ایجنسیز
چیسیناؤ (مالدووا)//بھارت اور مالدووا نے پیر کے روز دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، مضبوط اور پائیدار سپلائی چین کی تشکیل اور رابطہ کاری بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔ بھارتی صدر دروپدی مرمو نے کہا کہ اقتصادی تعاون دونوں ممالک کی شراکت داری کا ایک اہم ستون ہے۔مالدووا کا دورہ کرنے والی پہلی بھارتی صدر دروپدی مرمو نے اپنے مالدووان ہم منصب مایا ساندو کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر مفید اور مستقبل پر مبنی بات چیت کی۔صدر مرمو نے کہا، “اقتصادی تعاون ہماری شراکت داری کا اہم ستون ہے۔ ہم نے تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے، مضبوط سپلائی چین، بہتر رابطہ کاری اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔”انہوں نے کہا کہ اس دورے کے موقع پر منعقد ہونے والا بھارت-مالدووا بزنس فورم دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو نئی توانائی فراہم کرے گا۔صدر مرمو کے مطابق، دونوں ممالک نے زراعت، لاجسٹکس، بنیادی ڈھانچے، صحت، دواسازی، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور جدت طرازی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کا یہ دورہ دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی اور باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔صدر نے کہا، “بھارت اور مالدووا کے درمیان گزشتہ تین دہائیوں سے خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ جغرافیائی فاصلے کے باوجود امن، ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے مشترکہ عزم نے ہماری شراکت داری کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔”اس وقت مالدووا میں تقریباً دو ہزار بھارتی شہری مقیم ہیں، جن میں لگ بھگ 1800 میڈیکل طلبہ شامل ہیں، جس کے باعث بھارت اس مشرقی یورپی ملک میں غیر ملکی طلبہ کی بڑی برادریوں میں شمار ہوتا ہے۔مالدووا کا یہ دورہ صدر مرمو کے تین یورپی ممالک کے دورے کا حصہ ہے، جس کا مقصد تجارت، ٹیکنالوجی، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
صدر مرمو نے کہا کہ دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور عوام کی ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود سے متعلق متعدد شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔صدر مرمو نے بتایا کہ انہوں نے اپنے مالدووان ہم منصب کے ساتھ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ? خیال کیا اور امن، مکالمے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا، “ہم نے عالمی سطح پر مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے اور ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال دنیا کے قیام کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ بھارت ہمیشہ تنازعات اور کشیدگی کے جلد حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے اور ہم ہمیشہ امن کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔”صدر مرمو کل صبح چیسیناؤ بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچیں تو مالدووا کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ میہائی پوپسوئی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ بعد ازاں صدر مایا ساندو نے صدارتی محل میں انہیں رسمی استقبالیہ اور گارڈ آف آنر پیش کیا۔مالدووا کا ایک روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد صدر مرمو 21 سے 22 جولائی تک شمالی مقدونیہ کا دورہ کریں گی، جو اس جنوب مشرقی یورپی ملک کا کسی بھارتی صدر کا پہلا دورہ ہوگا۔اپنے تین ملکی دورے کے آخری مرحلے میں وہ 23 سے 25 جولائی تک رومانیہ جائیں گی، جہاں وہ اپنے رومانیہ کے ہم منصب نکوشور دان کی دعوت پر دورہ کریں گی۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد کسی بھارتی صدر کا رومانیہ کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔وفاقی وزیر مملکت برائے امور صارفین، خوراک و عوامی تقسیم نموبین جینتی بھائی بمبھانیہ، راجیہ سبھا کے رکن دنیش شرما اور لوک سبھا کے رکن وجے باگھیل صدر کے سرکاری وفد میں شامل ہیں۔