سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں وکشمیر کے عوام کو عید الفطر کے موقع پر مبارکباد پیش کی ہے۔اپنے پیغام میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایک مہینے کے روزے اور مومنین کی دعا قبول کرنے کی دعا کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ماہ رمضان میں سخاوت ، نظم و ضبط اور تقویٰ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کے بعد لوگ روز مرہ کی زندگی میں بھی آجاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی امید کی کہ یہ عید جموں و کشمیر کے لوگوں کو ہمیشہ کے لئے امن ، خوشی اور خوشحالی لائے گی۔محبوبہ مفتی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ معاشرے کے پسماندہ طبقوں خصوصا ً یتیموں ، بیواؤں ، بے سہاروں اور ان تمام افراد کو فراموش نہ کریں جنہیں عید کی خوشیوں کے دوران گذشتہ تین دہائیوں کے بحران کے دوران برداشت کیا گیا تھا اور انہیں معاشرے کے دھارے میں واپس لانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔اس موقع پر محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، بھائی چارے اور انسانی اقدار کو برقرار رکھنے کے لئے بھی دعا کی۔جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے لوگوں کو عید الفطر کے موقع پر مبارکباد پیش کی اور ان کی تندرستی کے لئے دعا کی۔ایک پیغام میںجے کے پی سی سی صدر غلام احمد میر نے عید الفطر کے موقع پر لوگوں کو مبارکباد پیش کی ہے اور امید کی ہے کہ یہ موقع عوام کی خوشحالی اور امن ، استحکام کا راستہ ہوگا۔اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے جموں وکشمیر کی عوام کو عید الفطر کے مقدس موقع پر مبارکباد پیش کی ہے۔ ایک تہنیتی پیغام میں بخاری نے کہاکہ عید وہ دن ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کا اُس کی طرف سے دی گئی نعمتوں، برکتوں اور بخش کے لئے شکر بجالتے ہیںاور ساتھ ہی ہمارے سماج کے کمزور طبقہ جات اور غرباء کے ساتھ بھی خوشیاں بانٹتے ہیں۔ انہوں نے کہا’’عید کے موقع پر اِس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اُن کا بھی خیال رکھیں جنہیں ہمارے مدد کی ضرورت ہے،اِس عید کا مقصد ہر ایک چہرے پر خوشی اور اُمیدلانا ہے، مجھے یقین ہے کہ یہ مقدس دن ہماری مشکلات میں کمی کرے گا اور اللہ تعالیٰ ہمیں وباء سے نجات دے گا‘‘۔انہوں نے انتظامیہ سے گذارش کی کہ اشیائے ضروریہ کی سپلائی وافر مقدار میںیقینی بنائی جائے اورعید الفطر کے دن بلاخلل بجلی اور پانی کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے ۔انہوں نے لوگوں سے گذارش کی ہے کہ تمام لازمی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کریں کیونکہ جموں وکشمیر ابھی کورونابحران سے دوچار ہے۔انجمن شرعی شیعیان کے صدرآغا سید حسن نے عیدالفطر کے موقع پر فرزندان توحید کی خدمت میں ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہوئے عالمی انسانیت کی امن و سلامتی کے لئے دعا کی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ وبائی صورتحال لاک ڈاون کی وجہ سے غریب و مفلس اور مساکین کے مشکلات میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے۔ نہ جانے کتنے لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہورہے ہوں۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے فارغ البال بنایا ہے وہ زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ اپنے محتاج بھائیوںکے لئے سخاوت و سلہ رحمی کا بھر پور مظاہرہ کریں۔ آغا حسن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اپنے آس پاس ایسے لوگوں کی بھر پور دلجوئی کریں جنہیں موجودہ حالات نے متاثر کر رکھا ہے اور جس طرح پورے ماہ مبارک کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کیا گیا اور سماجی فاصلوں کو برقرار رکھا گیا۔ عید کے موقعہ پر بھی ان احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جائے۔انجمن حمایت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو نے عیدالفطر کے موقعہ پر اہل کشمیر کو عید مبارک پیش کرتے ہوئے استدعا کی کہ فضول خرچی اور اصراف سے اجتناب کرتے ہوئے اُن لوگوں کی مدد کریں جن میں موجودہ مغموم حالات سے تنگ دستی پیدا ہوگئی ہے کیونکہ ماہ رمضان اور روزوں کی قبولیت کی شناخت یہ ہے کہ ہمارے اندر جذبہ ایثار ،خدمت خلق اور مساوات کی صفاتوں سے بلا مذہب و ملت عوام کی مدد و خدمت ہونی چاہئے۔ یہی ماہ رمضان اور روزوں کی قبولیت پر پیغام دین ہے۔ حقانی میموریل ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ سید حمید اللہ حقانی نے مسلمانان عالم بالخصوص جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو عیدالفطر کے روزہدیہ تہنیت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں برائیوں سے دور رہنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور بندوں کو خود احتسابی کا موقعہ فراہم کرنے کے ساتھ ان میں رحم دلی کے اَقدار کو بھی اْبھارتا ہے۔انہوں نے دعاکی کہ وہ اس عید الفطر کو تمام مسلمانوں کے لیے خوشیوں بھرا دن بنادے ۔ انہوں نے کہا کہ عید کی اِن مسرت کی گھڑیوں میں اْن مسکین، نادار اور مفلوک الحال بھائیوں بہنوں کو بھی یاد کرنے کی ضرورت ہے جو زمانے کے ستم رسیدہ ہیں اور موجودہ صورتحال کے نتیجے میں اقتصادی بدحالی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ انجمن علمائے احناف کے سربراہ مولانا اخضر حسین نے اہل اسلام کو عید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے موجودہ وبائی بیماری کی صورتحال میں عید سادگی سے منانے کی اپیل کی ہے۔مولانا اخضر حسین نے کہا کہ وبائی بیمارے کی وجہ سے ہر گلی اور علاقے میں جنازے اٹھ رہے ہیں،اور اس صورتحال میں اہل وادی کو عید سادگی سے منانے کا اہتمام کرنا چاہے۔انہوں نے کہا فرزندان توحید کو مشورہ دیا کہ موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے حالات کے مارو،غرباء اور مفلسوں کو فراموش نہ کریں،بلکہ انہیں بھی عید کی حقیقی خوشیوں میں شامل کریں۔