مجتدیٰ رضا خان
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آج قوم مسلم صرف مغربیت کو ترجیح دے رہی ہے اور عصری علوم کو حاصل کرنے کے لیے دینی تعلیم سے بیزاری ظاہر کر رہی ہے، جبکہ اس پُر فتن دور میں علم دین کی سخت ضرورت ہے۔ جہاں ایک طرف اسلام مخالف طاقتیں مسلمانوں کے جان و مال کو نیست و نابود کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔وہیںمسلکی فتنے ہمارے اعمال اور ہمارے عقائد کو مجروح کر رہے ہیںاور جو لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے ایمان پہ ڈاکہ ڈال کر ہمیں کھوکھلا کر رہے ہیں ،ہماری قوم انکے فتنوںکو پہچاننے میں ناکام ثابت ہورہی ہے۔آج کل تویہ تاثر عام کیا جارہا ہے کہ اگر ہم علم دین حاصل کریں گے تو ہمیشہ غریبی میں زندگی بسر کریں گے، اگر ہم عالم بن جائیں گے تو دنیاوی شان و شوکت اور دولت و سرمایہ سےہاتھ دھو بیٹھے گے۔ غرض پوری اُمت مسلمہ اس قسم کے باطل اوہام و افکار کے دام فریب میں پھنسی ہوئی ہے۔ سبب یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل نہیں کرتے بلکہ صرف اسباب پر توکل کرنے لگے ہیں، حالانکہ ہمارے بے شمار ایسے علمائے کرام ہیں جن کو اللّٰہ نے بے شمار دولت عطا فرمائی ہے، جن کے ذریعہ وہ دین کی نشرواشاعت کر رہے ہیں۔
جب ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ قادر مطلق اور رزّاق مطلق اللّٰه تعالیٰ کی ذات ہے، وہ جسے چاہتا ہے عزت و سربلندی دیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے پستی میں گار دیتا ہے،اس لئے ایسی تعلیم سے کیا فائدہ جو آپ کے عقائد و اعمال کی حفاظت نہ کرسکے، جو آپ کو شریعت ِ مصطفی ؐ سےدور کر دے۔ جس کے ذریعے آپ اسلام مخالف طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس کا آلۂ کار بن جائیں، جس تعلیم کے ذریعے آپ مسلکی فتنوں سے خود اور اپنے گھر والوں اور اپنے معاشرے اور اُمت مسلمہ کا دفاع نہیں کرسکتے۔ اس لیے ہمارے لئے عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کے حصول کی اشد ضرورت ہے۔ ہم اجلّ علوم کو حاصل کریں تاکہ ہم اپنے عقائد و اعمال کو بحسن خوبی محفوظ کر سکیں۔ اللّٰه تعالیٰ کی ذات پر مکمل توکّل کریں اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ہم جب قوم کا جائزہ لیتے ہیں تو بخوبی نظر آتا ہے کہ بے شمار لوگ دنیاوی اعتبار سے ہائی ایجوکیشن تو حاصل کر چکے ہیں لیکن افسوس ، وہ صحیح طور سے کلمۂ طیبہ بھی پڑھنا نہیں جانتےہیں۔ طہارت اور نماز کے ضروری مسائل سے ناواقف ہوتے ہیں، قرآن مجید کی چھوٹی چھوٹی سورتیں بھی صحیح اور سلیقے سے نہیں پڑھ پاتے ۔اسلام کے بنیادی عقائد اور وہ ضروریات ِدین، جن پر ایمان کا دارومدار ہے،اُنہیں اس کا بھی علم نہیں ، حرام و حلال میں تمیز نہیں کر پاتے اور بسا اوقات لاعلمی کی وجہ سے کفریہ کلمات بھی اپنی زبان سے ادا کر دیتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ جب ہم وضو اور غسل کرنا صحیح طور سے نہیں سیکھیں گے تو اس وضو اور غسل سے جتنی نمازیں ادا کریں گے، سب رائیگاں ہوں گی اور اس کا اعادہ واجب و ضروری ہوگا اور قرآن شریف پڑھنا نہیں سیکھیں گے تو نماز پڑھنا اور ایصال ثواب کرنا بھی نہیں جان پائیں گے تو پھر ایسے علوم کے لئے جدوجہد کرنا لا یعنی ہے جس کے ذریعے ہم حرام و حلال میں تمیز نہ کرسکیں۔ جس کے ذریعے ہم وہ مسائل جو ضروریاتِ دین سے ہیں اور ہمارے روز مرہ کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، اس کو حل نہ کر سکیں۔ہم پر لازم ہے کہ ہم علوم دین کو اعلیٰ لیول پر حاصل کریں اور گھر گھر علم دین کا چراغ روشن کریں تاکہ ہم اسلام صحیح دین کے محافظ بن سکیں۔ یاد رکھیں ! دنیا کی زندگی چار دن کی ہے پھر ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف لوٹنا ہے ، اس لئے ہمیشہ جہاں رہنا ہے وہاں کا انتظام کیجئے۔
[email protected]
عصری تعلیم کے ساتھ دینی علوم کی بھی ضروری