عظمیٰ نیوز سروس
علی گڈھ//علی گڑھ، اترپردیش میں بی جے پی یووا مورچہ کے دو گروپوں کے درمیان سوشل میڈیا اسٹیٹس کو لے کر بڑا جھگڑا ہوگیا۔ پہلے مارپیٹ ہوئی، جس کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان تیزی سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ فائرنگ میں تین نوجوان زخمی ہوئے جنہیں جے این میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نیرج جدون نے بتایا کہ بننا دیوی تھانہ علاقے میں دو گروپوں کے درمیان جھگڑے کی رپورٹ موصول ہوئی تھی۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ ششانک اور ہرشد دونوں گروپ ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے۔ہرشد دھڑے کے سانو، ششانک دھڑے کے آیوش شرما اور سول لائنز علاقہ کے رہنے والے شعیب زخمی ہوگئے۔ ایس ایس پی نیرج جدون نے بتایا کہ تینوں زخمیوں کی حالت مستحکم ہے اور وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔جائے وقوعہ کے آس پاس کے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی جارہی ہے۔ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جارہی ہے۔ ملزمین کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال جائے وقوعہ پر امن برقرار ہے۔اطلاعات کے مطابق بننا دیوی علاقے کے سرائے حکیم کے رہنے والے ہرشد ہندو اور ساسنی گیٹ علاقے کے رہنے والے ششانک پنڈت کے گروپوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ یہ تنازعہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے گانے کے اسٹیٹس پر شروع ہوا۔ششانک دھڑے کے موہت شرما نے ہرشد دھڑے کے ایک رکن کے پوسٹ کردہ اسٹیٹس پر اعتراض کیا۔ پھر جھگڑا ہوا، جس سے زبانی بحث و مباحثہ کے ساتھ ساتھ بدسلوکی کی گئی۔جمعرات کی شام کو ہرشد کے دھڑے نے اس معاملے پر آمنے سامنے بات کرنے کے لیے موہت کو سرائے حکیم میں طلب کیا۔ موہت نے وہاں معافی مانگی۔ اس کے باوجود ہرشد کے گروپ کے ارکان نے مبینہ طور پر اس پر حملہ کیا۔