موں//فیس بک پوسٹ کیلئے جموں میڈیکل کالج کے رجسٹرار کی برطرفی پر مخلوط سرکار کو ہدف تنقید بناتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’وزراء آبر وریزی و قتل کے ملزمان کے حق میں احتجاج کر سکتے ہیں لیکن ایک ڈاکٹر حقائق بیان نہیں کر سکتا‘‘۔ٹویٹر اکائونٹ پر عمر نے لکھا ہے ’جموں کشمیر میں محبوبہ مفتی کی تانا شاہ سرکار، ڈاکٹر کوفیس بک پر وزیر کی تصحیح کرنے پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘۔ قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر امیت نے وزیر صحت کے اس دعویٰ کو جھٹلا یا تھا جس میں موخر الذکر نے جموں میڈیکل کالج میں 71لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر لفٹ کے افتتاح کی بات کی تھی ۔ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ یہ لفٹ بہت پرانی ہے اور صرف چند ہزار روپے خرچ کر کے اس کی مرمت کی گئی تھی، بالائے ستم یہ کہ مرمت کے دوسرے ہی دن یہ پھر ناکارہ ہو گئی ہے ۔ ڈاکٹر امیت کو گزشتہ دسمبر میں جاری ایس آر او 525کے تحت برطرف کیا گیا ہے جس میں سرکاری ملازمین پر حکومت مخالف مواد سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔