جموں//بٹھنڈی میں رہائش پذیر روہنگیائی بستی میں گئے ہوئے کچھ صحافیوں اور آر ٹی آئی کارکن پر مبینہ طور پر کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا، صحافیوں کی شکایت پر پولیس نے دو نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ روہنگیائی مہاجرین کے پاس غیر قانونی طور پر حاصل کردہ سم کارڈ ہونے کی اطلاعات پر یہ افراد کریانی تالاب نروال گئے ہوئے تھے تو کچھ لوگوں نے ان پر حملہ کر دیا اور ان کے کیمرے چھین لئے تاہم موبائل فون پر اس ہاتھا پائی کی کلپنگ ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر وائر ل کر دی گئی۔ ٹی وی جرنلسٹ تیجندر سنگھ سوڈھی کا الزام ہے کہ پولیس اس معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔آر ٹی آئی کارکن روہت چودھری نے اس حملہ کو منظم قرار دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے روہنگیائی مہاجرین کی طرف سے غیر قانونی طور پر موبائل سم حاصل کرنے کا پردہ فاش کیا تھا جس کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے ۔ پولیس نے اس سلسلہ میں تریکوٹہ نگر تھانہ میں ایف آئی آر 77/18درج کر کے دو مقامی نوجوانوں محمد اشرف اور شیر محمد کو حراسست میں لیا ہے ۔ایس ایس پی جموں وویک گپتا نے نوجوانوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ صحافیوں پر حملہ روہنگیائی مہاجرین کی طرف سے نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’اس ہاتھا پائی کی وجوہات کا سر دست خلاصہ نہیں ہو ا ہے تاہم یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اس معاملہ میں روہنگیائی مہاجر ملوث نہیں ہیں‘۔دریں اثنا نائب وزیر اعلیٰ نرمل سنگھ، جموں پریس کلب اور دیگر کئی لیڈروںنے صحافیوں پر ہوئے مبینہ حملہ کی مذمت کی ہے ۔