں بکھیرنے کے لئے معمولی سودے کے ذریعہ یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ ہم اسی طرح ہندوستان کی تمام نشانیوں کو جو مغلوں یا مسلمانوں سے وابستہ ہیں ، ملیا میٹ کر دیں گے ؟ساری دنیا جن نشانیوں کو مسلمانوں یا مغلوں کے نام سے جانتی ہے ، کیا اب ان نشانیوں کو ڈالمیا اینڈ کمپنی یا مودی اور امت شاہ کی پسنددیدہ کمپنیوں کے نام سے جانا جائے گا ؟ سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ کیا دنیا کی کوئی حکومت بھی اپنے ملک کی قدیم وراثت کو فروخت کرنےیا تہذیبی وراثت کا نام و نشان مٹانے کی کوشش کر سکتی ہے ؟یہ نفرت اور انتقام کی اب تک کی کہانی کا سب سے قاتل صفحہ ہے کہ اگر اس عمل کے خلاف اپوزیشن متحد نہیں ہوئی تو مستقبل میں تاج محل اور تمام نشانیوں کے ساتھ ملک ہندوستان کا بھی سستا سودا کر لیا جائے گا اور کوئی بھی ملک کاپرسان حال نہ ہوگا ۔یہ بڑھتے فسطائی قدم اپوزیشن کو بھی ملیامیٹ کر دیں گے ۔نوٹ بندی ، جی ایس ٹی کے بعد کا منظر نامہ یہ تھا کہ ایک درجن سے زائد کاروباری ہزاروں لاکھوں کروڑ غبن کر کے ملک سے چمپت ہو گئے ،کیا ملک کی معیشت پر آئے بوجھ کو پچیس کروڑ کی معمولی رقم کوئی سہارا دے سکتی ہے ، تو یہ ہزار سفید جھوٹوں میں سے ایک ہوگا اور اب یہ حکومت سچ کہاں بولتی ہے ۔
بچپن کے دنوں کی بات ہے ،ایک بایسکوپ والا دروازے پر آ کر زور زور سے صد لگاتا تھا ،دس پیسے میں ملک خریدو ۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کے اس پاس ہم تمام بچے جمع ہو جاتے پھر وہ تماشا دکھاتا ہوا گنگنایا کرتا ،دلی کا قطب مینار دیکھو ،آگرے کا تاج محل دیکھو ،لال قلعہ کی شان دیکھو ۔ہم پوچھتے کہ ملک خریدو کا کیا مطلب ہے تو وہ زور سے قہقہہ لگاتا کہتا ببوا دس پیسے میں سارا ملک تم کو بیچ دیا ۔اب کا چاہتے ہو؟ بایئسکوپ والا ملک بیچنے کا مطلب نہیں جانتا تھا لیکن اس بات سے واقف تھا کہ ہندوستان کا مطلب ایک ایسا ملک ہے جہاں لال قلعہ ہے ،تاج محل ہے ،قطب مینار ہے ،یہ بات چھوٹے چھوٹے بچوں سے لے کر پورا ملک جانتا ہے کہ یہ عمارتیں ملک ہندوستان کی شناخت ہیں ۔کسی غیر ملکی کے ذہن میں ہندوستان کا تصور اُبھرتا ہے تو سب سے پہلے ان کے ذہن میں یہ نشانیاں ابھرتی ہیں ۔نفرت کی خوف ناک مہم کے باوجود ہر ہندوستانی کے دل میں بھی جب ملک کا خاکہ اُبھرتا ہے تو لال قلعہ اور تاج محل کی یاد سب سے پہلے آتی ہے ۔یہ رہی مذاق کی بات ،جب ہم کسی حکمران پر ناراض ہوتے ہیں تو یہ کہنا نہیں بولتے کہ یہ شخص ملک کو بیچ کھائے گا ۔ اس جملے کی ادائیگی کے باوجود یہ یقین کرنا مشکل ہوتا تھا کہ کوئی حکمران ہمارے ملک کی بھی بولی لگا سکتا ہے لیکن بولی لگ گئی ،میڈیا اپوزیشن کے تمام اعتراضات کو دھونے کے لئے تیار بیٹھا ہے ۔مودی حکومت جانتی ہے کہ اس کے فیصلے کے خلاف جانے کی ہمت کسی میں نہیں ہے ۔یہ پہلا سودا ہے ،ابھی کئی اور سودے ہونے باقی ہیں . 
لال قلعہ کے بعد نمبر تاج محل کا ہے ۔کافی عرصہ پہلے ہندی ادیب اجے شکلا نے ایک ڈرامہ لکھا ’’کتھا اج محل کا ٹینڈر ‘‘ڈرامہ کا مرکزی خیال آج کی سیاست سے کافی قربت رکھتا ہے ۔ مغل شہنشاہ شاہجہان تاریخ کے فریم سے باہر نکل کر اچانک آج کی دلی میں پہنچ جاتے ہیں اور اپنی بیگم کی یاد میں تاج محل بنوانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ ڈرامہ میں بادشاہ کے علاوہ، تمام ساری سرکاری مشینری، بیوروکریسی، نام نہاد لیڈر ، قسم قسم کےچاپلوس اس مہم میں شامل ہو جاتے ہیں اور ایک ایک فائل برسوں تک سرکاری گودام میں دبی رہ جاتی ہے ۔پچاس سال گزر چکے ہیں،بادشاہ آخر کار دنیا کو الوداع کہہ دیتے ہیں مگر تاج محل کا بننا خواب رہ جاتا ہے ،لوہے کے ٹکڑوں سے سردار پٹیل کی آدم قد مورتی بنوانے والے مودی کو کہاں علم ہے کہ تاج محل دوبارہ آج کی تاریخ میں نہیں بن سکتا ۔محبت کی یہ نشانی ساری دنیا میں ہندوستان کی پہچان بن چکی ہے ۔مشہور ڈائریکٹر شاد علی ، مظفر علی کے بیٹے کی فلم’’ بنٹی اور ببلی‘‘ میں یہ دونوں ٹھگ کردار تاج محل کو ایک غیر ملکی کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں ۔عجیب اتفاق ہے کہ چین کے دورہ کے بعد ہی پرائم منسٹر کو لال قلعہ بیچنے کا خیال آیا ۔یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ ہزار ہزار لاکھ لاکھ کروڑ ملک سے لے کر فرار ہونے والوں کے درمیان پچیس کروڑ رقم کی اوقات کیا ہے کہ پرائم منسٹر کو یہ سودا منظور کرنا پڑا ۔ چار برس میں نو سو پچانوے کروڑ خرچ کرنے کے بعد سردار پٹیل کی مورتی ابھی صرف گھٹنے تک تیار ہو سکی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ابھی اس سے زیادہ رقم کا خرچ ہونا باقی ہے ۔ہم ایک طرف آزادی اور محبت کی یادگار کا سودا کر رہے ہیں اور ہزار کروڑ سے زائد کی رقم اگر بھگوا منصوبوں پر خرچ کر رہے ہیں تو یہ ملک کے ساتھ دھوکہ ہے ۔ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جب ظلم و بربریت کے ہر صفحے پر برہمن وادی نظریہ کی خوفناک آندھی سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے ۔ظلم سے گھبرا کر گجرات کے مظلوم دلتوں کو بوده مذھب قبول کرنا پڑتا ہے ۔ظلم و زیادتی سے گھبرائے اونا کے دلتوں کو روز روز گاؤ رکشکوں کا حملہ گوارا نہ تھا ،مدھیہ پردیش میں کانسٹبل تقرری کے موقع پر جب صحت کی جانچ ہوئی تو دلتوں کے ننگے سینے پر دلت ہونے کی ظالمانہ مہر لگائی گئی ۔یہ زمانۂ قدیم میں برہمنوں کا شیوہ تھا ۔یہ دور اپنی تمام سفاکیت اور بر بریت کے ساتھ لوٹ آیا ہے ۔اس دور میں ، اس سیاسی نظام میں کچھ بھی ممکن ہے ۔ہم تہذیبی و قومی وراثت کے ساتھ ہندوستان کو بھی لٹتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور خاموش ہیں ..

 
 
سلیمان جاذبؔ کامجموعہ کلام 
’’عشق قلندر کردیتا ہے‘‘کی تقریب رونمائی
رُودادِ مجلس
 حسیب اعجاز عاشر
 دبئی
پوچھا گیا کہ عشق کیا ہے؟ جواب ملا!
کیا کہوں میں تم سے کہ کیا ہے عشق
دل کا درد بلا کا سوز ہے عشق
 پوچھا گیا کہ یہ عشق مجازی کیا ہے ؟ جواب ملا!
میں نیواں میرا مرشد اُچا اُچیاں دے سنگ لائی
صدقے جاواں اُنہاں اُچیاں توں جنہاں نیویاں نال نبھائی
 تجسس بڑھا اور پوچھا جاتا ہے کہ تو پھر عشق حقیقی کیا ہے ؟ جواب ملتا ہے !
عشق آں شعلہ است کہ جوں بر فروخت
کہ ہر جُز معشوق باشد جملہ سوخت
یہ رائے اپنی جگہ، عشق،عشقِ مجازی، عشق حقیقی کے حوالے سے جامع مطالعہ کیا جائے تو اِس بات کا باخوبی اندازہ ہوگا کہ ہر کسی نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق اپنے اپنے انداز میں اِن کی قابل ذکر،قابل فہم تعریف کی گئی ہیں ،اور ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ’’عشقــ‘‘ کو بے معنی کا راگ قرار دیتا ہے مگر عشق ایک جذبہ ہے اور جذبات کو جھٹلانا ناممکن ہے ۔
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآن، وہی فرقان، وہی یٰسین وہی طٰہٰ
عشق ایک ایسا فطری جذبہ ہے کہ بندہ اگر کسی انسان سے عشق کر بیٹھے تو دوسرے رشتے نظروں سے اوجھل ہونے لگتے ہیں،دیگر ناطے اپنی اہمیت کھونے لگتے ہیں ۔ جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے ’’اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں تم کو تمہاری جانوں، بیوی، بچوں، گھر باراور دیگر چیزوں سب سے زیادہ عزیز نہیں ہوجاتا۔‘‘ (بخاری و مسلم)
جس نے بھی قلم تھاما ، شاعری ہو یا نثرنگاری،عشق کے موضوع پر ضرور طبع آزمائی کی، ہرکسی کی تخلیقات قارئین کی توجہ حاصل کر پائیں یہ ضروری بھی نہیں مگر عصر حاضر میں کچھ نام ایسے بھی ہیں جنہوں نے عشق کے موضوع پر لکھا اور بہت ہی خوب لکھا ،جسے پڑھا بھی گیا،پڑھایا بھی گیااور سراہا بھی گیا،اِن میں ایک دبئی میں مقیم معروف نوجوان شاعر و صحافی سلیمان جاذب کا نام بھی سرفہرست ہے جن کی منظرعام پر آنے والے مجموعہ کلام ’’عشق قلندر کر دیتا ہے‘‘ کی جادوئی جنبش نے ادبی حلقوں میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا ہے ، کتاب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ سحرانگیز کیفیات و جذبات اور احساسات بڑی ہی خوش اسلوبی سے آشکار ہونے لگتے ہیں کہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کی جانب سفر میں انسان کیسے لاحاصل رہتا ہے؟اور کیسے پیالے بھر پانی کو چھوڑ کر سمندر کا پیاسا بن جاتا ہے ؟ کیسے اس کی ترجیحات بدلنے لگتی ہیں؟کیسے رشتوں کی اہمیت کروٹ بدلنے لگتی ہے؟کیسے وہ تنگ رستوں سے ہٹ کر مدار میں محوسفر ہوجاتاہے؟کیسے عاشق اپنے معشوق سے والہانہ عشق کرنے لگتا ہے ؟اور پھر کیسے اپنے عشق کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو آمادہ ہوجاتاہے ؟ ’’عشق قلندر کر دیتا ہے‘‘  میں عشق اور عقل کے بارے وہ اظہار بھی ملتا ہے جس کے لئے مولانا رومؒ فرماتے ہیں   ؎
عشق آمد عقل او آوارہ شد
صبح آمد شمع او بیچارہ شد
سلیمان جاذب کا نام ادبی دنیا میں بالکل بھی تعارفِ محتاج نہیںتعلق سرگودھا سے ہے،2007سے دبئی میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں ،کم عمری میں ہی اِن کی تخلیقات اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں،باقاعدہ شاعری کا آغازفرسٹ ایئر سے کیا،اِن کے لکھے گیت ’’کاش‘‘، ’’پردیس میں عید‘‘، ’’الوداعـ‘‘، ’’تم جب اس کی مثال دیتی ہو‘‘،’’ لمحہ لمحہ‘‘سمیت کئی مقبول عام ہوچکے ہیں ۔فروغ ادب اور صحافتی خدمات کے اعترات میں انہیں مختلف مواقع پر بیس سے زاید ایوارڈز وشیلڈز سے نوازا جا چکا ہے ، خصوصاً شارجہ بک اتھارٹی کی طر سے بھی گزشتہ دو سالوں سے تحسینی اسناد وصول کر رہے ہیں۔طفیل ثاقب، اسلام اعظمی اور عباس تابش کو اپنا استاد مانتے ہیں ، 2009سے پاکستان جرنلسٹ فورم دبئی سے(ر) وابستہ ہیں اور اِس وقت ایونٹ سیکرٹری کی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔اِن کی کتب ’’تیری خوشبو ‘‘ 2009، ’’سورج ڈوبا نہیں کرتے ‘‘ 2012، ’’قتل گل‘‘ 2014، میں شائع ہوچکی ہیں جب کہ چوتھی کتاب ’’عشق قلندر کر دیتا ہے‘‘چند روز قبل ہی منظر عام پر آئی ہے ،جس کی تقریب رونمائی کا انعقاد گزشتہ دنوں دبئی میں کیا گیا ۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہو اجس کی سعادت  ڈاکٹر اکرم شہزاد نے حاصل کی ۔ آپﷺکے حضورسلیمان جاذب کی لکھی نعتﷺ نعت خوان درنجف کی دل سوز آواز میں پیش کی گئی۔نظامت کے فرائض حافظ زاہد علی نے حسب روایت اپنے پُرکشش منفرداندازوبیان میں بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دیئے۔ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے سلیمان جاذبؔ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا شعری مجموعہ عشقِ حقیقی اور عشق مجازی کا امتزاج ہے جس میں غزلوں کی ترتیب اس قدر آسان فہم اور سادہ ہے کہ عام لوگ بھی اسے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں تالیوں کی گونج میں’’عشق قلندر کر دیتا ہے‘‘کی رونمائی عمل میں لائی گئی ۔ معروف ادبی ، سماجی ، سیاسی اور کاروباری شخصیات کے علاوہ اردو ادب کا ذوق رکھنے والے خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔روزنامہ’’ آفتاب‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قابل افسوس بات ہے کہ ادب سماج سے دور نکلتا نظر آ رہا ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ادب زندگیوں کا حصہ بنے، تربیت کی کمی ہے، معاشرتی اقدار ختم ہوتی جا رہی ہیں، ادب برائے ادب سا لگنے لگا ہے،اردو رسم الخط سے بیزارگی پیدا ہوتی جا رہی ہے، بچے اردو کو ایک مشکل مضمون سمجھتے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔اس سوال کے جواب میں کہ ’’ وطن عزیزاور دیارِ غیر میں فروغ ادب کے حوالے کاوشوں کا کیسے موزانہ کر سکتے ہیں؟‘‘ سلیمان جاذب کا کہنا تھا کہ اردو ادب کے لئے بیرون ملک زیادہ کام ہوتا ہے کیونکہ ہجرت اور زبان کی عدم دستیابی لگائو بڑھاتی ہے،ملک سے باہر اچھا کام ہو رہاہے خصوصا ًعالمی مشاعرے و تقاریب ۔ اپنی قائم کردہ تنظیم مسفرہ انٹرنیشنل کے حوالے سے کہنا تھا کہ یہ خالصتاً ادبی وثقافتی روایات کی امین تنظیم ہے،جس کا مقصدمشاعروں و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کرانا ہے اور فروغ ادب کیلئے کاوشیں کرنے کے علاوہ ادب میں گراں قدر پیش کرنے والوں کو پذیرائی بھی کرنا ہے ، یہ سلسلہ الحمداللہ ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے ۔ ’کیا آپ سمجھتے ہیں ادب محفوظ ہاتھوں میں ہے،کیسے؟‘‘روزنامہ ’’آفتاب ‘‘کی جانب سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں جاذبؔ نے کہا کہ نئی نسل راغب ہے لیکن محنت کی ضرورت ہے، ادب کو ادبی گروہ بندیوں سے نقصان ہو رہا ہے،بے لوث لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔’’آفتاب‘‘ کے توسط نئے لکھنے والوں کے نام اپنے پیغام میں سلیمان جاذب کا کہنا ہے کہ کامیابیوں اور شہرت کے لئے کوئی شارٹ کٹ نہیں،محنت اور لگن ک ساتھ تسلسل سے کام کر نا ضروری ہے ۔