مشتاق الاسلام
پلوامہ //گالندر پانپور کی گجر بستی میں عوامی غم و غصہ شدت اختیار کر گیا ہے جہاں مقامی باشندوں نے شہری انتظامیہ پر ہزاروں افراد کی زندگیوں اور صحت کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے کو عملی طور پر مختلف مقامات سے لائے جانے والے کچرے کے ڈمپنگ یارڈ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ لوگوںکے مطابق کھریو، لیتہ پورہ اور پانپور کے دیگر علاقوں سے روزانہ بڑی مقدار میں کچرا لا کر آبادی کے قریب ڈالا جا رہا ہے، جس کے باعث پورے علاقے میں تعفن، آلودگی اور بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے بچوں، بزرگوں اور خواتین کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے اور ماحول ناقابلِ برداشت بنتا جا رہا ہے۔ علاقے کے لوگوں نے اس معاملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ متعدد بار شکایات درج کرانے کے باوجود ان کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے پانپور کے مقامی ایم ایل اے کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے اسے تشویشناک قرار دیا۔ اس دوران اس وقت صورتحال نے نیا رخ اختیار کیا جب مقامی لوگوں نے کھریو سے کچرا لے کر آنے والی میونسپل کمیٹی کی ایک گاڑی کو روک لیا۔ بعد ازاں پانپور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ گاڑی کو ضبط کرلیا، جسے عوام نے سراہتے ہوئے اپنے مطالبات کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ گجر بستی کے قریب قائم ڈمپنگ یارڈ کو فوری طور پر بند کیا جائے اور کچرے کو کسی مناسب اور سائنسی بنیادوں پر قائم مقام پر منتقل کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ احتجاج کادائرہ وسیع کرکے سرینگر جموں نیشنل ہائی وے پر دھرنا دیں گے۔