ولی اللہ
محمد اظہر شمشاد
تمام علماء و اولیاء کا اسبات پر اتفاق ہے کہ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؓ پیدائشی ولی ہیں۔ آپ کی پیدائش رمضان ۴۷۰ھ میں ایران کے شہر مغربی گیلانمیں ہوئی، اس لیے اس طرف منسوب کرتے ہوئے آپ کو گیلانی بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کا شجرہ نسب والد کی طرف سے حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور والدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سے جاملتا ہے ،اس طرح آپ نجیب الطرفین سید ہیں ۔آپ بچپن سے ہی اعلیٰ خوبیوں کے حامل تھے، عام طور پر بچے کھیل کود کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں لیکن آپ بچپن سے ہی کھیل کوداور لغو چیزوں سے دور رہے۔ ایام طفولیت میں آپ کے والد محترم ابو صالح موسی جنگی دوستؒ کا وصال ہو گیا والدہ ام الخیر فاطمہؒ اور نانا حضرت عبداللہ صومعی ؒ کے زیر سایہ آپ نے تربیت پائی۔ کچھ لوگوں نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ کو آپ کی ولایت کا علم کب ہوا تو آپ نے فرمایا، دس سالکی عمر میں جب میں مکتب جاتا تھا ۔ آپ نے بچپن ہی میں حفظ قرآن مکمل کر لیا تھا اور جب آپ کی عمر اٹھارہ سال کی ہوئی تو تحصیل علم کے لیے بغداد کا قصد کیا اور اپنی والدہ ماجدہ سے کہا مجھے خدا کے کام میں لگادیجیے تاکہ میں دین متین کی خدمت کر سکوں اور اجازت مرحمت فرمائیے کہ بغداد جا کر علم حاصل کروں۔ والدہ کا اجازت دینا اور اپنے لخت جگر کو خود سے دور کرنا دشوار گزار امر تھا، تاہم خدا کی رضا و خوشنودی کے لیے اجازت مرحمت فرما دی، پھر آپ سخت اور دشوار گزار راستوں کی صعوبتوں کو برداشت کر کے ۴۸۸ ھ میں بغداد شریف پہنچے۔ طالب علمی کے دوران آپ کو بے شمار تکالیف اور انتہائی مشکل حالات سے دو چار ہونا پڑا، مگر ان تمام مشکلات پر آپ نےصبر کیا اور کبھی بھی یہ مشکلات آپ کے مقاصد کے راہ میں حائل نہ ہو سکیں۔ اس وقت کا سب سے بڑا مدرسہ مدرسہ نظامیہ میں آپ نے داخلہ لیا ،جس میں عالماسلام کے قابل قدر اساتذہ کرام پڑھایا کرتے تھے۔ رخصت ہوتے وقت آپ کی والدہ نے آپ کو چالیس دینار دیا تھا، جو چند ماہ میں ہی ختم ہو گئے تھے۔ اس کے بعد آپ فاقہ پر فاقہ کرتے رہے ،کئی سالوں تک دریائے دجلہ کے کنارے کھالی گھاس اور سبز پتوں کے سہارے زندگی بسر کی، دن بھر پڑھتے اور رات بھر فاقے کی اذیتوں میں گزارتے ،مگر ان سب کے باوجود انہوں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور کبھی شکایت کا ایک لفظ بھی اپنی زبان پر نہ لایا۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب بغداد میں قحط سالی ہوئی تو کئی روز تک میں نے کھانا نہیں کھایا، ایک دن بھوک کی شدت نے مجھے بہت ستایا تو میں دریائے دجلہ طرف چلا گیا کہ شاید وہاں سبزی کے پتے مل جائیں جو لوگ سبزی دھوتےوقت پھینک دیتے تھے۔ میں جہاں جاتا لوگو ںکا ہجوم اسے مجھ سے پہلے اٹھا لیتا تھا آخر کار میں بھوکا ہی شہر واپس آ گیا اور مسجد کے ایک گوشے میں جا کر بیٹھ گیا، اسی اثنا میں ایک نوجوان روٹی اور بھنا ہوا گوشت لے کر آیا اور کھانے لگا، بھوک کی شدت کی وجہ سے میرا یہ حال تھا کہ جب وہ لقمہ اٹھاتا تو میں اپنا منہ کھول دیتا ،میں نے اپنے نفس کو اس حرکت سے منع کیا۔ اتنے میں اس نے میری طرف دیکھا اور کہا آؤ بھائی تم بھی کھانا کھاؤ! میں نے انکار کیا تو اس شخص نے مجھے قسم دی اور کھانے پر مجبور کیا۔ پھر اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ ایک نوجوان جس کا نام عبدالقادر ہے کیا اسے جانتے ہو ؟ میں نے کہا وہ میں ہی ہوں تو وہ بہت بے چین ہوا اور کہا خدا کی قسم یہ آپ کی امانت ہے جو آپ کی والدہ نے مجھے آپ کو پہنچانے کے لیے دیا تھا۔ میں تین روز فاقے سے تھا، اس لیے مجبور ہو کر آج آپ کا یہ روٹی کھانے کے لیے بیٹھ گیا، اس لیے یہ آپ کا ہی ہے اور میں اب آپ کا مہمان ہوں۔ آپ فرماتے ہیں میں نےاسے تسلی دی اور اپنی خوشنودی کا اظہار کیا، پھر اسے بچاہوا کھانا دے کر رخصت کیا۔ سخت محنت و مشقت سے علم حاصل کرنے کے بعد آپ نے بغداد شہر کو چھوڑ عراق کے صحراؤں اور جنگلوں میں ۲۵ سال تک سخت عبادت و ریاضت کیا۔ سخت عبادت و ریاضت کرنے کے بعد آپ دوبارہ بغداد تشریف لائے اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور لوگوں کی ظاہری اور باطنی گندگی کو دور کرنے لگیں، جلد ہی پورے بغداد میں آپ کے نیک نامیکی شہرت پھیل گئی اور لوگ دور دور سے آپ کی بارگاہ میں آ کر فیضیاب ہونے لگے۔ آپ نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں بھرپور حصہ لیا اور لوگوں کو اسلام سے قریب کرتے رہیں۔ یوںتو آپ کی بے شمار کرامتیں ہیں، ان میں ایک کرامت بہت مشہور ہے کہ آپ ماہ رمضان میں طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کبھی بھی دودھ نہیں پیتے تھے، آپ کے کرامتوں کا ظہور بچپن ہی سے شروع ہو گیا تھا اور پوری زندگی میں بے شمار کرامتوں کا ظہور آپ سے ہوا ۔آپ صاحب کرامت ولی تھے چناں چہ شیخ علی بن ابی نصر الہیتی فرماتے ہیں، میں نے اپنے اہل زمانہ میں کسی کو حضور غوث سے بڑھ کر صاحب کرامت نہیں دیکھا ،جس وقت کوئی شخص آپ کی کرامت دیکھنے کی خواہش کرتا دیکھ لیتا اور کرامت بھی آپ سے ظاہر ہوتی۔ آپ نے طالبین حق کے لیے گرانقدر کتابیں بھی تحریر کیں جیسے غنیۃ الطالبین، الفتح الربانی والفیض الرحمانی، ملفوظات، فتوح الغیب، جلاءالخاطر وغیرہ۔ آپ نے چار شادیاں کیں ،جن سے انچاس بچے پیدا ہوئے ،بیس لڑکے اور باقی لڑکیاں۔ آپ کے بے شمار القابات ہیں جیسے غوث اعظم، پیران پیر، محی الدین، شیخ الشیوخ، سلطان الاولیاء، سردار اولیاء وغیرہ۔ آپ تمام ولیوں کے سردار تھے چناں چہ آپ خود فرماتے ہیں قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی اللہ یعنی میرا یہ قدم تمام اولیاء اللہ کے گردن پر ہے ۔آپ کی پوری زندگی تمام لوگوں کے لیے مثال ہے اور امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ کا وصال ۸ ربیع الاول ۵۶۱ ھ کو نواسی سال کی عمر میں ہوا اور آپ کا مزار مقدس بغداد میں آج بھی مرجع خلائق ہیں۔
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا
(رابطہ۔98436658850)