فوج مخالف مظاہروں کے دوران سوڈانی وزیراعظم مستعفی

خرطوم//سوڈان کے وزیر اعظم عبداللہ حمدوک نے ملک میں جاری سیاسی بحران کے درمیان اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے ۔مسٹر حمدوک نے کہا کہ "میں وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتا ہوں تاکہ اس آزاد خیال ملک کی بیٹیوں یا بیٹوں میں سے کسی اور شخص کے لیے جگہ بنائی جا سکے ۔" انہوں نے سرکاری سوڈان ٹی وی پر نشر ہونے والے ملک سے اپنے خطاب میں کہا کہ "آپ نے مجھے اس نازک اور پر امید حالات میں وزیر اعظم بننے کا اعزاز بخشا اور میں نے اپنے ملک کو تباہی کی طرف جانے کے خطرے سے بچانے کی پوری کوشش کی ہے ۔" انہوں نے کہا، "سیاسی قوتوں میں اختلافات کے باوجود ہم نے سیکورٹی، امن، انصاف اور خونریزی کی روک تھام کے وعدے کے ساتھ شہریوں سے جو وعدہ کیا اسے پورا کرنے کے لیے ہم نے مطلوبہ اور ضروری اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی ۔"مسٹر حمدوک نے ملک میں سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے جامع مذاکرات شروع کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔"اس مخمصے کو حل کرنے کے لیے کلیدی لفظ گول میز مذاکرات ہیں، جن کے بارے میں ملک میں چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے بات کی جا رہی ہے ۔ سول ڈیموکریسی کی بحالی کے لیے بات چیت ہونی چاہیے اور روڈ میپ تیار کیا جانا چاہیے ۔"قابل ذکر ہے کہ سوڈانی مسلح افواج کے جنرل کمانڈر عبدالفتاح البرہان نے 25 اکتوبر کو ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے خود مختار کونسل اور حکومت کو تحلیل کر دیا تھا۔ مسٹر البرہان اور مسٹر حمدوک کے درمیان 21 نومبر کو ایک معاہدہ ہوا اور مسٹر حمدوک دوبارہ سوڈان کے وزیر اعظم بن گئے ، لیکن یہ معاہدہ ملک کے حالات کو پر امن بنانے میں ناکام ثابت ہوا۔