سید نظیر احمد نظیرؔ
کائنات ِارض پر بسنے والی سبھی اقوام اپنے خصوصی تہوار مناتے ہیںاور یہ تہوار معاشرے اور سماج کی پہچان ہوتے ہیں ،ان سے سوسایٹی اور معاشرے میں اتفاق واتحاد و یگانگت اور باہمی رابطہ کی خوشگوار فضا پیدا ہوتی ہے۔تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر تہوار کسی اہم ترین واقعہ کی یاد میں منایا جاتا ہے ۔امت مسلمہ کے لئے اہم ترین تہوار دس ذی الحجہ ہے ،عید قربان ایک عظیم اسلامی مذہبی تہوار ہے ۔امت مسلمہ کے مورث اعلیٰ سیدنا حضرت ابرہیم ؑ نے خواب میں اشارہ پاکر اپنے نورِ نظر لخت ِ جگر حضرت اسماعیلؑ کے گلے پرچُھری رکھی اور کامل اور تسلیم اطاعت الٰہی کا بے مثال ثبوت پیش کیا کہ تاریخ انسانی اس کا ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہے۔چنانچہ خدا ئے بزرگ و برتر نے عشق و محبت اور قربانی کے اس کڑے امتحان میں حضرت ابرہیم ؑ کو کامرانی فرمائی اور حضرت اسماعیلؑکے بدلے ایک دُنبہ کی قربانی قبول فرمائی ۔حضرت اسماعیلؑ کو ذبیح اللہ کے لقب سے نوازا،آپ ؑکی اس روح پرور اور فکر انگیز ادا کو تاقیامت زندہ رکھنے کے لئے امت مسلمہ کے لئے رسم ِ عاشقی قرا دیا۔جس مقدس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا اس میں پورے عالم اسلام کا عظیم الشان سالانہ اجتماع رکھا ،عید ِ قربان اسی خوشی میں منایا جاتا ہے ،یہ قربانی حضرت ابراہیم ؑ کے لئےباعثِ آزمائش اور امتحان تھی۔
قرآن پاک میں اس کا بیان انبیائے سابقین میں قربانی کا رواج رہا ہے۔قربانی کا مقصد گوشت اور خون کو بہانا نہیں ہے بلکہ کامل خلوص اور تقویٰ مقصود ہے۔قربانی ہمیں تسلیم و اطاعت کا سبق دیتی ہے ،یعنی ہم اپنے آپ کو خداوند تعالیٰ کے سپرد کردیں جیساکہ حضرت ِ ابراہیمؑنے ثبوت پیش کیا ۔ہماری نماز،حج،زکوٰۃ اور ہماری خواہشات ، زندگی کے تمام لمحات خداوند تعالیٰ کے ارشادات کے تابع ہوں ،یہی اس قربانی کا مقصد ہے۔
حج کا جہاں یہ مقصد ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو مرکز توحید کعبتہ اللہ کے گرد جمع ہوکر بہ یک دل و زبان پُر جوش و پُر خروش نعرہ ٔ مستانہ سے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و رفعت بلند کرکے سال بھر کے لئے عالم انسانیت کی خاطر بلا تفریق قوم نسل اور بلا امتیاز وطن و نسب ایک حیات بخش جامع پروگرام تیار کرنا اور سچی باتیں باقی مسلمانوں کے کانوں تک پہنچانا ہے۔ مگر افسوس ! کیااس نعمت کی قدر ہم کرتے ہیں۔جبکہ آپس میں اس دلکش پروگرام کی جگہ باہم دست و گریباں ،جنگ و جدل ،پھوٹ اور اختلاف کے شکار بن کر جہالت کے رسم و رواج میں اور بھی زیادہ مبتلا ہوجاتے ہیں۔
دنیا کے تمام مذاہب میں اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ اس نےتمام عبادات و اعمال کا ایک ہی مقصد متعین کیا اور اس مقصد کو بہت ہی صراحت کے ساتھ ظاہر کردیا ۔نماز کے متعلق فرمایا ،نماز ہر قسم کی بد اخلاقیوں سے انسان کو روکتی ہے۔روزہ کے متعلق بیان ہے ،روزے کے ذریعے تم لوگ پرہیز گار بن جائو گے۔زکواۃ کے متعلق ہے بیان ہے ،مال و دولت میں سے ایک حصہ بطور صدقہ دے کر تم بخل اور حرص وطمع سے پاک و صاف ہوجائوگے۔ حج کے تمام فوائد و منافع کو بھی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا۔حج کا اصل مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے فوائد کو حاصل کریں اور چند مخصوص دنوں میں خدا کو یاد کریں (القرآن) اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے حج بھی ایک رکن ہے۔خانہ کعبہ کے طواف ،صفامروہ کے درمیان دوڑنے اور مکہ کی بعض دوسری جگہوں پر حاضری سے عبارت ہے ۔اس کی حقیقت پر غور کیا جائے تو یہ محبت کی ایک داستان دکھائی دیتی ہے جسے مسلمان اپنا فریضہ سمجھ کر ہر سال مخصوص ایام میں انتہائی عقیدت سے دہراتے ہیں۔اسلام کے ہر رکن کی ادائیگی اور قبولیت کا دارمدار محبت پر ہے اور حج محبت کا نقطہ عروج پر دکھائی دیتا ہے جو اللہ کے مقدس گھر خانہ کعبہ کے گرد گھومتا ہے۔خانہ کعبہ روئے زمین پر عبادت خداوندی کے لئےتعمیر کی گئی اور راہِ انسانیت کے لئے رشدو ہدایت کا مرکز قرار پائی ،بنی نوع انسان کے لئے عبادت کاسب سے پہلا گھر مکہ مکرمہ ہے اور تمام جہاں والوں کے لئے برکت اور ہدایت کا سر چشمہ ہے۔
حج میں تمام امیر غریب مسلمانوں کا لباس احرام ،ایک ہی قسم اور ایک ہی رنگ کا ہوتا ہے جو مساوات ،برابری اور باہمی بھائی چارہ کی تعلیم دیتا ہے۔اس پس منظر میں وحدت امت، اتحاد،اخوت اور مساوات کے علاوہ رضائے مولاکی تعمیل حکم ،سنت ِ رسولؐ ،دیدار کعبتہ اللہ اور امت اسلامیہ کا ایک اجتماع ہے۔ درحقیقت حج بیت اللہ ایسا وسیلہ ہے جہاں ہر شخص ہر قسم کے تفکرات سے آزاد ہوکر ربّ حقیقی کو پکارتا ہے۔لسان ِنبوت نے حج کی فضیلت اور اللہ کے ہاں اس کے بلند درجہ کا بہت اہتمام اور تاکید کے ساتھ ذکر کیا ہے،اس لئے کہ اس سے دل میں طلب و شوق اور ایمان و احتساب کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور جب تک یہ دونوں چیزیں کسی عمل کے ساتھ وابستہ نہ ہوں اور اس کا محرک نہ بنیں اس عمل میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔بہت مسلمان ایسے ہیںجن کو دولت اور جوانی اللہ نے دی ہے لیکن وہ فریضہ حج کو ٹالتے رہتے بڑھاپے میں حج کو جاتے ہیں،اس وقت حج کے ارکان ان سے صحیح طریقہ سے ادا نہیں ہوتے۔حج بلا شبہ اپنی گھریلوذمہ داریوں سے فراغت چاہتا ہے مگر زندگی کا کیا بھروسہ ہے کب موت آئے۔جب وسائل اور فرصت نصیب ہوتو ہر مسلمان کو یہ فریضہ ادا کرنا چاہئے کیونکہ حج ایسی عبادت ہے جس کاکوئی بدل نہیں اور ایسی اخلاقی تربیت ہے جس کی کوئی مثال نہیں،حاجی اپنے حج سے جہاںروحانی لذت حاصل کرتا ہے وہاں اخلاقی تربیت بھی حاصل کرتا ہے۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ سرکار دوعالم ؐ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے حج کیا اور حج میں کوئی فسق اور نہ ہی کوئی فحش کلام کیا تو وہ حج سے ایسا پاک ہوکر لوٹتا ہے گویا آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔(بخاری)۔حضرت بخاری فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم ؐ نے ارشاد فرمایا جو شخص حج یا عمرہ کے ارادے سے نکلا اور مرگیا تو قیامت تک اللہ تعالیٰ اُس کے لئے حج اور عمرہ کا ثواب لکھتا ہے۔
حاجی بننا ،سیر و تفریح کرنا ،شاپنگ کرنا اور اپنا نام اونچا کرنا ہو تو یہ نفس و شیطان کے دھوکے ہیں ۔ایسے میں کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔اصلاح حج کا مقصد دل کے زنگ اور آلودگی کو دور کرنا ،اپنے اندر تکبر کو نیست و نابود کرنا ،روح کو تازگی بخشنا اور اسے پاکیزہ بنانا ہے۔حرص کی دنیا میں دل کے اندر جو جالے لگ گئے ،روح کے اندر جو بیماریاں پھوٹ پڑیں، اُن کا ازالہ ہے۔خدا وند تعالیٰ سے التجا ہے کہ ہمیں دین حق کی سمجھ عطا فرمائے اور مسلمانوں کے مستقبل سنوارنے کی توفیق عطا کرے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم غلط اور خوش فہمی میں مبتلا ہو ،بس حاجی اسے پورے احترام و عقیدت اور احکام شرعی کے مطابق ادا کرے ،اس دوران نفس کے خلاف جہاد اور عبادتوں و ریاضتوں سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اوررضا حاصل کرے۔
���
موبائل نمبر؛9596253375