سید مصطفیٰ احمد، اقرا ءبشیر
معاشرہ اس وقت بے شمار اخلاقی اور سماجی برائیوں کی گرفت میں ہے۔ بدعنوانی، ناانصافی، بے ایمانی، اسقاطِ حمل اور دیگر جرائم یقیناً تشویش ناک ہیں، مگر ان سب کے درمیان ایک ایسی خاموش برائی بھی پروان چڑھ رہی ہے جو بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہے لیکن اپنے اثرات میں نہایت تباہ کن ہے۔ یہ برائی غیبت ہے، جو آج ہماری روزمرہ زندگی کا ایسا حصہ بن چکی ہے کہ اکثر لوگ اس کی سنگینی کا احساس ہی نہیں کرتے۔ اسلام کی رو سے غیبت کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کی ایسی برائی بیان کرنا ہے جسے وہ سن کر ناگوار محسوس کرے۔ اگرچہ بہت سے لوگ اسے محض گفتگو یا دل لگی سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک عظیم گناہ اور حقوق العباد کی صریح خلاف ورزی ہے۔ زبان سے نکلنے والا ایک غیر ذمہ دارانہ جملہ کسی انسان کی عزت، کردار اور وقار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عبادات کی ظاہری ادائیگی پر تو بہت زور دیا جاتا ہے، مگر حقوق العباد کی ادائیگی کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کا اسلام نے حکم دیا ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج یقیناً دین کے بنیادی ارکان ہیں، لیکن لوگوں کی عزت، آبرو اور نیک نامی کی حفاظت بھی عبادت کا حصہ ہے۔ جو شخص اللہ کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرے مگر بندوں کے حقوق پامال کرے، اس کی دینداری اپنی روح سے خالی رہ جاتی ہے۔ حقیقی تقویٰ صرف عبادات کی کثرت سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل اظہار انسان کے کردار، اخلاق اور دوسروں کے ساتھ اس کے حسنِ سلوک میں ہوتا ہے۔غیبت کے فروغ کی ایک بنیادی وجہ حقوق العباد کے حقیقی تصور سے ناواقفیت ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ حقوق صرف مالی معاملات تک محدود ہیں، حالانکہ اسلام نے ہر انسان کی عزت، وقار، جذبات اور شہرت کو بھی قابلِ احترام قرار دیا ہے۔ کسی کی تذلیل کرنا، اس کی خامیاں اچھالنا، اس کے خلاف افواہیں پھیلانا یا اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا سب اسی زمرے میں آتا ہے۔ ایسے اعمال آہستہ آہستہ اعتماد، محبت اور اخوت کی فضا کو ختم کر دیتے ہیں اور ان کی جگہ بدگمانی، نفرت اور عداوت جنم لیتی ہے۔
غیبت محض زبان کی لغزش نہیں بلکہ دل کی بیماریوں کا اظہار بھی ہے۔ حسد، بغض، تکبر، خود غرضی اور دوسروں کو نیچا دکھانے کی خواہش انسان کو اس برائی کی طرف مائل کرتی ہے۔ بعض لوگ دوسروں کی کامیابی برداشت نہیں کر پاتے، اس لیے ان کی عزت کو مجروح کرنے یا ان کے بارے میں منفی باتیں پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ باطنی بیماریاں فرد کے اخلاق کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اجتماعی فضا کو بھی آلودہ کر دیتی ہیں۔قرآنِ مجید نے غیبت کی قباحت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ یقیناً تم اسے ناپسند کرو گے۔‘‘یہ مثال غیبت کی سنگینی کو واضح کرتی ہے اور انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اسی طرح رسولِ اکرمؐ نے فرمایا کہ انسان یا تو بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔ یہی تعلیم زبان کو غیبت، بہتان، جھوٹ اور دیگر اخلاقی برائیوں سے محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
غیبت کے عام ہونے کی ایک اہم وجہ آخرت کے احتساب سے غفلت بھی ہے۔ بہت سے لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ محض عبادات انہیں نجات دلا دیں گی، حالانکہ قیامت کے دن بندوں کے حقوق کے بارے میں بھی سخت باز پرس ہوگی۔ اس دن نہ مال و دولت کام آئے گی، نہ منصب و اقتدار اور نہ ہی ظاہری نیکیوں کا اظہار، اگر انسان نے دوسروں کی عزت پامال کی ہوگی۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کا محاسبہ کرے، جن لوگوں کی دل آزاری کی ہے ان سے معافی طلب کرے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید رکھنے سے پہلے حتیٰ المقدور بندوں کے حقوق ادا کرے۔
غیبت کے مضر اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اس سے خاندانوں میں اختلافات جنم لیتے ہیں، دوستیاں ٹوٹ جاتی ہیں، اداروں کا ماحول کشیدہ ہو جاتا ہے اور باہمی اعتماد ختم ہونے لگتا ہے۔ جب غیبت، بہتان اور افواہوں کا چلن عام ہو جائے تو معاشرے کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور نئی نسل بھی انہی منفی رویوں کو اپنا لیتی ہے۔اس برائی سے نجات کا آغاز خود احتسابی اور اصلاحِ نفس سے ہوتا ہے۔ والدین، اساتذہ، علماء کرام اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کو حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی اہمیت سے بھی روشناس کرائیں۔ گھروں، مساجد اور تعلیمی اداروں میں ایسے ماحول کو فروغ دیا جائے جہاں عاجزی، درگزر، صبر، برداشت اور خیرخواہی جیسی صفات پروان چڑھیں اور حسد، تکبر، بغض اور غیبت جیسے اخلاقی امراض کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کو صرف سچی، مفید اور احترام پر مبنی گفتگو کا عادی بنائے۔
مختصراً غیبت ایک ایسی اخلاقی اور سماجی برائی ہے جو افراد کی عزت، معاشرتی اعتماد اور اجتماعی ہم آہنگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ اگر ہم ایک صالح، مہذب اور پرامن معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں تو ہمیں اس مہلک عادت سے ہر قیمت پر اجتناب کرنا ہوگا۔ ہماری زبان سچائی، خیرخواہی، عدل اور رحم دلی کی ترجمان ہونی چاہیے، نہ کہ دوسروں کی کردار کشی کا ذریعہ۔ جب ہم دوسروں کی عزت کو اپنی عزت سمجھنے لگیں گے، تبھی ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جو باہمی احترام، اخوت، انصاف اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگا۔
[email protected]