نئی دہلی//حقو ق انسانی کارکن خرم پرویز کوجنگجوئوں کو مالی مدد دینے کے کیس میں گرفتار کرنے پر انسانی حقوق تنظیموں جن میں عالمی ادارے بھی شامل ہیں،شدیدردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگجو نہیں ہیں اورانہیں فوری طوررہا کیا جاناچاہیے۔جموں کشمیرکولیشن آف سول سوسائٹی کے کارڈنیٹر خرم پرویزکوان کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران حراست میں لیاگیا اور اس کے غیرقانونی سرگرمیوں کی روکتھام سے متعلق قانون کے تحت قومی تحقیقاتی ایجنسی نے گرفتارکیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ،اقوام متحدہ کے سپیشل ریپورٹربرائے حقوق انسانی ،اذیت رسانی کے خلاف عالمی تنظیم (OMCT)،رابرٹ ایف کینڈی ہیومن رائٹس کے علاوہ بھارت کے انسانی حقوق کارکنوں نے 42برس کے خرم کو گرفتا کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ وہ ’’حقوق انسانی کاعلمبردار ‘‘تھا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سپیشل ریپورٹیرمیری لارول نے ایک ٹوئٹ میں کہا،’’میں خرم پرویز کی گرفتاری کی تشویشناک خبر آج سُنی اورخدشہ ہے کہ اُسے بھارتی حکام دہشت گردی سے متعلق جرائم کے تحت کیس کریں گے۔وہ جنگجو نہیں ہیں وہ انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔‘‘جنیوا میں مقیم ایک غیرمنافع بخش تنظیم OMCT،جودیگر گروپوں کے ساتھ دنیابھر میں کام کرتی ہیں ،نے کہاکہ انہیں حراست کے دوران خرم پر تشدد ڈھانے کاخدشہ ہے۔ٹوئٹر پر اس نے کہا ،’’انسانی حقوق کا بھارتی علمبردار خرم پرویزقومی تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے پوچھ گچھ کیلئے اُس کے گھر اوردفتر پرچھاپے کے بعد گرفتار۔ہمیں فکرمندی ہے کہ حراست میں اس پر تشددڈھایا جائے۔ہم اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔حکام کے مطابق خرم پرویز سے سرینگر میں پوچھ گچھ ہورہی ہے اور انہیں دہلی لئے جانے کا امکان ہے۔اکتوبر میں قومی تحقیقاتی ایجنسی نے کشمیر میں کئی مقامات پرچھاپے مارے جن میں خرم پرویز کی رہائش گاہ اور دفتر بھی شامل ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کشمیری حقوق انسانی کارکن خرم پرویز کی گرفتاری ایک اورمثال ہے کہ کس طرح بھارت قانون کا ناجائز استعمال کررہا ہے تاکہ بھارت میں انسانی حقوق کیلئے کام کرنے کو مجرمانہ قرار دیاجائے ۔ایک ٹوئٹ میں اس نے کہا کہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کونشانہ بنانے کے بجائے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کیلئے جوابدہی بنائی جائے۔ کیری کینڈی صدر رابرٹ ایف کینڈی ہیومن رائٹس نے ایک بیان میں خرم کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اورکہا کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو خاموش کرنے اورسزادینے کے بجائے بھارتی حکام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کام کرناچاہیے۔انسانی حقوق کی تنظیم نے انسانی حقوق خلاف ورزیوں کوقلمبند کرنے کیلئے خرم پرویز کی سراہنا کی ۔بھارت میں بھی معروف سماجی کارکن یوگندر یادو اور کویتاسری واستو نے خرم کو گرفتار کرنے پرتعجب کااظہار کیا اور کہا کہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنااگر ایک ’’جرم‘‘ہے اورخرم کی گرفتاری ’’شرمناک معاملہ‘‘ہے۔ سری واستوا نے کہا،’’خرم پرویز کو کیوں گرفتار کیاگیا۔کیا انسانی حقوق کا کام کرناجرم ہے؟کیاحکومتی پالیسیوں پرسوال اُٹھاناجرم ہے؟ جس میں دفعہ370کی واپسی بھی شامل ہے۔یوگندریادو نے کہا کہ خرم پرویز کی گرفتاری شرمناک معاملہ ہے۔زندگی بھر انسانی حقوق کے علمبردار رہے کو اب جنگجو ہونے کاالزام لگایا جارہا ہے اور اب وہ جیل میں بغیر سماعت کے ہوں گے۔2016میں خرم کو دوماہ کی قید کے بعد رہا کیاگیا اور عدالت نے ان کی نظربندی کو ’غیرقانونی‘قرار دیا۔کیاحکومت نے سبق نہیں لیا؟جن ہستاکشپ گروپ نے بھی خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔کئی کشمیریوں جن میں مرزا وحید بھی شامل ہیں ،نے ٹوئٹر پرخرم کی گرفتاری کے خلاف آوازبلند کی ہے۔گوہرگیلانی نے کہا کہ خرم نے 2000میں ایک بدقسمت حادثے میں ٹانگ گنوائی ۔