علم، صبر، محبت اور قدر کا باہمی ربط!

ایک عزیز کے معصومانہ استفسار نے علم، صبر، محبت اور قدر کے باہمی ربط اور تعلق پر غور و فکر کرنے کی مہمیز دی۔ میرے لئے سوال کو ٹالنا اس لئے ناممکن تھا کیونکہ اول تو ایک مدرس کو یہ رویہ زیب نہیں دیتا اور جب سوال مودبانہ اور مخلصانہ ہو تو ایسے میں ایک استاد کو ایک سچے طالب علم کی طرح تحقیق اور تفتیش کرکے سوال کا جواب ڈھونڈنے کی سعی کرنا پڑتی ہے۔ اُستاد کے لئے ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ طالب علم ’’حسن السئوال نصف العلم‘‘ (یعنی اچھا سوال نصف علم ہے) کے تحت جب اپنی ذمہ داری ادا کرے تو استاد اس کو ’’لا ادری نصف العلم‘‘ (یہ ماننا کہ میں نہیں جانتا، نصف علم ہے) کہہ کر ٹال نہیں سکتا! ہاں یہ بات صحیح ہے کہ استاد وقت مانگ کر استفسار کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی توضیح اور تشریح پیش کرسکتا ہے۔
علم کا جہاں تک تعلق ہے تو یہ دراصل عالم اور معلوم کے درمیان ایک ایسا رشتہ استوار کرتا ہے، جس سے اول الذکر دنیا میں اشیاء پر اپنے تصرف کو مضبوط سےمضبوط تر کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اس عالم رنگ و بو کی تزئین، ترتیب اور تنظیم بھی انجام دیتا ہے۔ تاہم یہاں پر یہ بات کہنا لازمی ہے کہ علم کا سوء استعمال تخریب اور بگاڑ کا باعث بھی بنتا ہے، جبکہ علم کا حسن استعمال دنیا کے حسن کو دوبالا کرنے میں ممد ہوتا ہے۔ علم حق حاصل کرکے ہی انسان فرشتوں کی معیت میں اللہ تعالی کی توحید کا اعلان کرتا ہے (آل عمران: 18) اور علم کی برکت سے ہی انسان عملی دنیا میں اللہ تعالی کی خشیت پر مبنی رویہ اختیار کرتا ہے۔ (فاطر: 28) یعنی حقیقی علم کی تجلی بندے کو اللہ کے رنگ میں رنگ دیتی ہے!
علم الاشیاء عطا کرکے اللہ تعالی نے دراصل آدم ؑ کو اس استعداد سے نوازا جس سے وہ اولاًمسجود ملائکہ ٹھہرے (البقرہ: 34) اور ثانیاًابتلاء اور آزمائش سے نبرد آزما ہونے کے لئے ان کے اندر اعتراف حق کے لئے وہ مادہ حلم پیدا کیا گیا جس کے توسط سے انہوں نے خطا کا احساس ہوتے ہی خدا کے آگے اپنی جبین نیاز رکھ کر مغفرت کی دعا کی۔ (الاعراف: 23) واضح رہے کہ اپنے تواضع اور انکسار کی وجہ سے خدا کی طرف سے دعا کے الفاظ بھی ’’القا‘‘ کیے گئے۔ یعنی انہیں علم کا ایک اور ذریعہ عطا کیا گیا۔ اس کے برعکس علم (یہ جانکاری کہ اسے آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم کو مٹی سے) کے سوء استعمال سے شیطان نے استکبار کی راہ اختیار کی اور وہ راندہ درگاہ خداوندی ٹھہرا اور اللہ تعالیٰ کی ابدی پھٹکار کا شکار ہوا۔
تاہم اللہ تعالیٰ نے پیدائشی طور پر تحصیل علم کے مختلف ذرائع (کان، آنکھ اور دل) عطا کرکے انسان کو اس قابل بنایا کہ وہ جستجو اور سعی و جہد کرکے علم کے اصلی منبع تک پہنچنے کی کوشش کرسکے۔ (النحل: 78) البتہ انسان جس مقصد کے لئے ان ذرائع کو استعمال میں لانے کی نیت کرتا ہے، اسی کے مطابق اللہ تعالی علم کی راہیں بھی کھولتا ہے اور عمل کے راستوں پر چلنا بھی آسان فرماتا ہے۔ (العنکبوت: 69) چونکہ اصل علم کا اللہ تعالیٰ احاطہ کیے ہوئے ہیں، اس لئے کوئی متنفس سعی کے باوجود صرف اتنا علم حاصل کرسکتا ہے جتنے کہ گرہیں اللہ تعالیٰ کھولتا ہے۔ قرآن اس ضمن میں بڑے ہی واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ ’’وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا کہ وہ چاہے۔‘‘ (البقرہ: 255)
چونکہ دین مبین علم کی بحیثیت علم تحسین کرتا ہے اور حصول علم کی ترغیب دیتا ہے، اس لئے اسلام میں دینی اور دنیاوی علوم کی اس انداز میں تفریق نہیں کی گئی ہے، جس طرح سے ہم سمجھتے آئے ہیں۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ علم کے صحیح استعمال پر کافی زور دیا گیا ہے۔ اس بات کو ہم ہاروت اور ماروت کے واقعے (البقرہ: 102) سے بھی سمجھ سکتے ہیں اور فقہ کے اس اصول سے بھی سمجھ سکتے ہیں، جس کے مطابق ایک مجتہد کو اس کوشش پر بھی اجر ملتا ہے جو وہ صحیح فیصلے تک پہنچنے کے لئے انجام دیتا ہے اور کوشش کے باوجود چوک جاتا ہے اور غلطی کر بیٹھتا ہے!
بہرحال مفید اور دیرپا نتائج پیدا کرنے والا علم حاصل کرنے کے لئے ایک متعلم کو ان راستوں کا مسافر بننا پڑتا ہے جو بڑے ہی پرخار اور صبر آزما بلکہ جانگسل ہوتے ہیں۔ تاریخ علم کی ورق گردانی سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ عالموں، مفکروں، فلسفیوں، ادیبوں، شاعروں اور انشاء پردازوں کو صبر کی ایسی داستانیں رقم کرنا پڑی ہیں کہ اگر تاریخ علم کو تاریخ صبر کا نام دیا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں تاریخ علم کے چند اساطین کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ اسلام کی علمی تاریخ میں عبداللہ ابن عباس ؓ کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہیں پیدا ہوتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ رسالتمآبؐ نے ان کے منہ میں لعاب دہن ڈال کر یہ دعا فرمائی: ’’اے اللہ، اس کو دین کی سمجھ عطا فرما‘‘۔ ظاہر ہے کہ دعا ایک مفید کام سر انجام دینے میں ایک مہمیز اور حوصلہ افزائی کا کام کرتی ہے۔ ابن عباسؓ کی پوری زندگی اس دعا کی تشریح معلوم ہوتی ہے۔ آپؓ پوری زندگی شاہراہ علم کے مسافر بنے رہے۔ پختہ عمر کو پہنچ کر بھی علم کی راہ میں سرگرم رہے۔ ایک دن ایک حدیث کے راوی کے بارے میں معلوم ہوا کہ عرب کے کسی دور دراز علاقے میں ان سے ملاقات ہوسکتی ہے۔ رخت سفر باندھا اور تھکا دینے والا سفر طے کرکے اس راوی، جو کہ صحابئ رسول تھے، کے دروازے پر پہنچے۔ عرب کے رواج کے مطابق قیلولہ (ظہر، دوپہر کے بعد آرام کرنا) کا وقت تھا۔ صحابئ رسول کے احترام کو مدنظر رکھ کر دروازے پر ٹیک لگاکر انتظار کرنے لگے۔ تھکان کی وجہ سے جلد نیند آگئی۔ جب صحابئ رسول باہر آگئے تو ابن عباسؓکے سر کو گرد و غبار سے اَٹا ہوا پاکر نہایت افسوس ہوا۔ تشریف آوری کا سبب پوچھ کر کہا کہ ’’زیادہ بہتر رہتا کہ ہم ہی عم زادہ رسول کے پاس روایت بیان کرنے حاضر ہوجاتے۔‘‘اس پر عبداللہ ابن عباس ؓکا جواب تاریخ علم میں صبر کی داستان کا بذات خود ایک ابدی عنوان ہے۔ فرمایا: ’’العلم یوتی ولا یاتی‘‘ یعنی علم کے (منبع) کے پاس جایا جاتا ہے، علم کسی کے پاس خود (چل کر) نہیں آتا! علم کے تئیں صبر پر مبنی اسی رویے نے ابن عباسؓ کو ’’ترجمان القرآن‘‘ اور ’’حبر الامہ‘‘ کا مقام عطا کیا۔ ائمہ سے لیکر محدثین تک مشاہیر اسلام کی علم کی خاطر سعی و جہد سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ ’’اللہ تعالی نے علم و حکمت کو بھوک (مشکلات) میں رکھا ہے، اور لوگ اسے سیری میں تلاش کرتے ہیں؛ بھلا وہ کیسے پائیں گے۔‘‘(حدیث قدسی)
تاریخ فلسفہ و سائنس ہی نہیں بلکہ علم کے ہر میدان کی تاریخ صبر کی روشنائی سے قلم بند ہوئی ہے۔ سقراط جیسے ’’شہید فلسفہ ‘‘اور ارسطو جیسے فلسفے کے ’’استاذ اول‘‘ کی داستانیں بھی اسی سبق کو دہراتی ہیں کہ علم کا سفر صبر کے بغیر ناممکن ہے۔ زمانہ جدید میں کارل مارکس نے بے وطنی کے عالم میں برٹش میوزیم کے ریڈنگ روم میں دہائیوں پر محیط مطالعے کے بعد ایک ایسا فلسفہ پیش کیا ،جس کے متعلق علامہ اقبال کو کہنا پڑا:
            وہ کلیم بے تجلی،  وہ مسیح بے صلیب
            نیست پیغمبر ولیکن در بغل دارد کتاب
ابن خلدون نے مختلف ملکوں کی خاک چھان کر اور مختلف حکمرانوں کی قلمرو میں (اکثر کسمپرسی کی حالت میں) وقت گزار کر مختلف حکمران خاندانوں کے اقتدار کا نصف النہار بھی دیکھا اور ان کی حکمرانی کے سورج کو غروب ہوتے ہوئے بھی ملاحظہ کیا۔ تب جاکر وہ تاریخ کی سماجیات (سوشیالوجی آف ہسٹری) کو ایک فلسفے کے طور پر متعارف کراسکے۔
سائنس کی تاریخ میں کوپرنکس اور گلیلیو نے کلیسا کے ہاتھوں محنہ (Inquisition) سے گزر کر ہی طبعیات (فزکس) میں ایک انقلاب عظیم برپا کیا۔ نیوٹن نے بھی صبر آزما حالات سے گزر کر ہی کلاسیکی میکانکس کے قوانین حرکت دریافت کرکے دنیائے سائنس کو ایک نئی جہت دی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کو ایک ’’عقلی صوفی‘‘ (Rational Mystic) کہا گیا۔ آئن اسٹائن نے نظریہ اضافیت کے ذریعے کائنات کی کئی ’’پر اسرار‘‘ جہتوں سے پردہ اٹھایا۔ ہمارے اپنے دور میں اسٹیفن ہاکنگ نے اعصاب اور عضلات کو ناکارہ (منجمد) کرنے والی بیماری کا شکار ہوکر بھی زمان، مکان اور مادہ (ٹائم، اسپیس اینڈ میٹر) کو سمجھنے کی ایک نئی طرح ڈالی۔ غرض سائنسدان بھی حقیقت کے ظاہری یا مادی پہلوؤں کو سمجھنے اور سمجھانے میں صبر و ثبات کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔
واضح ہوا کہ شاہراہ علم پر گامزن رہنے کے لئے جن صبر آزما حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، ان سے نبرد آزما ہونے کے لئے ضرور ایک جذبہ درکار ہوتا ہے جو علم کے متلاشی کو وہی حوصلہ عطا کرسکے جو ایک ملاح کو ساحل پر پہنچنے کی آرزو باد مخالف کا مقابلہ کرنے کی ہمت عطا کرتی ہے۔ اور یہ جذبہ جو ایک مسافر کو اپنی منزل کی طرف رواں دواں رکھتا ہے ہی دراصل محبت ہے! جب یہ محبت حقیقت اعلی سے ہوتی ہے تو علم و عرفان اسے اتنی مضبوطی عطا کرتا ہے کہ وہ ذات خداوندی پر ایمان لانے والوں کی پہچان بن جاتی ہے اور خدا اعلان فرماتا ہے: ’’اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔‘‘(البقرہ: 165) ایسے ایمان والوں کے لئے ’’حق‘‘ اور ’’صبر‘‘ زندگی کا نصب العین بن جاتا ہے جو انہیں ’’ابدی خسران‘‘ سے محفوظ رکھتا ہے۔ (العصر: 1-3) محبت ہی اصحاب کہف کو اپنے بسے بسائے گھروں اور متمدن دنیا سے کنارہ کش ہونے پر آمادہ کرتی ہے اور محبت ہی انہیں ’’لافانی ‘‘بنادیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی شدید اور حقیقی محبت محب کو محبوب کی نظروں میں قیمتی بنادیتی ہے۔ تاہم ایسا تبھی ممکن ہوتا ہے جب محب اپنا متاع زیست (یعنی اپنے تمام قوی) محبوب کی تحویل میں دینے کے لئے تیار ہوتا اور پھر تسلیم و رضا کا اعلی ثبوت فراہم کرتا ہے۔ اسی مضمون کو قرآن کی یہ آیت واضح کرتی ہے: ’’کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘ (آل عمران: 31) سیدنا علی ؓکا تمام تر خطرات کے باوجود ہجرت کی رات بستر رسولؐ پر لیٹنا اور سیدنا ابو بکرؓکا غار ثور میں رسالتمآبؐ کی مصاحبت کرنا اسی اطاعت اور محبت کا عملی اظہار ہے۔ اور جب علم، صبر اور محبت کی داستان لوح تاریخ پر رقم ہوتی ہے تو حساس لوگ ضرور اس کا ’’صحیح اندازہ‘‘ ٹھہرانے یا اس کی "صحیح قدر" متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی عمل کو ہم عرف عام میں قدر کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس کسی نے انسانیت کے لئے کارہائے نمایاں انجام دئیے ہوتے ہیں، ان کا اعتراف ہی دراصل ان کی قدر کرنا کہلائے گا۔ علم کے کسی بھی میدان میں اپنا حصہ ڈالنے والے لوگ (مفکرین، فلاسفہ، موجدین، سائنسدان، وغیرہ) اس قدر کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ تاہم وہ معلمین اخلاق جو دنیا کے ظاہر کو اس کے باطن کے ساتھ جوڑ کر پیش کرکے زندگی کو ایک اعلی مقصد عطا کرتے ہیں، وہی اس قدر کے سب سے زیادہ حقدار ہوتے ہیں کیونکہ ان کی محبت، ان کا صبر اور ان کا علم سب حقیقت اعلی کے لئے وقف ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو ابوالانبیاء، ابراہیمؑ کی زبانی قرآن میں یوں ادا کیا گیا ہے: ’’آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کے لئے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔‘‘ (الانعام: 162) 
(رابطہ: 9858471965 
ای۔میل: [email protected])
����������������