یو این آئی
سری نگر// سری نگر کی ایک خصوصی عدالت نے 1996 کے شورش پسندی سے متعلق ایک مقدمے میں کالعدم تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین سمیت چار ملزمان کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر مفرور (بھگوڑا) قرار دے دیا ہے۔ایڈیشنل سیشن جج (ٹاڈا/پوٹا) اور این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد خصوصی عدالت کی جانب سے جاری حکم کے مطابق ملزمان کی شناخت محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین (ساکن سوئی بگ، بڈگام)، غلام نبی خان عرف عامر خان (ساکن اننت ناگ)، شیر محمد عرف بہادر عرف ریاض (ساکن بانڈی پورہ) اور ناصر یوسف قادری (ساکن بمنہ، سری نگر) کے طور پر کی گئی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج (ٹاڈا/پوٹا) منجیت رائے نے یہ اعلان سری نگر کے سی آئی کے تھانے میں درج ایف اّئی آر نمبر 05/1996 کے سلسلے میں جاری کیا۔ یہ مقدمہ ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے اور سازش رچنے سمیت سابقہ تعزیراتِ ہند (ا?ر پی سی) کی دفعات 121 اور 121-اے اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ملزمان کے خلاف جاری کیے گئے گرفتاری وارنٹ عمل میں نہیں لائے جا سکے کیونکہ وہ مبینہ طور پر فرار ہیں اور گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو چھپا رہے ہیں۔عدالتی حکم کے مطابق 26 فروری 2026 کو جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل سے متعلق پولیس، فیلڈ عملے، متعلقہ تھانوں اور دیگر حکام کی رپورٹوں سے واضح ہوتا ہے کہ ملزمان اپنے ا?بائی پتوں پر موجود نہیں ہیں اور جان بوجھ کر قانون کی گرفت سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ ہندوستانی شہری تحفظ ضابطہ (بی این ایس ایس) 2023 کی دفعہ 84 کے تحت مفرور قرار دینے کے تمام قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔ عدالت نے چاروں ملزمان کو ہدایت دی ہے کہ وہ 14 جولائی کو صبح 10 بجے عدالت میں پیش ہوں، بصورت دیگر ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔