نہ نام، عہدہ نہ شہرت پہ انحصار رکھو
تم اپنے خُلق کو لوگوں میں یادگار رکھو
عروجِ عرش پہ رہتے ہو تم رہو لیکن
زمیں سے اپنے تعلق بھی استوار رکھو
بہارِ وقت ہر اک شاخ پر ہجوم رہا
خزاں میں ایک ہی پتّا ہو غمگسار رکھو
بلند ہو کے بھی لوگوں کے دل میں گھر کر لو
فضا میں اڑتے ہوئے بھی زمیں سے پیار رکھو
ہجومِ شہر میں خوشبو کی طرح عام رہو
بھلے ہی نام کا ہمراہ اشتہار رکھو
غرورِ علم و ہنر راہزن نہ بن جائے
مزاج میں ذرا تم رنگِ انکسار رکھو
غرض کی دھوپ میں رشتوں کے رنگ بجھتے ہیں
وفا کے پیڑ پہ بس اپنا اعتبار رکھو
مرے نصیب میں شاید وصال لکھا نہیں
سو اپنے دل میں مرا شوقِ انتظار رکھو
خزاں نہ پا لے شجر یہ شباب کا اپنے
دلوں کے بیچ محبت کے برگ و بار رکھو
ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی، انڈیا
چلے دھوپ میں تو شجر آ گئے
نشاں منزلوں کے نظر آ گئے
نہ چھوڑا کوئی واپسی کا نشاں
جلا کر ھر کشتی ادھر آگئے
ملیں مشکلیں ایسی اس راہ میں
خبر یہ ہوئی بے خبر آ گئے
صدا کوئی الفت کی آتی نہیں
یہ زر کے کہاں ہم نگر آ گئے
تری چاہ میں جو ہوئے در بدر
نئے ہر قدم پر سفر آ گئے
بہاروں کی رت ہو گئی ہر طرف
خیالوں میں جو تم نظر آ گئے
جنوں پھر معین آج بڑھنے لگا
ہمیں یاد جب وہ جدھر آ گئے
معین فخر معین
موبائل نمبر؛003443837244
دل میں اک شوقِ نہانی اور ہے
تیری رحمت کی نشانی اور ہے
لوگ سمجھے ہیں عبادت بس یہی
اہلِ دل کی زندگانی اور ہے
ذکر میں فکر میں سجدوں میں تری
عاشقوں کی شادمانی اور ہے
عقل جس منزل پہ آ کر رک گئی
عشق کی آگے روانی اور ہے
درد ملتا ہے تو ملنے دیجیے
اس میں بھی اک مہربانی اور ہے
ہم نے دنیا کی محبت دیکھ لی
تیرے در کی کامرانی اور ہے
سبدرؔ اس در کی گدائی کم نہیں
تخت والوںکی کہانی اور ہے
سبدر شبیر
اوٹو اہربل کولگام ، کشمیر
[email protected]
رم جم رم جم برسا پانی
وادی جنگل صحرا پانی
یادوں کے جب بادل گرجے
میری آنکھ سے چھلکا پانی
فرقت کی لمبی راتوں میں
جگنو بن کر چمکا پانی
پی کر میں بھی ہوش میں آیا
تیرے ہاتھ کا میٹھا پانی
بالکل تم جیسے لگتے ہیں
کشتی دریا بہتا پانی
اکثر خواب میں دیکھا میں نے
آگ دھواں اور جلتا پانی
بادل بجلی برکھا ساون
چھت سے ٹپ ٹپ ٹپکا پانی
تیری انگلی کی جنبش سے
قطرہ قطرہ مہکا پانی
جب بھی دیکھا سہما پنچھی
چھت پر رکھا دانہ پانی
کتنا پیارا لگتا ہے عالم ؔ
کہساروں سے گرتا پانی
آفتاب عالم ؔ شاہ نوری
کروشی بلگام کرناٹک
موبائل نمبر؛8105493349
کیا قوم کا معمار مر چُکا ہے ؟
نادار وہ لاچار مر چُکا ہے ؟
کہتا ہے یہ اخبار مر چُکا ہے !
زندہ ہیں دشمن ، یار مر چُکا ہے !
کس کو پلائے جامِ اُنس ساقی
پیتا جو تھا مے خوار ، مر چُکا ہے
آواز دے کر کس کو ہم بُلائیں
بے سود ہے بیکار ، مر چُکا ہے !
ہر نقش میں ہے عکس یاں اُسی کا
یہ جھوٹ ہے دلدار مر چُکا ہے
زندہ مصنف شاہکار میں یاں
باقی ہے فن ، فنکار مر چُکاہے !
رُخسانہ پروین
باغات، برزلہ، سرینگر، کشمیر
بھیڑ بہت ہے راہیں کم
وقت بھی اور ہیں سانسیں کم
لکھا جائے تو لکھ لکھ کر
پڑھ جائینگی کتابیں کم
تھک کر سونے والوں کی
نیند بہت ہے راتیں کم
اس کی آنکھیں یوں سمجھو تم
جام بہت تو شرابیں کم
حق کے ساتھ اگر ساقی ؔ
بولا جائے تو باتیں کم
ساقی اعجاز
ڈوگری پورہ
اونتی پورہ ، پلوامہ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005500468
دستِ صنم کیا ملا ہم خدا کو بھلائے بیٹھے ہیں
عشق کی آگ میں خود کو جلائے بیٹھے ہیں
سنگ دل ہے !اُس صنم نے مگر کہہ دیا
کیوں مجھے دل کا خدا بنائے بیٹھے ہیں
جنون عشق تیرا اب عجب عالم دیکھا ہے
تجھ کو بھول بیٹھا،ہم اسے گلے لگائے بیٹھے ہیں
لوگ محبت میں شرین و فرہاد ہونگے
ہم سجدے کرتے بھی سیاہ کار بنے بیٹھے ہیں
ساقی شرابِ عشق کا جام پیاہے جب سے
تب سے ہر راہ پہ اس کے ترانے سنانے بیٹھے ہیں
نورؔ آنکھوں سے بینائی چھن جائے تو کیا غم ہے
دل کی بستی میں تیرے خواب سجائے بیٹھے ہیں
انشاء نورؔ
طالب علم :سمسٹر دوم
گورئمنٹ ڈگری کالج ڈنگی وچہ،بارہمولہ، کشمیر