جب بھی کوئی قوم جمود و تعطل کا شکار ہوجاتی ہے تو اُسے خواب ِ غفلت سے بیدار کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی مسیحاضرور جنم لیتاہے۔ اقبال ؔنے جب ہوش سنبھالا،اُس وقت پورا ایشیاء فکری اور عملی جمود سے جھوج رہاتھا ۔ علامہ نے شاعری کو وسیلہ اظہار بناکر اس جمود کو توڑ ڈالنے کی کامیاب کوشش کی ۔انہوں نے اردو شاعری کو ایک نئی فکر اور موضوعاتی تنوع سے آشناکیا ۔ ان سے پہلے اردو ادب روایتی موضوعات اور اظہارو بیان میں جکڑا ہوا تھاجسے غالب نے طنزاً محمد شاہی روش سے موسوم کیا تھا ۔ علامہ نے اس سنگلاخ زمین میں نئی سوچ اور فکر کے پھول کھلائے ۔اقبال نے حب الالوطنی ، قوم پرستی ، مرد مومن، عشق ، خودی ،شاہین جیسی جدید اصطلاحات اور نظریات سے اردو ادب کو نئی توانائی عطا کی ۔انہوں نے احتجاجی فکر سے مغرب پر کاری ضرب لگادی اور اپنے نئے تصورات کی طرف تمام عالم ِمفکرین کو متوجہ کیا کیونکہ اُن کے افکار میں موجود آفاقیت ایک عالم کو متاثر کر رہی تھی۔
اگران کی شاعری پررولان بارتھ کی تھیوری" The Death of the auther "کا اطلاق کیاجائے جہاں پر رولان بارتھ autherیعنی ’’مصنف کی موت ‘‘ کا اعلان کرتے ہیں اور اس کی تخلیق کی اہمیت کو یکسر کر کے قا ری ''Reader" اور"Text"کو اہمیت دے کر "writerly text"،"Readerly Text" بنانے کی وکالت کرتے ہیں۔ اُس صورت حال میں Text’’متن ‘‘ کی بنیاد پر انہیں آفاقی شاعر کہنے میں کوئی تامل نہیں ہوگا ۔ان کی شاعری میں موجود موضوعاتی تنوع سے معنی کی تکثیریت پیدا ہوجاتی ہے جوان کے کلام کی خوبی بھی ہے اور خوبصورتی بھی ۔
علامہ اقبال کی تعلیمات کو پورے عالم نے سراہا ہے۔ انہوں نے جو تصورات پیش کیے ہیں ان سے نہ صرف مسلم Worldنے استفادہ کیا ہے بلکہ مغربی ممالک نے بھی ان کی نگارشات کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ جس طرح سے دنیا مولانا روم کو پڑھتی ہے اسی نوعیت سے علامہ کو اب پڑھا جاتا ہے ۔انہوں نے اپنی فارسی اور اردو شاعری میں جس حرکت و عمل کا تصور دنیا کے سامنے رکھا ہے وہ بالکل نیا ہے ۔ ۔سلسلہ روز و شب کو انہوں نے ا صل ِحیات و ممات کا نام دے کروقت کی اہمیت و افادیت ایک نئے زاویے سے پیش کی ہے ۔اپنی شاعری میں انہوں نے ایسے سوالات قائم کیے ہیں جن کا واسطہ انسان اور دیگر مخلوقات کے وجود اور فلسفہ ہست و بود سے ہے اور پھر جواب بھی اپنی منفرد فکر کے تحت دیے ہیں۔’’خضرِراہ ‘‘ اس کی خوبصوت مثال ہے۔
۲۰ویں صدی پوری دنیا میں نئے ہنگامے اور نئے انقلابات لے کر آئی ۔ دنیا کے سیاسی نقشے میں کئی ردوبدل ہوئے اور دنیا نے پہلی جنگ عظیم کا بھی سامنا کیا ۔ اس دور میں برصغیر بھی نئی تبدیلیوں سے ہمکنار ہو ا اور ان تغیرات و تبدیلیوں کے چلتے ہر طرف نفسانفسی کا عالم تھا۔ اِس دور میں علامہؔ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ان رویوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی اور انسان کی بے بسی خاص طور پر مسلمانوں کی کسمپرسی اور جہالت و گمراہی کو دور کرنے کے لیے فلسفہ خودی ، عشق و عقل ، مرد مومن ،حرکت و عمل جیسے آفاقی افکار و تصورات پیش کیے ۔علامہ نے قرآن مجید اور احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں امت مسلمہ کے مسائل کا حل تلاش کیااوردین کی ایک نئی تعبیر پیش کی۔علامہ عالمی سطح پر سامنے آنے والی نئی تحریکات و رجحانات سے پوری طرح واقف تھے ۔اقتصادیات ، جمہوریت ، اشتراکیت، شہنشاہیت ، غرض ہر طرزحکومت کا انہوں نے بغور مطالعہ و مشاہدہ کیا تھا۔یہی نہیں اُن کی قدیم یونانی فلسفہ پر بھی گہری نظر تھی اور اس عمیق مطالعہ و مشاہدہ سے ان کی شاعری میں وہ آفاقیت پیدا ہوگئی ہے کہ عصر حاضر میں ان کے افکار و خیالات کو دانش کدوںمیں نئے نئے زاویوں سے سمجھنے اور پرکھنے کی کوششیں جاری و ساری ہیں۔ ان کے نبیادی تصورات کی معنویت پر زمانے کی تبدیلی اثر انداز نہیں ہورہی ہے ۔اقبال کوکسی زبان ،قوم یا فرقے تک محدود رکھنا اُن کی ذات پر ظلم ہوگا کیونکہ ان کا کلام اس بات کا گواہ ہے کہ اس میں معنی کی تکثیریت اورتہہ داری ہے جس سے کوئی بھی انسان بلالحاظِ مذہب و ملت اپنا راستہ متعین اور ہموار کرسکتا ہے ۔
اقبال نے ’’ شاہین ‘‘کا استعارہ نوجواں نسل کو اپنے پیغام کی طرف مائل کرنے کی غرض سے استعمال کیا ہے۔ علامہ نے سب سے زیادہ جس طبقے کو اپنی شاعر ی میں مخاطب کیا ہے وہ نوجوان ہی ہیں۔اُن کی دنیا کی تاریخ پر گہری نظر تھی اور وہ ا س بات پر یقین رکھتے تھے کہ قوموں کی تقدیر انہی جوانوںکے دم سے ہی بدلتی ہے ۔اسی لیے وہ بار بار اپنی قوم کی نوجواں نسل سے خطاب کرتے ہیں ؎
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے ؟
وہ کیا گردوں تھا توجس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا ؟
اپنی ملت پر قیاس اقوام ِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسول ِ ہاشمی ﷺ
اقبال کا ’’مرد مومن‘‘ایسا شخص ہو ہی نہیں سکتا جو معرکہ حیات میں لرزہ براندام ہو جائے اور عمل سے اس کے پائے استقلال میں لغزش آجائے ۔اقبال کے مرد مومن اور نطشے کے سپر مین میں یہی فرق ہے کہ نطشے کا سپر مین صاحبِ غرو ر و گھمنڈہے اور خدا کا منکر ہے لیکن مرد مومن اللہ کا منکر نہیں بلکہ وہ محبت و اخوت کا مجسم ہے اور مساوات کا علمبردار ہے اور غرور و تکبر سے بے نیاز ہے ۔ مرد مومن کے حوالے سے پروفیسر سید افضل امام لکھتے ہیں ـ:’’اقبال کا مرد مومن اس قدر جانباز ہے کہ بغیر تیغ بھی لڑتا ہے۔ اسے کسی عصا کی ضرورت نہیں ۔ شب ِ ہجرت ،دشمنوں کے محاصرہ میں تلواروں کے سائے میں سوتا ہے مگر کوئی تلوار باندھنے کی ضرورت نہیں محسوس کرتا ہے ۔‘‘ ۱؎
اقبال کی نظر میں عشق وہ ناقابل تسخیر قوت ہے جو غلاموں کو بھی خو د آگاہی کی دولت عطا کرکے ان پر اسرار شہنشاہی آشکار کر دیتی ہے ؎
جب عشق سکھا تا آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
اقبال کے افکار میں فلسفہ خودی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔اس کے توسط سے علامہ نے انسان کواپنی ذات کے بارے میں سوچنے کی ترغیب دی ہے حالانکہ کئی مفکروں نے ان کی اس فلسفیانہ کوشش کو مغرب کے دانشوروں کی فکر سے جوڑنے کی کوشش کی ہے جس کی انہوں نے مثنوی ’’رموز بے خودی ‘‘ میں سختی سے تردید فرمائی ہے ۔خودی اصل میںانسانی ذات یا شخصیت کے ہم معنی ہے ،انسان نوری بھی ہے اور ناری بھی۔ جسم کے علاوہ انسان میں وہ شئے بھی مو جود ہے جس کو ہم اس کی ذات سے تعبیر کرسکتے ہیں یعنی وہ شئے جسے ہم ’’میں ‘‘ کے معنی سے موسوم کرسکتے ہیں ۔اسی کو انسانی ذات یا انا اور شخصیت کے الفاظ سے موسوم کیا جاتا ہے ۔گو کہ انسانی جسم سے خودی ماورا ہے لیکن اس کے بغیر اس کی ماورائیت کوئی معنی نہیں رکھتی ۔جس طرح جسم کو تندرست رکھنے کے لئے صحت مند کھانے کی ضرورت ہے اسی طرح خودی یعنی نفس کوصحت مند رکھنے کے اپنے لوازمات ہیں جنہیں قرآن مجید نے متعین کر کے رکھا ہے ۔ اس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ملتاہے کہ ’’خودی ‘‘ کے تصور کا ماخذ قرآن کریم ہیں ؎
خودی کا سر نہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ
علامہ نے اپنے تصورات سے پورے برصغیر کو ہشیار و بیدار کردیا۔ انہیں ’’شاعر مشرق ‘‘ کا لقب اس لیے ملا ہے کہ انہوں نے مشرقی افکار و خیالات کی بھر پورترجمانی کی ۔ اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ۲۰ویں صدی کے شاعر کو ہم ۲۱ صدی میں کیوں پڑھیںیا اس کی عصری معنویت کیا ہے ؟ تو اس جواب میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ تھیوری میں موجود ایک concept "every reading is miss reading" کے حوالے سے علامہ کی شاعری آفاقی نوعیت کی ہے جس کی ہر قرأت کے بعد قاری کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ایک نیا معنی ہر بار سامنے آرہاہے ۔یہی ایک شاعر یا ادیب کے فن پارے کی کامیابی کا راز ہے کہ ہر بار اس کے متن سے نت نئے معنی سامنے آتے رہیں اور یوں ہر زمانے میں علم و ادب کے شیدائیوں کی پیاس بجھتی رہے ۔علامہ اقبال کے آفاقی پیغام پر عمل پیرا ہونے کے لیے عربی کے معروف مفکر عبد الوہاب عزام بک جس نے ’’پیام مشرق ‘‘ کو عربی جامع پہنایا ہے، اپنے ایک مضمون ’’اقبال کا پیغام ‘‘ میں یوں رقمطراز ہیں’’مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اقبال کے پیغام کی عظمت کا احترام کریں ، اس کے پیش کردہ طریق کو اپنا آئین بنائیں ، اس کی دعوت پر لبیک کہیں اور اس کے کلام کو اسلامی اور غیر اسلامی زبانوں میں شایع کریں ۔‘‘ ۲؎
مذکورہ اقتباس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ شاعر مشرق سے اپنے کلام سے نہ صرف اس وقت کے لوگوں کو جگانے کی کوشش کی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی انہوں نے ایک راستہ ہموار کیا ہے ۔اقبال ؔنوجوان نسل کو پیغام دیتے ہیں کہ اپنی زندگی کو سرسبز و شاداب ، کامیاب و بامراد بنانے کے لیے شدید محنت کی ضرورت ہے ۔اگر ہم اپنی نشونما اور ترقی و عروج کے لیے یہ طرز فکر استعمال نہیں کریں گے تو پھر ذلت ہمارا مقدر بن جائے گی او ر پھرکوئی بھی ہماری قد ر کرنے والا نہیں ہوگا۔ اقبال اپنے افکار و خیالات سے واضح کرتے ہیں کہ محنت ، جوش ، جنوں ، جستجو ، حرکت اور ہمت ہی نئی نسل کے لیے نجات ہے ۔
حوالہ جات ؛
۱: پروفیسر سید افضل امام ، ’’علامہ اقبال کی اساس ِ فکر ‘‘ ساہتہ بھنڈار چاہ چند ، الہ آباد ، ۲۰۰۶ء ، ص ۱۳
۲: عبد الوہاب عزام بک، علامہ کا پیغام ، مشمولہ ’علامہ اقبال : حیات ،فکر و فن ‘ مرتب ڈاکٹر سلیم اختر ،سنگ میل پبلی کتشنز ،لاہور ،۲۰۰۳ء ، ص ۸۹۲
پتہ : ریسرچ سکالر،شعبہ اردو، یونیورسٹی آف کشمیر
فون نمبر۔9622701103
ای میل۔[email protected]